پولیس آخر ہماری اپنی ہے‌ - مزمل فیروزی

کسی بھی شعبے سے وابستہ افراد سے ان کے شعبے سے متعلق پوچھا جائے تو کم و بیش ایک ہی قسم کا جواب سُننے کو ملتا ہے’’ ارے میاں یہ سب سے برا اور سراسر گھاٹے کا سودا ہے.‘‘ دور کیوں جائیں، سب سے پہلے ’شعبہ صحافت‘ کو ہی لے لیجئے، یہاں کوئی صحافی کسی دوسرے شخص کو کبھی صحافی بننے کا مشور ہ نہیں دیتا !! جبکہ اس کے برعکس مشہور زمانہ ’محکمہ پولیس‘ ہے جس میں ڈیوٹی ٹائمنگ بارہ گھنٹے سے زائد ہونے کے باوجود ایک پولیس اہلکار اپنے بچوں کو پولیس میں ہی بھرتی کروانے کو ترجیح دے گا۔\r\n\r\nپولیس کا نام آتے ہی ذہن میں دو خیالات ضرور گردش کرتے ہیں یعنی ’بےچاری پولیس‘ اور ’ کرپٹ پولیس‘۔ پولیس میں ایک وہ ہیں جو عید تہوار پر اپنی فیملی کو چھوڑ کر ہمارے سکون، آرام اور حفاظت کے لیے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں. یہ حضرات اس اہم دن میں بھی مساجد و امام بارگاہ کے باہر لوگوں کی حفاظت پر مامور کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ خوشی کے اس لمحہ میں ان سے گلے ملنا یا سلام کرنا تو کجا ہم ان کی طرف مسکرا کر دیکھنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔ پولیس کا سب سے براحال وی آئی پی موومنٹ پر مامور کیے جانے پر ہوتا ہے جہاں یہ بےچارے کئی کئی گھنٹے بغیر کچھ کھائے پیے تپتی دھوپ میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ڈیوٹی کے دوران سینکڑوں اہلکاروں کے دہشت گردی کی زد میں آ کر شہید ہوجانے کے باوجو بھی پولیس اہلکار اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہر قسم کے خطرات سامنا کرتے ہیں، ایسی مشکلات کے باوجود پولیس کے یہ جوان اپنا تبادلہ کسی دوسرے محکمے میں کروانے سے بھی گُریز کرتے ہیں۔ ایماندار اور ایسے پولیس اہلکار جو تھانوں میں آنے والی کمائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، ان کی ڈیوٹیاں مختلف بنیادوں اور سفارشات پر اہم سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات کے پروٹوکول پر تفویض کی جاتی ہیں، اس وقت تقریبا دس ہزار سے زائد پولیس اہلکار شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنے کے بجائے سینئر افسران، اراکین پارلیمنٹ، سیاستدانوں اور دیگر مذہبی و سماجی شخصیات کی حفاظت پر مامور ہیں۔\r\n\r\nپولیس کی دوسر ی قسم میں وہ اہلکار ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف کرپشن ہے۔ حال ہی میں نیب نے ایک سابق آئی جی سمیت 70 افسران و اہلکاروں کو ایک ارب چالیس کروڑ کی کرپشن کے الزام میں نامزد کیا تھا جبکہ دوسری طرف سندھ پولیس نے خود سپریم کورٹ کے روبرو 3400 سے زائد پولیس افسران و اہلکار وں کے جرائم میں ملوث ہونے کا اعترف کیا تھا، ان تمام اہلکاروں پر بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے، گینگ وار کی حمایت اور مجرمانہ سرگرمیوں کی سرپر ستی جیسے سنگین جرائم میں ملوث پائے جانے کے الزامات تھے مگر 2000 اہلکاروں کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی بنا پر ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی اور صرف 1400 اہلکاروں کو معمولی سزائیں ہوئیں۔ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 100سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں پر مشتمل ایک گروہ اغوا برائے تاوان میں ملوث ہے. یہ گروہ خوشحال اور امیر گھرانوں کے نوجوانوں کی کسی نہ کسی بہانے گرفتار کرکے بڑی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسے جرائم کی بڑی وجہ پولیس محکمے میں موجود وہ اعلی افسران ہیں جو نئے جوانوں کی بھرتی پر بھاری بھر کم رشوت وصول کرتے ہیں، اب ظاہر ہے بھاری پیسوں سے خریدی گئی نوکری یا مخصوص پوسٹ والے اہلکار کی دلچسپی امن و امان قائم کرنے کے بجائے رشوت میں دی گئی رقم کو بھر پور کرپشن کے ذریعے پوری کرنے میں لگی ہوتی ہے۔\r\n\r\nپاکستانی عوام جن مسائل سے سب سے زیادہ پریشان ہیں. ان میں سرفہرست بدعنوانی ہے اور عوام کی بہت بڑی اکثریت محکمہ پولیس کو سب سے زیادہ بدعنوان سمجھتی ہے. محکمہ پولیس دنیا کی 10 بدعنوان پولیس فورس میں آتا ہے اور اس بات کا ثبوت ابھی حال ہی میں 30 بڑے شہروں میں کیے جانے والے ایک سروے کے دوران ملا جس میں 65 فیصد افراد نے بدعنوانی میں پولیس کو مورد الزام ٹھہرایا جس کا بنیادی سبب پولیس کی کم تنخواہیں اور افسران بالا کی شاہ خرچیاں اور پرتعیش زندگیاں ہیں۔ بین الاقوامی پولیس قانون کے مطابق 450 شہریوں کے لیے ایک پولیس اہلکار درکار ہوتا ہے جبکہ دو کروڑ سے زائد آبادی کے شہر کراچی میں 26,647 پولیس اہلکار کی تعداد سامنے آئی ہے، ان میں بھیڈیوٹی کے لیے صرف 14,433 اہلکاردستیاب ہیں جن کو دو شفٹوں میں تعینات کیا جاتا ہے. مطلب ایک وقت میں دو کروڑ لوگوں کے لیے 7216 پولیس اہلکارڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں جو کہ اتنی بڑی آبادی والے شہر کے لیے ناکافی نہیں بلکہ بہت کم ہیں۔\r\n\r\nگزشتہ تین دہائیوں سے پولیس میں کرپشن کو کم سے کم سطح پر لانے کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے جا سکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت پولیس میں کرپشن اور لاقانونیت ایک خطرناک بیماری کی شکل میں سرائیت کر چکی ہے جس کا اس وقت علاج کیا جانا انتہائی ضروری ہے. ایک مثالی حکمرانی کے اہداف حاصل کر نے کے لیے پولیس کی کارکردگی کو بھی مثالی بنانے کی ضرورت ہے۔

Comments

مزمل احمد فیروزی

مزمل احمد فیروزی

مزمل احمد فیروزی بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی روزنامہ آزاد ریاست سے منسلک ہونے کے ساتھ شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.