ایجبسٹن ٹیسٹ جیت سکتے ہیں، اگر؟ محسن حدید

تیسرا ٹیسٹ آن پہنچا. پاکستان کی ٹیم نے پہلے ٹیسٹ کے بعد جتنا بھی اعتماد حاصل کیا تھا وہ اولڈ ٹریفورڈ میں کھو چکی، اب انگلینڈ پورے رعب سے میدان میں اترے گی. یاد رہے کہ یہ وہی گراونڈ ہے جہاں گزشتہ دورہ انگلینڈ میں پاکستان کی ٹیم صرف 72 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی تھی. اس گراونڈ پر پاکستان کبھی بھی ٹیسٹ میچ جیت نہیں سکا. یہاں ٹوٹل 7 میچز کھیلے ہیں جن میں سے 4 میں شکست ہوئی اور 3 ڈرا ہوئے. مشہور زمانہ وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر کا ڈیبیو (واحد ٹیسٹ بھی) یہیں ہوا تھا، جس میں انھوں نے ایک انوکھا ریکارڈ بنایا تھا (پہلی اننگز میں صفر اور دوسری اننگز میں ٹیم کا ٹاپ سکور88).\n\nEngland v Pakistan کیا پاکستان کے پاس کچھ بھی پازیٹو نہیں ہے تو اس کا جواب ہے کہ پاکستان کے پاس بھی چند مثبت چیزیں ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے مثلا گزشتہ ٹیسٹ میں انگلش ٹیم کی اچھی کارکردگی کا زیادہ حصہ روٹ اور کک کے کھیل پر مشتمل تھا، ہیلز ابھی تک ٹیسٹ معیار کے بلے باز ثابت نہیں ہو سکے جبکہ گیری بیلنس ایک سال کے بعد آئے ہیں اور ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کے چکر میں ہیں، جیمز ونس بھی کیرئیر کی شروعات میں ہیں اور ابھی تک کچھ خاص نہیں کرپائے. (انگلینڈ کا سسٹم اچھا ہے جو کسی نئے لڑکے کو مسلسل موقع دیتا ہے ورنہ کسی اور ملک میں ہوتے تو ونس اب تک ٹیم سے نکالے جا چکے ہوتے) پاکستان کے کوچ نے بھی انگلش ٹیم کے ٹاپ آرڈر کی انھی کمزوریوں پر بات کی ہے. سب سے بڑی بات کہ انگلینڈ کے اہم کھلاڑی بین سٹوکس انجری کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوچکے ہیں. پچھلے کئی دن سے بات چل رہی تھی کہ انگلینڈ ان کی جگہ ٹیم میں عادل رشید، جیک بال یا سٹیون فن میں سے کسی کو شامل کرے گا. زیادہ تر چانس یہی تھا کہ انگلینڈ اپنی سٹرینتھ پر کھیلےگا اور ایک سیمنگ پچ بنائے گا جس کی وجہ سے سٹیون فن کے ٹیم میں شمولیت کا چانس بن جائے گا. وہی ہوا اور انگلینڈ نے فن کو عادل رشید پر ترجیح دی. کرس ووکس اب تک انگلینڈ کے سب سے کامیاب بائولر ہیں اور یہ ان کا ہوم گرائونڈ بھی ہے، یہاں وہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے جارہے ہیں.\n\nیاسرشاہ ایجبسٹن کی پچ عام طور پر خشک ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ سپنر کے لیے سازگار ہو جاتی ہے، اس لیے سیمنگ پچ کے باوجود بھی یاسرشاہ اس میں اپنے لیے کچھ مدد کے منتظر ضرور ہوں گے. یاسر شاہ کا اپنی سپیڈ اور لائن لینگتھ میں تبدیلی کرنا بہت ضروری ہے ورنہ یہ ٹیسٹ بھی ان کے لیے امتحان سے کم نہں ہوگا کیونکہ انگلینڈ اس میچ میں بھی شاید سپورٹنگ پچ بنائے اور ایسی پچ پر ٹاس بہت اہم ہوجاتا ہے. یاسرشاہ کو وکٹ ٹیکنگ آپشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے مگر اس چکر میں انھیں جلد بازی بالکل نہیں کرنی چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ پچ کا مزاج کیا ہے. ایک اور بات کہ یاسر کے بارے میں کبھی شک گزرتا ہے کہ وہ بہت سکرپٹڈ بائولر ہیں اور میچ کی صورتحال کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے نہیں. یہ خیال بھی انہیں غلط ثابت کرنا ہوگا.\n\nمحمد عامر کو اب کچھ کر دکھانا ہوگا، دو میچز ہوگئے، اب یقینی طور پر مشکل وقت گزر چکا، ہوٹنگ اور نعروں کا پریشر بھی وہ جھیل چکے. اب انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ٹیسٹ کے بہترین بائولر ہیں اور ان کا جو انتظار شائقین نے 6 سال کیا، وہ واقعی اسی لیول پر ہیں. Pakistan v England وہاب ریاض کو کاش کوئی بتا دے کہ اگر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو ہی گئی ہے تو وہ کچھ محنت ہی کرلیں، سپیڈ سے کیا ہوتا ہے، گرائونڈ میں کوئی تیز ترین گیند پھینکنے کا مقابلہ نہیں چل رہا ہوتا بلکہ بات تو وکٹ لینے پر ختم ہوتی ہے جس میں وہ بری طرح ناکام ہو رہے ہیں. اور یہ کوئی زمبابوے یا بنگلہ دیش کے سب سٹینڈرڈ بلے باز نہیں جو آپ کی طوفانی بائولنگ سے ڈر کر بیک فٹ پر چلے جائیں گے اور آپ کو وکٹ دے دیں گے. یہ آپ کی 150 کی رفتار سے آنے والی گیند کو 350 کی رفتار سے باہر پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. بظاہر تو وہاب کے کھیلنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ ان کی جگہ عمران خان کو کھلانا چاہیے، ایک تو ٹیم کو رائٹ ہینڈ فاسٹ بولنگ آپشن ملے گا اور فاسٹ بائولنگ میں کچھ ورائٹی آجائے گی، دوسرا یاسر شاہ کو رف پیچز مل جائیں گے جس سے وہ بائیں بازو کے انگلش بلے بازوں کے لیے مصیبت کھڑی کرسکتے ہیں. اس کے علاوہ اگر پچ سپورٹنگ بھی ہوئی تو ٹاس ہارنے کی صورت میں شروع کے دو گھنٹے ملنے والی سوئنگ سے عمران اچھا فائدہ اٹھا سکتے ہیں. راحت ٹھیک ہیں مگر انھیں خراب گیندوں کا تناسب بہت کم کرنا ہوگا اس کی وجہ سے وہ بیٹسمین کا سارا پریشر ختم کر دیتے ہیں اور بہترین سوئنگ کے باوجود بھی وکٹ نہیں لے سکتے.\n\nمحمد حفیظ سے صرف اتنا کہنا ہے کہ جناب آپ سپیشلسٹ اوپنر بیٹسمین ہیں، یہ نائٹ واچ مین والی باریاں نہ کھیلیں اور ذمہ داری لیں، آپ پر ایک بڑی اننگز ادھار ہے، اگر وہ اس میچ میں کھیل دیں تو کمال ہوجائے گا. بہت زیادہ چانس ہے کہ سمیع اسلم کھیلیں گے تو سمیع اسلم کے لیے دعا ہے کہ اپنا بہترین کھیل پیش کردے تاکہ ایک مدت سے جو اوپنر کا قحط ہے ختم ہوسکے، ان کے ٹیلنٹ میں کوئی شک نہیں بس پریشر کا ڈر ہے کہ جھیل پائیں گے یا نہیں. ( پریکٹس میچ میں شان مسعود کی اچھی اننگز کہیں کپتان اور کوچ کا ذہن خراب نا کردے). یونس خان آپ بہت بڑے پلئیر ہیں، اپنی پرانی تکنیک سے ہی کھیلیں، اتنے ہزار رنز اسی سے بنائے ہیں، مزید بھی بنیں گے. 575429160اظہر علی بھول جائیں کہ ون ڈے اور ٹی 20 میں آپ کی کیا پوزیشن ہے، آپ مستقبل کے ٹیسٹ کپتان ہیں، اس لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں. ٹاپ آرڈر کی بہتری آپ کی اچھی کارکردگی سے مشروط ہے اور اگر سٹرائیک روٹیشن بہتر ہوجائے تو پریشر خودبخود ختم ہوجائےگا. سرفراز اور اسد شفیق پلیز اپنی وکٹ کی قدر جانیں 30-40 یا 60-70 کی اننگز سے آگے کا سوچیں اور خراب شاٹ کھیلنے کی عادت سے جان چھڑائیں. ٹیسٹ کرکٹ میں سیٹ ہو کر آووٹ ہوجانا بہت بڑا جرم ہے. مصباح جی آپ کمال ہیں، بس تھوڑی سی ایگریشن اور ہلہ بول کرکٹ دکھائیں، اب آپ کے پاس مکمل اختیار ہے، ان کھلاڑیوں کی بھی کھنچائی کریں. آپ نے پاکستان کرکٹ کا مثبت امیج بحال کیا بلکہ اس میں مزید شاندار روایات شامل کیں مگر اب اپنے آخری سال میں بطورکپتان جارحانہ کھیل دکھائیں تاکہ یہ کمی بھی پوری ہوجائے. دوسرا جب آپ بیٹنگ کررہے ہوں تو نان سٹرائیکر اینڈ پر کھڑے ہوکر صرف دیکھا نہ کریں بلکہ غلط شاٹ کھیلنے پر اسی وقت دوسرے بلے باز کو ٹوکا بھی کریں. بدقسمتی سے اولڈ ٹریفورڈ کی پہلی اننگز میں اسد شفیق اور سرفراز کو آپ نے نہیں سمجھایا جبکہ وہ مسلسل غلط شاٹس کھیل رہے تھے. فیلڈنگ میں بھی چیزوں کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار نہ کیا کریں بلکہ ٹرائی کیا کریں اور فیلڈ سیٹنگ یا بائولنگ چینجز سے صورت حال بدلنے کی کوشش کیا کریں. ہم ایجبسٹن میں پہلی دفعہ جیت سکتے ہیں، بس توجہ اور جارحانہ کھیل کی ضرورت ہے صورت حال کچھ بھی ہو ہمیں مثبت کھیلنا ہوگا ورنہ غیرضروری پریشر لینے کی عادت ہمیں ہزیمت سے دوچار کردے گی.