مجرم اور شریک مجرم - عائشہ ملک

مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک بیان سنا کہ " دین تو کہتا ہے کہ ناچنے والی سے بھی نفرت نہ کرو - تو آخر کیا کرو؟ دین کی تعلیم یہ ہے کہ نفرت جرم سے اور گناہ سے کرو، انسان سے نہیں. سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں ایک مشہور واقعہ ہے "غامدیہ" کا، جب اسے زنا کے اقرار پر رجم کیا جانے لگا اور اس کے خون کے چھینٹے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے کپڑوں پر پڑے، تو ان صحابی کے منہ سے اس عورت کے لیے کچھ برے الفاظ نکل گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کہ اے فلاں! اسے ایسا نہ کہو، آج اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کو پورے مدینہ والوں پر تقسیم کر دیا جائے تو سب کو کافی ہو جائے۔ اگلے جہان کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن دین کی رُو سے ہمیں تعلیم یہی دی گئی ہے کہ "نفرت مجرم سے نہیں، جرم سے ہے"\n\nحقیقت یہ ہے کہ اپنے لیے تو ہر کوئی گنجائش نکالتا ہے، مگر دوسروں کو کوئی رعایت نہیں دیتا. بلاشبہ ہمیں اپنے رویوں کو درست، اور اپنے ضمیر کو جگانے اور اپنے ظرف کو ارفع و بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی حیثیت کو سمجھیں کہ ہمیں مسائل کا حل نکالنے والا بنایا گیا تھا اور ہم محض رائے دینے والے بن کر رہ گئے۔ دوسری بڑی بات سیکھنے کی یہ ہے کہ احادیث کی رو سے دین میں ہر مر جانے والے کے لیے دعائے خیر کرنےکی تعلیم دی گئی ہے۔ مرنے والے کے عیوب اور برائیوں کو بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔\n\nاسی ضمن میں ایک اور بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے، وہ ہے مجرم اور شریک جرم کا معاملہ. اگر قندیل نے ماڈلنگ کی یا جو کچھ بھی کیا تو اعلانیہ کیا۔ معاشرے میں چند لوگوں نے وہ نظام بنایا ہے جس نے اس عورت کو ترغیب دی کہ وہ ایسا کرے، پھر کچھ اور لوگ بھی موجود رہے اُس عورت کی قیمت لگانے والے اور کچھ مزید لوگ بھی رہے ہیں اس عورت کو قیمت ادا کرنے والے۔\nیہ سب کام چھپ کر نہیں ہوا اور نہ ہی چھپ کر ہوتا ہے جناب! یہاں دین مجرم اور شریکِ جرم سے برابر کا سلوک کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔
\nسزا کے وقت کہاں ہیں قیمت لگانے والے؟ \nکہاں ہیں ترغیب دینے والے؟\nکہاں ہیں فحش کاروبار کروانے کی خاطر اندھیرے راستوں پر لے جانے والے؟\nکہاں ہیں اس کو اس کی قیمت ادا کرنے والے؟\nان کی سزائیں کون بتائے گا معاشرے کو؟\nاور ان کو سزائیں دے گا کون ؟\nان سب فحش کام کرنے والوں کو سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟\nہے کسی میں اتنی طاقت؟ \nہے کوئی جو میڈیا کے نام پر چلنے والے کاروبار کا دین کے مطابق ضابطۂ اخلاق طے کرے؟ یا اب کوئی اینکر یہ طے کرے گا؟ ان میں سے جو بھی کہتا ہے کہ میری بیٹی ایسا کرے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، کیا ان لوگوں نے کبھی عوام کو ڈیل کیا ہے؟ کیا ان کو معلوم ہے کہ اس معاشرے میں لوگ بیٹیوں کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ لوگ عوام میں آکر ایسے بیانات دے سکتے ہیں؟ کیا ان کو واقعی علم نہیں جب یہ بیٹیوں کی یوں تحقیر کروانے کی تبلیغ کریں گے تو عوام ان کی حالت جانوروں سے بدتر نہیں کریں گے؟ سوال یہ ہے کہ یہ ضابطۂ اخلاق اب کون دے گا؟ جی ہاں ! مجھے معلوم ہے کہ فی الوقت کوئی نہیں دے گا۔ اور تب تک کوئی نہیں دے سکتا جب تک اس معاشرے میں دین کو یتیم کی طرح رکھا جا ئے گا۔\n\nکچھ عرصہ پہلے گزر ہوا اندرون لاہور سے. ایک رشتہ دار کی عیادت کے لیےجانا تھا، قریبی تعلق بھی تھا. لیکن گلیاں بہت تنگ تھیں اور بازار کھلے ہوئے تھے، گاڑی کو راستہ کوئی نہیں دے رہا تھا۔ لہٰذا گاڑی کوجیسے تیسے ایک کنارے چھوڑا اور رکشہ پکڑا. اس کو بتایا کہ "اُچی مَسِیت" کے سامنے لے چلو۔ رکشہ جب چلا تو کچھ نئے راستے اور نئی گلیوں سے گزرا، بھاٹی گیٹ کے اندر باجےگاجے ،گھنگرو، ڈھول، ستار اور طرح طرح کے باجے نظر آنے لگے۔ رکشے والے سے پوچھا کہ یہ کون سی نئی جگہ لے آئے ہو؟ رکشے والے نے پوچھا آپ لوگ پہلی بار آئے ہیں؟ ہم نے کہا کہ نہیں! ہم تو بچپن سے آرہے ہیں لیکن یہ گلیاں پہلی مرتبہ دیکھی ہیں۔ بولا "باجی! یہ ہیرا منڈی کہلاتی ہے، یہاں بڑا کاروبار ہوتا ہے ۔ آج شام صلّی کا مجرا ہے، بڑے پیسے لگاتا ہے، بڑے تعلقات ہیں اس کے۔ بہت بڑا کاروباری بندہ ہے، یہ راستہ چھوٹا ہے اور رش کم ہے اس لیے یہاں سے چلتے ہیں"۔ اُف! کانوں سے دھواں نکال دیا۔\n واپسی پر شام ہوچکی تھی ایک چوراہے سے گزرتے ہوئے کانوں نے گھنگرو کی آواز کچھ دور سے آتی سنی۔ مڑ کے دیکھا تو ایک رش تھا. موٹے موٹے آدمیوں اور بڑی بڑی عالی شان چمک دار گاڑیوں کا۔گارڈز بھی ساتھ تھے۔ ان گاڑیوں پر پنجاب سرکار کی سبز نمبر پلیٹس بھی سجی ہوئی تھیں۔ \nواہ! بےشرمی کی حد ختم اور قوم کے ٹیکس سے لی گئی گاڑیوں کا استعمال.\n کیا خوب امانت داروں نے امانت کا حق ادا کیا ۔\nجی ہاں! یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے.\nیاد آیا کہ سکول و کالج کے زمانے میں کچھ مخلص اور حسّاس لوگوں نے وطن کی محبت دل میں پیدا کی تھی۔ اُن میں ایک ہماری اردو کی استاد تھیں جو بہت اچھا اور دوستانہ ماحول میں پڑھایا کرتی تھیں۔ شاعری اور تشریح میں ایک دن پڑھانے لگیں کہ شاعر کہتا ہے کہ "اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے" استاد کا اپنا علم اور تجربہ تھا ،ہمارا اپنا محدود سا۔ طالب علم سن کر حیران کہ یہ استاد نے کیا کہہ دیا؟ آگ کا دریا اور ڈوب کے جانا ہے؟ مِس ! ہم آگ سے ڈوب کر کیسے جائیں گے؟ لگتا ہے آپ نے غلط کہہ دیا۔ ہمیں لگتا ہے کہ یوں ہوگا "اِک آگ کا دریا ہے اور کُود کے جانا ہے"۔ اور ہم تو کود کے ہی جا سکتے ہیں، بھلا آگ میں سے ڈوب کر کون جاسکتا ہے؟ لیکن استادِ محتر م کا اصرار تھا کہ نہیں شاعر نے ٹھیک یہی کہا ہے کہ " اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے"۔\nاس دن "ہیرا منڈی " سے گزرے تو پتہ چلا کہ واقعی استادِ محترم ہی درست تھیں، اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے۔ یہاں تو واقعی "اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے"۔ لیکن کب تک جانا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ بات معاشرہ اور حاکم خود طے کریں گے۔ اور وقت بہت ظالم بھی ہے، خود طے کروا دے گا کہ کب تک یہ تماشا مزید چلنے والا ہے؟\n\nلیکن اے کاش! کہ قندیلوں کو بجھانے کے بجائے اصل ذمہ داروں اور ان اداروں کو بجھایا جائے جو میڈیا انڈسٹری کے نام پر اپنا کاروبار پھیلاتے ہیں. ان کو کٹہرے میں لایا جائے۔ تب بات بنے گی۔ قندیلیں تو معمولی سے پُرزے ہیں اس کاروبار کے۔ وہی بات ہوئی کہ چھوٹی مچھلی کو ہر کوئی پکڑتا ہے اور بڑی مچھلیوں کو کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا ۔ کب تک؟ آخر کب تک؟