گلگت سے کالا پانی تک - امیرجان حقانی

آغازِسفر\nدرلئی جھیل کا ایک حسین منظر یہ میری ایک افیشل میٹنگ تھی۔ احباب کے ساتھ محفوِگفتگو تھا کہ سیل فون بجنے لگا۔ کال ریسو کی تو ایک کڑک دار آواز میں یہ مژدہ سنایا گیا کہ آج تین بجے استور کا سفر ہے۔ احباب سفر میں آپ بھی شامل ہیں۔ تین دن کا سفر ہے، کالا پانی تک جانا ہے۔ مسجد کا افتتاح ہے، آپ اپنا سیاحتی ذوق بھی پورا کیجیے اور اس کارِخیر میں حصہ بھی لیجیے۔ کالا پانی کا نام سن کر میں شش و پنج میں مبتلا ہوا کہ کیا پاکستان میں بھی کالا پانی ہے۔ اپنے گھر فوری اطلاع کی کہ اسباب سفر تیار رکھے جائیں۔ استور راما کا ایک سفر پہلے بھی ہوچکا تھا تاہم اب کی بار سفر کافی لمبا تھا اس لیے لازمی سفری اسباب تیار کرکے چار بجے گلگت سے استور روانہ ہوئے۔ یقینا سفر مشقت کا باعث ہوتا ہے اس لیے میں سفری دعائیں ضرور پڑھتا ہوں۔ ہر مسافر اور سیاح کو ارادہ سفر کے وقت یہ دعا ضرور پڑھنی چاہیے۔ یہ دعا ترمذی شریف میں ہے۔’’زودک اللہ التقویٰ و غفر ذنبک ویسرلک الخیر حیثُ ماکنتَ‘‘۔ اور سفر سے پہلے دو رکعت نمازسفر بھی پڑھنی چاہیے۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت و مروی ہے، اور بھی بہت ساری دعائیں ہیں جن کا سفر میں اہتمام کیا جاتا ہے۔\n\nضلع استور کا طائرانہ جائزہ\nDomail-Rainbow-Lake-Astore-Valley استور گلگت بلتستان کا ایک نیا ضلع ہے۔ یعنی 2004ء میں ضلع دیامر سے الگ کرکے ضلع بنادیا گیا ہے۔ استور میں سینکڑوں وادیاں اور نالے ہیں، بہتے آبشار ہیں۔ جن میں مشہور وادیاں پریشنگ، گوری کوٹ، گدئی، میرملک، روپل اور کالا پانی شامل ہیں۔ اور کئی ایک درے بھی ہیں جن میں برزل، شونٹر، چھچھورکھنڈ اور چاچوک عالم وغیرہ سیاحوں کے لیے دلچسپی کے باعث ہیں۔۔ استور ضلع کا نام ہے اور ’’استور‘‘ ضلع کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ ہمارے مضیف جناب وزیر اقبال بتا رہے تھے کہ ہیڈکوارٹر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ کوریکوٹ اور استورعیدگاہ۔ ہیڈکوارٹر استور سطح سمندر سے 2400میٹر بلند ہے۔ Hjy5f استورکا رقبہ(مربع کلومیٹر )8657 ہے۔گلگت اسمبلی میں ضلع استور کی دو نشستیں ہیں۔ رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے یہ دو نشستیں ناکافی ہیں۔ کم از کم تین تو ہونی چاہیے۔ کسی زمانے میں استور چین ، افغانستان اور کشمیر و ہندوستان کے لیے ایک اہم سرائے کی حیثیت رکھتا تھا۔اور استور میں گھومنے پھرنے سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔استور بونجی سے گریز تک پھیلا ہوا ایک وسیع علاقہ ہے۔تھلیچی کے کے ایچ سے استور روڈ شروع ہوتا ہے۔دریا سندھ کراس کرنے کے لیے ایک آرسی سی بریج بنائی گئی ہے۔ر ام گھاٹ پل بونجی کے ساتھ معلق ہے۔ وہاں سے باقاعدہ استور کی وادیوںکا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ 07 ہزاروں آبشاروں، ندی نالوں اور گلیشئرزسے بہتا پانی دریائے استور کی شکل میں پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہہ رہا ہے اور دریائے سندھ میں جاگرتا ہے۔رام گھاٹ پل کراس کرتے ہی رائٹ سائٹ پر پہاڑوں اور گھاٹیوں کے ساتھ لپٹی سڑک ایک سیاہ لکیر جیسی نظرا ٓ رہی ہے۔ روڈ کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ٹریفک چلتی رہتی ہے۔گاڑیوں سے بھی ان گھاٹیوں کا نظارہ قابل دید ہے۔کہیں پہاڑ سے آتا پانی آبشاروں کی صورت میں سڑک کے آس پاس گرتا ہے اور ان آبشاروں کی پھوہاریں گاڑیوں اور مسافروں پرپڑتی ہیں تو عجیب سی کیفیت ہوجاتی ہے۔ زندگی میں ایک نئی لہر سی دوڑ تی ہے اور سفر کی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں۔ان آبادیوں میں مکانات، ایک ادھ دوکان اور پھلدار درختوں کے جھنڈ، جن پر سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے شگوفے ، آلو کے کھیت اور مکئی و گندم کے سبزے انتہائی جاذبِ نظر لگتے ہیں۔\n\nسیاحتی و دفاعی حوالے سے استور کی اہمیت\nتقریباً رات دس بجے ہم گوریکوٹ میں وزیراقبال کے دولت سرے میں پہنچ گئے۔ ہمارے کالا پانی تک کے مضیف وزیر اقبال ہیں۔ یہاں استور کے سابق ممبر اسمبلی قاری عبدالحکیم صاحب، برادرم انجینئر نقشبر صاحب داریلی اور دیگر احباب شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ مہمانوں کو ایک خوبصورت مزین و مرصع گھر میں بٹھادیا گیا۔ فرشی نشست ہے۔کھانے کا دور چلا، کئی قسم کے دیسی و بِدیسی کھانے پیش کیے گئے۔ جی بھر کر کھایا۔ قہوہ کا اپنا مزہ تھا،علاقائی حالات زیر بحث آئیے۔وزیر اقبال کے پاس گلگت بلتستان اور استور کے حوالے سے کثیر معلومات ہیں۔وہ انتہائی جذباتی ہوکر اپنے مہمانوں سے پوشیدہ جذبات شیئر کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ استور سیاحتی اور دفاعی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ استور کا روڈ وسیع اور کشادہ ہونے کے ساتھ ہر وقت کلیر ہوناچاہیے۔ 12654238203_6e1f95e772_o میں سوچ رہا تھا کہ دفاعی حوالے سے بلتستان سے زیادہ اہم اور سیاحتی حوالے سے ناران کاغان اور ہنزہ وغذر سے زیادہ دلچسپ اور جاذب النظر استور کو یوں نظر انداز کرنا کسی طور نیک شگون نہیں۔ حکومت کے ساتھ استور کی عوام اور ممبران بھی برابر کے قصوروار ہیں کیونکہ یہ لوگ اجتماعی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے استور کے تمام ادارے زبوں حالی کا شکار ہے۔ مجھے استوریوں کی یہ عادت ایک سیکنڈ نہیں بھاتی۔ اگر یہ لوگ بھی بلتیوں کی طرح ایک قوم ہوکر سوچتے تو آج استور دنیا کے چند اہم سیاحتی مقامات کا روپ دھارتا۔\n\nوزیر اقبال کا افسانوی گھر اور دھڑم خیل قبیلہ\nوزیراقبال استور گوریکوٹ کے ہیں مگر ان کے پاس موجودہ نیشنلٹی سوئٹزر لینڈ کی ہے۔ انہوں نے شادی بھی سوئٹزر لینڈ سے کی ہے ۔ان کے دو بچے اور ایک بچی ہے۔ سوئس بینک کے ملازم ہیں۔ انتہائی ملنسار انسان ہے۔ان کی خصلتیں سوئس ہیں۔ مغرب کے کسی ملک میں عشرت کی زندگی گزارنے والے پہلے پاکستانی دیکھا جو پاکستان اور گلگت بلتستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ان کاگھر، صحن، مویشی خانہ، چھوٹا سا چڑیا گھر اور دیگر مصروفیات دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ ان کے باغیچے میں ہری ہری باریک کونپلیں اور رنگ برنگ پھول، سبزیاں اور نایاب درخت اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ صاحب باذوق ہیں۔میٹھے سیب پک کرتیار ہیں۔ ہم نے جی بھر کر کھائے۔ وزیر اقبال کو ہر قسم کے نایاب جنگلی و پالتو جانور پالنے کا بے حد شوق ہے۔کئی قسم کے جانوراور پرندے ان کے گھر کا زینت بنے ہوئے ہیں۔ان کے لیے انتظامات بھی کمال کے کیے گئے ہیں۔وزیراقبال دھڑم خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ استور میں ہمیشہ حکومت اور نمبرداری دھڑم خیلوں کے پاس رہی ہے۔برٹش انڈیا کے دور میں دھڑم خیل قبیلے کو استور کی وزرات سونپی گئی تھے۔ وزیرروزی خان ہری سنگھ اور غلاب سنگھ کے استور میں وزیر تھے۔ یہ دونوں کشمیر کے مہاراجے تھے۔ آزادی کے بعد بھی استور کے اکثر ممبران گلگت اسمبلی بھی دھڑم خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستاان کی پہلی گورنر محترمہ شمع خالد مرحومہ بھی دھڑم خیل تھی۔ دھڑم خیلوں کا تعلق افغان قبیلوں سے بہت قریبی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ پٹھان قبیلوں کی ایک شاخ ہے۔\n\nگوریکوٹ اور مضافات کا دوبینی نظارہ\nوزیر اقبال کی بالاکونی سے استور گریکوٹ اور دیگر مضافاتی وادیوں کا منظر انتہائی صاف اور خوبصورت دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے ان کی جرمن میڈ دوربین (German made Telescope) سے پورے علاقے کی سیر کی۔ 06 دور دور تک کا نظارہ کیا۔ کہیں بہتے پانی نظر آتے، کہیں برف کے بڑے بڑے تودے دکھائی دیتے۔ فلک بوس چوٹیاں اور ان چوٹیوں کو ڈھانپتی برف ، برفافی تودوں کی کشش، گلیشئرز کا رعب کسی رومینٹک (Romantic ) منظر سے کم نہیں۔ پھر تا حد نگاہ پہاڑوں، وادیوں اور چٹانوں پر اُگ آنے والے پھول ،نیلے نیلے، اودے اودے ، پیلے پیلے بیل بوٹے گویا مکمل بہار کا سماں پیش کررہے ہیں۔ Snowfall2 دوربین سے تمام وادیوں اور گھاٹیوں کانظارہ کیا۔پہاڑی ٹیلوں اور سبزوں پر مارخور، برفانی چیتے ،برفانی لومڑی اور گیڈر وغیرہ چلتے دکھائی دے رہے تھے۔مجھے ایسا لگا کہ برفیلے پہاڑوں اور کھائیوں میں یہ جنگلی جانور بسیرا جمائے ہوئے سیاحوں کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں اور اس بات کی گواہی بھی کہ اللہ رب العزت اتنے سخت موسم اور حالات میں بھی اپنی مخلوقات کو زندہ وسلامت رکھتا ہے ۔فبای آلاء ربکما تکذبان۔\n\nاستور میں آرمی کی تعدی اور عوامی تویش\nمجھے کدو کاوش اور جستجو کی فکر ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے۔ اس لیے موقع پاتے ہی وزیر اقبال کو کریدنا شروع کیا۔ وہ پہلے پاکستانی پھر استوری ہیں مگر کچھ اداروں کی ستم کاریوں پر سخت نالاں بھی ہیں۔ سویلین حکومت کی بے توجہی پر کڑھتے ہیں۔ وہ استور کو سوئٹزر لینڈ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ان کے پاس پلان بھی ہے مگر رفیقان کار نہیں۔ انہیں سخت قلق ہے کہ چلم میں بارڈر بنا کر بند کردیا گیا ہے۔ چیک پوسٹ سے آگے سویلین کو جانے کی اجازت نہیں،Hjy5f چیک پوسٹ سے آگے ہٹس (Huts) بنائے گئے ہیں جہاں آرمی آفیسرز اپنی فیملی سمیت سیر کو جاتے ہیں۔ چلم میں چیک پوسٹ لگاکر عوام کو تنگ کرنا تُک ہی نہیں بنتا۔ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ یہ باتیں سفر کی شیرینیوں میں کھٹاس پیدا کررہی ہیں۔خیر ہم نے تو آگے جانا تھا اور قدرت کی نیرنگیوں سے لطف اندوز ہونا تھا۔ سو چل دیے۔\nراستے کی ایسی مفرح ساعتیں\n\nدس بجے گوریکوٹ سے کالا پانی کے لیے روانہ ہوئے۔گوریکوٹ سے قافلہ بڑھتا گیا۔مجھے برادرم نقشبرکے ساتھ شریک سفر ہونا پڑا۔ مفتی ایوب(چیئرمین زکواۃ و عشرضلع استور) بھی ہمارے رفیق سفر ہوئے۔ قاضی صاحب ، قاری عبدالحکیم اور مولانا منیر ایک ساتھ بیٹھ گئے جبکہ وزیر اقبال اپنے لاؤولشکر سمیت اپنی ٹیوٹا میں پابہ رکاب ہوئے اور مفتی شفیع اپنی فیملی کے ساتھ محوخرام تھے۔گاڑیوں کا قافلہ چل پڑا۔kala pani m yak ki pic راستہ کالا پانی کا ہو، گاڑی لینڈکروزر ہو اور رفیقانِ سفرمیں انجینئر نقشبر جیسے باذوق ، ملنسار، آزاد طبع، علاقائی روایات، ثقافت، تاریخ اور ویلی ویلی سے آگاہ اور فرد فردسے واقف انسان ہو اور اس پر مستزاد مفتی ایوب جیسا معتدل مزاج شخص کی معیت ہو، ڈولتی گاڑی میں حمدیہ کلام، نعت، ملی نغمے اور دیسی ترانے مسلسل چل رہے ہوں توسوز و گداز کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور’’ سوختہ دل‘‘ فریفتگی وآشفتہ سری کی وادی سے نکل کر مسرت و آسودگی اور لذت وفرحت کے باغِ رضوان میں چہل قدمی کررہا ہوتا ہے۔ before-astore ایسی مفرح ساعتیں کبھی کبھی نصیب ہوا کرتیں ہیں۔’’ریختہ دل ‘‘ آشفتہ نوائی سے باز آجاتا ہے۔۔ ایسے لمحات میں اگر مِسمریزم (Mesmerism)کا کوئی ماہر ساتھ ہو تو درونِ خانہ دل کے تمام پوشیدہ رازوں کو معلوم کرکے خوب محظوظ ہوسکتا ہے۔ پھر قافلے میں قاضی نثاراحمد جیسا متقی اور بے باک لیڈر، قاری عبدالحکیم جیسا مدبر، مولانا منیر جیساخوش مزاج،مفتی شفیع جیسا’’ ماہرِ ازدواج وازواج‘‘ اور برادرم وزیر اقبال جیسا مہمان نواز اور مہذب انسان ہوں تودل کے نہاں خانوں میں سَرو ش غیب سے پیغام آتا ہے کہ تم سُورگ سے نکل کربہشت میں گھوم رہے ہو۔تو پھر مجھے یاد آتا ہے کہ ’’ اے کمبخت انسان ! تو اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگئے‘‘۔\n\nتحصیل شونٹر کے مناظر اور سڑک کے کُلی\nاستور کی دو تحصیلیں ہیں۔ ایک تحصیل استور اور دوسری تحصیل کا نام شونٹر ہے۔ شونٹر پل کراس کرتے ہیں دو راستے ہیں ایک شونٹر سے ہوتے ہوئے بائیں جانب چلم اور دوسائی سے ہوتے ہوئے اسکردو جا نکلتا ہے جبکہ دوسرا روڈ رٹو کی طرف جاتا ہے۔ ہمارا سفر بھی رٹو روڈ سے ہوتے ہوئے کالاپانی تک تھا۔ شونٹر سے متصل ایک گاؤں ’’بولشربر‘‘ نامی ہے۔ ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پورے استور میں اس گاؤں میں بہنے والے نالے کا پانی شفاف ہے۔ ٹراؤٹ مچھلیاں ہیں۔ 06 میں نے خود مشاہد ہ کیا تو نالے کا پانی بہت شفاف اور دودھ جیسی رنگت کا ہے۔ بہتے نالے کے ساتھ فشریز کی فارم بھی دکھائی دے رہی تھی۔اس کے بعد پریجوٹ نام کا ایک خوبصورت گاؤں نظرنواز ہوتا ہے۔ رٹو جاتے ہوئے راستے میں چورت کا نالہ آتا ہے۔ چورت نانگا پربت کے دامن میں واقع ہے۔ چورت نالے سے بہنے والا پانی بہت ہی گدلا ہے۔ جبکہ رٹو سے آنے والا پانی بہت شفاف ہے۔ دونوں کا ملاپ بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔جیسے حور کے ساتھ لنگور کے امتزاج سے جو کیفیت رونما ہوتی ہے۔رٹو جاتے ہوئے رام پور گاؤں آتا ہے جس کو لنک روڈ جاتا ہے ۔ اور شوگام گاؤں تو اپنی رعنائی اور خوبصورت سے دل بھا لینے کے لیے تیار کھڑا ہے۔اور ہماری گاڑیاں سرپٹ دوڑ رہی ہیں جبکہ پیاربھرے مناظر باصرہ نواز ہورہے ہیں۔شوگام گاؤں میں برلب روڈ اسکول کے طلبہ والی بال کھیلنے میں مصروف ہیں جبکہ دائیں بائیں مکئی اور آلو کی فصلیں پک کر کسانوں کو کاٹنے کی دعوت عام دے رہی ہیں۔ PlaceShaunterLakeLocationShaunte-1 شوگام کافی بڑا گاؤں ہے ، دو حصوں پر مشتمل ہے شوگام بالا اور شوگام پائین۔ کیا دیکھتا ہوں کہ انجینئر نقشبر گاڑی روک کر کسی کو سختی سے کہہ رہے ہیں کہ واٹرٹینک چلاکر لوگوں کو پانی دے دو ورنہ کل سے آپ کی ڈیوٹی روڈ کلی کی لگادونگا۔اور دوسری جانب سے ’’جی سر ‘‘کی آواز گونجتی ہے۔ میرے استفسار پر بتایا کہ شونٹر سے لے کر کالا پانی کے آخر تک روڈ کی مینٹیننس(Maintenance ) اور واٹر سپلائی کی ذمہ داری میری ہے۔ اور پھر پورے سفر میں روڈ کلیوں کو کھڑے کھڑے جھڑکتے رہے مگر ان کی جھڑکیوں کا کوئی برا ہی نہیں مناتا۔ وہ ہر بستی میں گاڑی روکتے ۔ لوگ ان سے ملتے ۔ اور اگلے دنوں کے ہدایات لے کر چل نکلتے۔عجب آفیسر ہیں۔ ہر مستقل اور ڈیلی ویجیز پر کام کرنے والے کُلی کے نام اور گاؤں سے واقف ہیں اور کام چوروں کی بری خصلتوں سے بھی آگاہ ہیں۔ محنت کشوں کو شاباش دیتے ہیں جبکہ نوسربازوں کو ڈپٹتے ہیں اور سخت سرزنش کرتے ہیں۔ شوگام کے ساتھ ناصر آباد ہے جس کا بالائی منظر بہت ہی پیارا ہے۔ سنا ہے کہ یہ علاقہ بدعات اور خرافات آماجگاہ ہے۔\n\nرٹو آرمی پبلک اور سنوں اسکول اور کیڈیٹ کالج ڈرنگ\nمیرے سامنے استور کا مشہور گاؤں رٹو ہے۔ رٹو سے دائیں جانب میر ملک وادی کی طرف سڑک جاتی ہے جبکہ بائیں جانب کالا پانی کا راستہ ہے۔میرملک اور کالا پانی کے نالوں کے پانی کے ملاپ سے ایک چھوٹاسا دریا بن جاتا ہے۔ یہ دو دریائی نالوں کے پانی کاایک حسین سنگم ہے جومعشوقانہ ادا پیش کررہا ہے۔ 556373267_2b182435b8 رٹو میں آرمی پبلک سکول ہے اور فوجی آفیسروں کے لیے ٹریننگ کا ایک اسکول بھی ہے۔استور ی لوگ اسے آرمی سنوں اسکول سے یاد کرتے ہیں۔ آرمی جس جگہ میں بسیرا کرتی ہے وہاں بہت ساری سکیمیں لے آتی ہے جس سے لازمی طور پر مقامی لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں۔ کئی ادارے بنتے ہیں اور روڈ پانی اور بجلی کے مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل ہوتے ہیں اور پورا ایریا کمرشل بن جاتا ہے۔آرمی کی موجودگی پراگر مثبت نتائج پر نظر رکھی جائے تو اہلیان رٹو کو شاداں ہونا چاہیے۔ بیشک کچھ سائڈ ایفیکٹس ضرور ہیں فوائد بہر صورت کثیر ہوتے ہیں۔ دیامر کی مثال لیجیے ! دیامر میں کیڈٹ کالج 2012ء میں مکمل ہونی تھا تاہم چلاس کے چند وڈیروں کی انا پرستی کی وجہ سے نہ بن سکا۔ چلاس سٹی میں کالج کے لیے زمین نہ ملی، حکومت نے تھک داس میں بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے مگر اہلیان تھک و نیاٹ نے مکمل عاقبت نااندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے کالج بننے نہیں دیا ۔ افتتاحی اسٹیج گردایا ۔ اسی دوران مجسٹریٹ تنویر احمد کی کاؤشوں سے گوہرآباد کے علماء و عمائدین نے کیڈٹ کالج کی تعمیر کے لیے ڈرنگ داس میں ہزار کنال زمین فری آف کاسٹ دینے کی آفر کی۔ تب ڈرنگ داس میں کالج بنانے کا م شروع ہو۔ اس کے فوائد اور معاشی، تعلیمی و سماجی اثرات و فوائد پر الگ تحریر کی ضرورت ہے تاہم میں گوہرآباد کے علماء وعمائدین سے اتنا ضرور کہوں گا کہ جس جگہ میں کیڈیٹ کالج کو ہزار کنال فری زمین دی ہے وہاں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے دیامر کیمپس کے لیے بھی فوری زمین دینے کی آفر کریں، اور ایک مناسب جگہ دینی دارالعلوم بنانے کے لیے بھی وقف کرلیں اور ساتھ ہی افواج پاکستان کی ڈیمانڈ کے مطابق تین چار سو کنال انہیں بھی عطا کیجیے۔ افواج پاکستان سے طے کرلیں کہ وہ اس ایریا کو وی آئی پی کینٹ ایریا بنائیں گے۔ ہر حال میں آرمی پبلک اسکول اور سی ایم ایچ ہسپتال بنوائیں گے اور سول نوکریوں میں گوہرآباد کا مخصوص کوٹہ ہو۔ آرمی موجود ہوگی تو امن کا ہونا یقینی ہے۔ ان کی موجودگی میں کوئی ماحول خراب نہیں کرسکتا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایریاگلگت جوٹیال سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ اور اہلیان دیامر و گوہرآباد کی معاشی صورت حال یکسر بدل سکتی ہے۔\n\nگھاس کٹائی، عورت اور گدھا اور این جی اوز\nرٹو میں لوگ گھاس سنبھالنے میں مصروف ہیں۔ ٹریکٹرز، گدھوں اور انسان سوکھی گھاس کھیتوں اور سبزہ زاروں سے محفوظ مقامات کو منتقل کررہے ہیں۔گھاس کٹائی کا موسم ہے ۔ سوکھی گھاس کے حوالے سے استور خود کفیل ہے۔ سب سے زیادہ گھاس استور میں کاٹی اور جمع کی جاتی ہے۔ آٹھ ماہ تک جانوروں کو یہی سوکھی گھاس کھلائی جاتی ہے۔ عورتیں ایک مخصوص انداز میں گھاس کاٹتی ہیں۔ کم از کم نواردوں کے لیے ان کی ’’گھاس کٹائی‘‘ کا یہ عمل خوش گوار حیرت کا سبب بنتا ہے۔ میرا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ استور میں عورت اور گدھا سب سے مظلوم ہے کیوں کہ ان دونوں سے سخت مشقت لی جاتی ہے۔ اگر میں اسے جبری مشقت کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ تاہم انسانی حقوق کے علمبردار ، حقوق نسواں کا ڈھونڈورا پیٹنے والے این جی اوز اور حیوانات کے حقوق کا نام دے کر فنڈ بٹورنے والے انسان نما درندوں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اور انجینئر نقشبر اور مفتی ایوب اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اِس دوغلے پن پر کڑھتے بھی ہیں۔\n\nکالا پانی تک کے گاؤں اور پگڈنڈی پلیں\nDSC02307 شونی گئی کی آرسی سی پل کراس کرنے کے بعد گاڑیاں روک لی گئی۔ احباب نے وضو بنالیے اور ہم نے بھی دریائے کالا پانی میں اتر کروضو بنانے کی ایکٹنگ کی اور اپنا تصویری شوق پورا کیا۔ یہاں سے کالا پانی کے چھوٹے بڑے گاؤں شروع ہوتے ہیں۔ سڑک پہاڑوں سے ہوتے ہوئے چھوٹی چھوٹی وادیوں میں اتر رہی ہے۔ سڑک کے دونوں طرف آبادیاں ہیں اور ان آبادیوں میں پھلدار درخت اور کھیت ہیں۔ کھیتوں میں گندم مکئی اور آلو اُگ آئیے ہیں اور چھوٹے چھوٹے پودے اور بیل بوٹے کھیتوں کی خاکی رنگت کو مائل بہ سبز کررہے ہیں۔ درختوں کی ٹہنیاںگہرے سبز پتوں اور لذیذ پھلوں سے لدی ہوئی ہیں۔ ہر طرف ہریالی کا سماں بندھا ہوا ہے۔شونی گئی سے کالا پانی کے آخر تک دریا کے دونوں کناروں میں مختصر آبادیاں ہیں جن میں فقیر کوٹ،درلہ،کھمئی،شنکر گڑھ،سکمال،چیچڑی ،گشاٹ، اسپہ،اشاٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 10390041644_abac14092d_o گشاٹ آخری آبادی ہے جہاں لوگ سال کے بارہ مہینے رہتے ہیں۔ اس سے آگے کالا پانی کے آخر تک صرف موسم گرما میں لوگ بیل بکریوں لے جاتے ہیں۔دریا کے دو طرف آبادیوں کو ملانے کے لیے لکڑی کے تختوں اور آہنی رسیوں سے پل بنائے گئے ہیں۔ان پلوں پر گاڑی چڑھتی ہیں تو وہ بوجھ برداشت نہ کرکے جھول رہی ہوتی ہیں۔اور روڈ سائٹ پر جو پل ہیں ان میں کچھ آرسی سی ہیں اور اکثر بڑی بڑی لکڑیوں کو جوڑ کر بنائے گئے ہیں۔گاڑیاں ان پر چڑھتی ہیں تو خوف کے مارے پورا بدن کانپ جاتا ہے۔\n\nشنکرگڑھ کی مسجد اور لہلہاتے کھیت\nہمارے قافلے کے احباب ایک وسیع گاؤں میں اترگئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مڈل اسکول کا بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ میرے دماغ کی اسکرین پرایک مظلوم عالم دین مولانا نذیراللہ خان ؒ کی تصویر گھومنے لگی۔ کیا غضب کے انسان تھے کہ گلگت بلتستان کی دور دراز غریب علاقوں میں مسجدیں بنوائی ہے۔ہنزہ علی آباد کی مسجد قباء بھی دیکھ کر مولانا یادا ٓئے تھے اور آج پھر سی ان کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔میں لٹرین کرنے دور کھیتوں میں نکل گیا۔ شنکرگڑھ کی آبادی بہت پیاری لگی۔ مدمقابل پار دریا ایک باریک درہ نما پہاڑی ہے جس کے قدرتی حسن اور سبزے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ دیر تک میں اس سبزے کے حسن میں کھوگیا۔ بخدا ایسی حسین جگہوں میں مجھے حسین چہرے یاد آجاتے ہیں۔جن کی یادیں دل و دماغ سے وابستہ ہیں اور محو نہیں ہوتی۔شنکرگڑھ کی پوری وادی گندم اور آلو کے کھیتوں سے لہلہارہی ہے، ہر طرف سبزہ اور جنگلی پھول ہیں۔ دھوپ کی تمازت سے فصل پکنے کے آخری مراحل میں ہے۔ 02-Astore-valley اور کہیں کہیں عورتیں گھاس کاٹ رہی ہیں اور لڑکے لڑکیاں پیٹھ پر لادے محفوظ مقامات تک گھاس لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ پس منظر میں دیو ہیکل پہاڑ اپنے سروں پر برف کی سفید چادریں اوڑھے اپنی ہیبت دکھا رہے ہیں۔یہ نسبتاً ایک بڑی وادی ہے ۔ خوبصورت لباسوں میں ملبوس مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ مجھ جیسے چندسیاح بھی گھوم رہے ہیں۔بہتے پانی سے وضو بنالیا۔ مسجد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا کہ قاضی صاحب نے فرمایا۔’’ میاں حقانیؔ، یہ دیکھو، یہ مسجد ہماری جامعہ کے زیرنگرانی ہے، مولانا نذیراللہ صاحبؒ کے کمالات کا منہ بولتا ثبوت ہے‘‘۔میں نے عرض کیا کہ حضرت دیکھ چکا ہوں اور مسجد اور اس کے بورڈ کی تصویر بھی محفوظ کرلی ہے۔ دور رکعت نماز پڑھ لی اور تب دیکھا تو احباب میرے انتظار میںہیںبتایا گیا کہ قاری عبدالحکیم کا آبائی گاؤں ہے۔ ان کے بھتیجے کے گھر چائے کی ضیافت ہے۔ یقینا اتنی تھکاوٹ اور ٹھنڈک میں چائے کی چاہ مزید بڑھ جاتی ہے۔ سو چائے کے ساتھ سموسے ، چپس اور روسٹ سے پیٹ کی پوجا کی اور چل دیے۔\n\nدرلئی جھیل اوراور محبت کے پھول\njhil درلہ گاؤں میں 2008ء کے سیلاب میں ایک جھیل بنی ہے۔ جس کا نام ’’درلئی جھیل‘‘ پڑ گیا ہے۔ اس کی لمبائی چار کلومیٹر تک ہے۔ ٹروٹ مچھلیوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ پانی کی رنگت نیلا بہ مائل سبز ہے۔ اس جھیل کے آس پاس گومئی گاؤں، اسپہ گاؤں اور دیگر چھوٹے چھوٹے گاؤں اپنی تما م تر کسمپرسی اور خوبصورتی کے ساتھ حکومت اور سیاحوں کو ندا دے رہے ہیں مگر کوئی ہے سننے والا۔۔۔میری خواہش پر نقشبر نے جھیل کنارے گاڑی روک لی۔ جھیل کی نیلاہٹ کا روپ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ نظریں جھیل کے پانی پر گاڑھ لی اور دیر تک سوچتا رہا۔ جھیل کے شفاف پانیوں کی تہہ میں کوئی دکھائی دینے لگا۔ایک مہک، ایسی مہک جو مجھے ورطہِ حیرت میں ڈال رہی ہے۔انگشت بدنداں کھڑا ہوں۔ یہ محبت ہے۔ اور محبت کے پھول نظر آنے لگے مگر ان کی رنگت زرد ہے اور میری پہنچ سے باہر۔خوف محسوس ہونے لگا،میں اپنی آرزوؤں کی بلندیوں اور خواہشوں کی جھیلوں میں سرگرداں ہوں اور کوئی دور سے مجھ پر ہنس رہا ہے اور میری بے بسی پر طنز بھی کررہا ہے۔\n\nآزادی سے پہلے کی سڑک\nچیچڑی گاؤں سے آگے قمری تک وہی روڈ ہے جو قیام پاکستان سے پہلے بنایا گیا تھا۔ اب تک اس میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ روڈ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ انجینئر نقشبر اپنی حد تک لوکل کُلی بھرتی کرکے روڈ مینٹین رکھنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں مگر یہ ناکافی ہے۔ ایک زبردست سکیم کی ضرورت ہے۔ تاکہ سیاحوں کی جنت کالا پانی دنیا کے لیے متعارف ہوجائے۔یہی روٹ تو ہے جس سے لوگ کشمیر جاملتے تھے۔ایاٹ سے کالا پانی تک تو پہاڑاور ان کی چوٹیاں بھی سبزے اور برف سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ ہے۔\n\nبنگلہ ریسٹ ہاؤس اور گجروں کا قبرستان\nکالا پانی کے راستے میں ’’بنگلہ ریسٹ ہاؤس‘‘ بھی ہے ۔ یہ ریسٹ ہاؤس پی ڈبلیو ڈی کے زیر انتظام تھا تاہم مقامی لوگوں نے گرادیا۔گرانے کی بظاہر کوئی علت معلوم نہ ہوسکی۔ اب ریسٹ ہاؤس کا ملبہ ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ ریسٹ ہاؤس کے ساتھ گجروں کا قبرستان ہے۔ گجربرادری کے لوگ موسم گرما میں اپنے مرحومین کہ یہی دفناتے ہیں۔ میں نے غور سے دیکھا تو کئی تازہ قبریں بھی نظرآنے لگی۔سڑک کے ساتھ ساتھ دریا بہتا ہے۔ سڑک انہی نشیب و فراز سے ہوتی پہاڑیوں اور گھاٹیوںکا سینہ چیرتی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔کہیںبلندی سے سڑک اترائی کی طرف جا رہی ہے۔اور کہیں اترائی سے بلندی کی طرف۔سبزوادیوں پر لپٹی سڑک کسی مہیب اژدھے کی طرح بل کھاتی گزر تی جارہی ہے۔ اور ہم ڈولتے ہوئے منزل کی طرف رواں ہیں۔ ہمارے قافلے کی گاڑیاں ہم سے بہت آگے جاچکی ہیں۔ جبکہ ہم ہر ہریالی اور سبزے میں ’’پکچرنگ‘‘ کرتے جارہے ہیں اور برادرم نقشبر اپنے کُلیوں کو احکامات جاری کرتے ہیں۔ لامحالہ ہم لیٹ ہی ہونگے۔ان سبزوں میں ہزاروں آبشاریں ہیں۔ آبشاروں کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے سینے پر مونگ دلتی یہ سٹرک محنت کشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونہ یہاں تک جدید مشنری کا پہنچنا محال ہے۔ بہر صورت اللہ اللہ کرکے کالا پانی کے دامن میں واقع وزیر اقبال ہٹ (hut) پہنچ گئے۔\n\nکالاپانی کے دامن کا جادوائی منظر\nیہ دیکھو ! میرے سامنے کالا پانی کی چراگاہیں ایستادہ ہیں۔ تاحدنگاہ سبزہ ہی سبزہ ہے۔ 11D عصر کے وقت وزیراقبال ہٹس کے پاس پہنچ گئے۔ سامان سفر اتارلیے۔ گوریکوٹ استور سے وزیراقبال ہٹس تک 78کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ ایک کپ چائے نوش کی۔ وضو بنانے سبزہ نمامیدان میں نکلے۔ قارئین میں آپ کو وہی لے جانا چاہتا ہوں جہاں میں کھڑا ہوں۔ آپ کشادہ سبزہ نما میدان میں ایک ٹیلے پر سکون سے پاؤں پھیلا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر آپ کے چہار جانب ایک کھلا سرسبز میدان ہو، میدان میں نالیوں کی صورت میں بہتا ٹھنڈا دودھیا پانی ہو، پانی کے کناروں پر میدان میں جا بجا اسٹریلوی نسل کی بھیڑیں، پنچابی بکریاں، دیسی گھوڑے، ہزاروی کچھر،استوری خوش گاؤ اور یاک، دیسی گائیں چر رہی ہوں۔ میدان کے عقب میں پہاڑیوں کے ڈھلوانوں پر ٹِکے چھوٹے چھوٹے ’’ شیلی‘‘ صنوبر(Junipers )کے جنگل ہوں۔ اور برج پتر( Brich) کے درخت مزید خوبصورتی اور رنگینی کا سبب بن رہے ہوں۔ آبشاریں اور گلیشئرز دو قدم پر ہوں۔ بالکل سامنے نظر دوڑاؤ تو قاتل پہاڑ نانگا پربت کی چوٹی کا حسین نظارہ ہو۔ download آگے دیکھو تو قمری کے پہاڑوں کی چوٹیاں ہوں اور نیلے آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے ، پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتے گزر رہے ہوں۔ دھوپ ایسے کھِلتی ہو جیسے گلاب کے شگوفے، چاندنی کا غبار خیموں میں گھُستا ہو،سفید رنگت کے میلے کچیلے بچے ترچھی نگاہوں سے آپ کو دیکھ رہے ہوں۔ بکروالوں کی دوشیزائیں چادر کے اَوٹ سے آپ کی چال ڈھال کا جائزہ لیتے ہوئے آپ کی تفریح طبع کا سامان بن رہی ہوں۔ چار سو قسم کے پھولوں والی وادی کا ہر پھول الگ رنگت، خوشبو اورجسامت سے آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پھولوں اور جڑی بوٹیوں سے ٹکراتا پانی آپ کے نظام ہضم کو فعال بناتا ہے تو یقین جانیں! آپ کالاپانی کے دامن میں میں کھڑے ہیں اور بہشت جیسے ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔\n\nجڑی بوٹیوں اور پھولوں کی اقسام\nx360-u7k جو نشیب پہلے گلیشیرز نظر آتے تھے اب نالوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور یہی نالے دریاوں کا طفلی وجود ہے۔ اے ناداں انسان! پھر اپنے رب کے وجود کا کب تک انکارکرتا رہے گا۔’’ ماغرک بربک الکریم‘‘ تجھے تیرے رب سے کس نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ دیکھو!برف پوش پہاڑوں کی سنگلاخ چٹانیں نظر آتی ہیں اور پانی رواں دکھائی دیتا ہے۔درخت، پودے نظر نہیں آتے مگر گھاس ،گل بوٹے، ہزاروں قسم کے پھولوں اور جڑی بوٹیوں نے اور سبزے نے جنگل کو منگل بنا رکھا ہے۔استور کے ان سبزوں اور چراگاہوں سے 240قسم کی جڑی بوٹیوں کو ڈسکور کیا گیا ہے۔ اور تین سو سے زائد قسم کے پھول پائے جاتے ہیں۔ یہ تحقیق (Mountain and market biodiversity and business in Northern Pakistan )کی طرف سے حالیہ دنوں میں سامنے آگئی ہے۔ مزید کو منکشف کرنے پر کام جاری ہے۔\n\nنایاب جڑی بوٹیوں کی زندگی خطرے میں\nپنچاب، کشمیر اور ہزارہ ڈویژن سے سینکڑوں ’’بکروال‘‘ اپنی مال مویشاں اور بال بچے لے کر کالا پانی کے سبزہ زار چراگاہوں میں ڈھیرے جمائے نظرآرہے ہیں۔ ان کے ٹینٹ ہر نالہ اور سبزہ میں دکھائے دے رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات ان سے کچھ ٹیکس بھی وصول کرتا ہے تاہم استوریوں کی طرف سے بکروالوں کی آمد و رفت پر کسی قسم کی قدغن نہیں۔ شاید یہ آمد و رفت کا سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔آج کل یہ بکروال اور گجر لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ محکمہ ماحولیات و جنگلی حیات کے ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ استور کی ان خوبصورت وادیوں میں کئی ہزار قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ IUCN (the International Union for Conservation of Nature) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ استور کے ان مقامات میں دس جڑی بوٹیاں ایسی ہیں کہ جن کا وجود معدوم ہونے کو ہے۔ ان کی کٹائی پر پابندی عائد ہے تاہم بکروال اور دیگر لوگ ان کی غیرقانونی کٹائی کرکے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔ مہدی شاہ حکومت نے پنچاب کے ایک بزنس مین میاں عادل محمود کو پانچ سال کے لیے ان نایاب اور دیگر جڑی بوٹیوں کو نکال کر لیجانے کی اجازت دی تھی تاہم لوکل کمیونٹی کی مداخلت سے چیف کورٹ نے اس اجازت نامے کو منسوخ کردیا۔ نرمادہ کے نام سے ایک جڑی بوٹی استور کے ان سبزہ زار علاقوں میں پائی جاتی ہے اور کچھ اہم جڑی بوٹیاں بھی ہیں جن کا وجود دنیا کے دیگر علاقوں میں معدوم ہوچکا ہے۔جی بی گورنمنٹ سے میری گزارش ہوگی کہ اس حوالے سے قانون سازی کرکے جڑی بوٹیوں کو محفوظ بنائے اور ان کے خرید و فروخت کو لیگالائز کرے۔ اور استور کو سیاحوں کی جنت بنالے۔\nہے اپنی وضع میں یہ نرالی جہان سے\nاتری زمیں پہ جس کی شبیہ آسماں سے

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.