مطالعہ کیجیے - قاضی عبدالرحمن

ابوالطیب المتنبی کا مشہور قول ہے کہ ’’اس دور میں سب سے بہترین رفیق کتاب ہے.‘‘
سرُورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

بچپن سے ایک چیز کا جنون کی حدتک شوق رہا ہے. وہ ہے کتابیں! میرے اس شوق کی سچی ترجمانی ایرسمس (Erasmus) نے کی ہے،
When I get a little money I buy books; and if any is left I buy food and clothes
(جب مجھے چند پیسے ملتے ہیں تو میں کتابیں خریدتا ہوں. اوراگر تھوڑے بہت بچ جائیں تواس سے کھانا یا کپڑا خریدتا ہوں.)

جب بھی دوستوں کےساتھ کہیں جانے کااتفاق ہوا، توان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس جگہ سے لے جائے جہاں کوئی کتب خانہ ی الائبریری نہ ہو. اگر ہو تو مجھے کسی اور شے میں مشغول کر دیاجائے تاکہ دھیان ادھرنہ جائے. اگر نظر پڑ گئی تومیرا اور ان کاساتھ اسی جگہ ختم یعنی ھذا فراق بینی و بینک! اب کتابیں ہیں اور میں ہوں، وقت گذرنے کے احساس سے بالکل بھی آگاہ نہیں.گھر میں بھی جس شوق سے والدین پریشان ہیں، وہ یہی کتابوں کاشوق ہے. یہ کتابیں ہی میری سفر و حضر کی رفیق اور خلوت وجلوت کی شریک ہیں. سونے سے پہلے جب تک کچھ مطالعہ نہ کر لوں چین نہیں پڑتا،
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی ہے
تب میری رات میری رات نہیں ہوتی ہے.

کتاب کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے. تمام انقلابات کے پیچھے کتاب ہی رہی ہے چاہے وہ مذہبی انقلابات ہوں یا سماجی، چاہے معاشی میدان میں وہ کمیونسٹوں کےلیے کارل مارکس کی ’’داس کیپیٹل‘‘ ہو یا کیپیٹلزم کےلیے ایڈم اسمتھ کی ’’دویلتھ آف نیشن‘‘، سیاسی میدان میں ہندئووں کے کوٹلیہ عرف چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ہو یا چینیوں کے لیے مائوزے تنگ کی ’’سرخ کتاب‘‘ یا اہل مغرب کےلیے میکائولی کی ’’دپرنس‘‘، الہیات میں مسلمانوں کے لیے مولانا روم رح کی ’’مثنوی‘‘ ہو یا تائو کے پیروکاروں کے لیے لائو توزو کی ’’تائوتےچنگ‘‘. ادب میں عربی کی ’’الف لیلی‘‘ ہو یا فردوسی کا ’’شاہنامہ‘‘، مذہب کےدفاع میں سعید نورسی کے ’’رسائل نور‘‘ ہوں یا رادھاکرشنن کی کتب، غرض ہر سمت کتاب اذہان پر حکومت کرتی نظرآتی ہے.

کتاب کےانتخاب میں یادرکھیے کہ صرف اچھی اور تعمیری کتب ہی شخصیت کی تعمیر اور کردارکی بالیدگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں. ٹالسٹائی کے بقول منفی مضامین کی حامل نیز فحش کتاب وہ زہر ہے جو جسم کو ہی نہیں بلکہ روح تک کوگھائل کر دیتا ہے. راقم کے کتب بینی کے شوق کو دیکھتے ہوئے، ابن غوری صاحب نے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا، ’’متقی مصنفین کی مستند کتابوں کا مخلصانہ مطالعہ ہی مفید ہوتا ہے.‘‘

مثبت مضامین کی حامل کتابوں کا روح کے لیے وہی مقام ہے جو جسم کے لیے عمل تنفس کا، یہ پژمردہ جذبات کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے، زبان کو فصیح کرتی ہے، مشاہدہ کو وسعت عطا کرتی ہے، شعورکی ماں ہے، جیسے زعفران کی پرکھ اور ادرک کا ذائقہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو نہیں ہوتا بالکل اسی طرح ہر سادہ لوح اور ظاہر بین کتب بینی کی لذت سےآگاہ نہیں ہو سکتا. مطالعہ ایسا ایڈونچر ہے جس کا اختتام نہیں. یقین کیجیے کہ صرف کتب کے ساتھ جنگل میں بھی زندگی کو کاٹا جا سکتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   لوگ اپنی زندگی کا کتنا حصہ ڈرائیونگ میں گزارتے ہیں؟

جس گھر میں کتابوں کی الماریاں ہوں درحقیقت وہ گھر میرے لیے جنت نظیر ہے. بہترین تحفہ ایسی کتاب ہے جسے ختم کیے بغیر چین نہ پڑے، بہترین رفیق کتاب اور وہ قابل انسان جس نے حق مہر ادا کر کے اس کی رفاقت قبول کی. دانا دشمن مطالعہ کےلیے کتاب کومستعارمانگنے والا ہے. جان ملٹن کاقول ہے،
A good book is the precious life-blood of a master spirit, embalmed and treasured up on purpose to a life beyond life
ترجمہ: ایک اچھی کتاب، ایک عظیم روح کا لازمہ حیات ہے، جسے ایک زندگی (نسل) سے پرے دوسری زندگی (نسل) تک پہنچنے کے مقصد سے محفوظ کر دیا گیا ہے.

افسوس کا مقام ہے کہ آج کل ذوق مطالعہ عنقا ہو رہا ہے، نسل نو کتب بینی کی لذت سے واقف ہی نہیں ہے جبکہ ہمارے اسلاف مطالعہ کےشیدائی تھے. علم کے ذرائع سے ان کاعشق ضرب المثل تھااور ہے. یہاں چندواقعات پیش کرتاہوں،
1) حکیم ابو نصر فارابی کہتا ہے، تیل کے لیے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہو کر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا.
2) تاریخ بغداد کے مصنف خطیب بغدادی رح لکھتے ہیں کہ جاحظ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے کرساری رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے.
3) امام شہاب الدین زہری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کتب کا بہت بڑا ذخیرہ تھا اور ان کی کتب بینی کا شوق اورعلمی انہماک اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ وہ دوران مطالعہ دنیا وما فیھا سے بے خبر ہوتے تھے. ان کی بیوی کہا کرتی تھی کہ ان کی کتابوں کا جلاپا تین سوکنوں سے بڑھ کر ہے. (تذکرۃ الحفظ , ج 1، ص 81)
4) امام ابن طاہر المقدسی رحمہ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ بھوک سے نڈھال ہوکر نان بائی کی دوکان پر چلے جاتے اور روٹی کی خوشبو سے دل کو تسلی دے کر آجاتے، اس فاقہ مستی میں انھیں کہیں سے ایک درہم مل گیا، اب وہ اس شش و پنج میں پڑگئے کہ اس سے کاغذ اور دوات خریدوں یا روٹی؟ اور جو لباس انہیں اس وقت میسر تھا اس میں کہیں جیب کا نام و نشان نہیں تھا، آخر غور کرتے کرتے اس درہم کو منہ میں محفوظ کرلیا، مطالعہ میں اس قدر مستغرق ہوگئے کہ وہ درہم نگل لیا.
5) امام ابو عباس ثعلب رحمہ اللہ کے عربی ادب میں مقام و مرتبے سے کون ناواقف ہے، زندگی کے آخری ایام میں بھی شوق مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ 91 سال کی عمر میں مسجد سے خطبہ جمعہ دے کر باہر نکلے، مسجد سے مکان جانے لگے تو اس تھوڑے سے وقت میں بھی راستے میں کتاب دیکھتے جاتے تھے، کتاب میں محویت اور اس پر ثقل سماعت، پھر آواز، کیا سنتے؟ ایک گھڑ سوار نے دھکّا دے دیا، زمین پر گرے، بے ہوش ہوگئے اور اسی حال میں آخرت سدھار گئے.
6) امام عبدالرحمان ابن جوزی رح اپنے بچپن کے مطالعہ کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ” اگر میں کہوں کہ بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو بہت زیادہ معلوم ہوگا اور یہ طالب علمی کے دور کا ذکر ہے، مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے سلف کے حالات واخلاق، قوت حافظہ، ذوق عبادت اور علوم نادرہ کا ایسا اندازہ ہوا جو ان کی کتابوں کے بغیر نہیں ہو سکتا.“
7) علامہ انور شاہ کشمیری رح بستر علالت پر اخیر وقت میں بھی مطالعہ کرتے ہوئے پائے گئے تھے.
8) مولاناابوالکلام آزاد رح کےغیرنصابی کتابیں پڑھنے پر پابندی تھی جس کے سبب رات کولحاف موم بتی جلا کر مطالعہ کرتے تھے. ایک مرتبہ تو آپ نے اپنا لحاف ہی جلا ڈالا تھا.
9) علامہ عبدالحی فرنگی محلی رح ایک مرتبہ مطالعہ میں مستغرق تھے، پانی مانگا، والد نے تیل کاگلاس بڑھا دیا اور آپ نے استغراق کے عالم میں اسے ہی پی لیا.
10) حکیم محمد سعید شہید رح اپنے ایک سفرنامے’’ایک مسافر چار ملک‘‘ میں کتابوں کے حصول کے بارے میں لکھا کہ ’’میری حالت یہ ہے کہ اگر مجھے اچھی کتابیں کہیں نظر آجائیں تو میں اپنے کپڑے فروخت کر کے خرید لوں‘‘.
11) ابوریحان البیرونی، کتابوں سے ان کے عشق کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک کتاب کی تلاش میں کئی کئی برس سرگرداں رہتے. کسی سے معلوم ہوا کہ متواتر مانی کی کتاب ’’سفرالاسرار‘‘ بہت معرکتہ الآرا کتاب ہے تو اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے. لگ بھگ چالیس برس بعد وہ کتاب میسر آئی تو جستجو کے گھوڑے پر سوار مسافر علم کا اشتیاق دیدنی تھا.

یہ بھی پڑھیں:   مسابقت - ڈاکٹر بشری تسنیم

خیرکوئی کہاں تک گنائے' سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کےلیے'- ان عباقرہ کے تذکرے دفاتر کے محتاج ہیں. یہ مختصر مضمون کہاں اتنی وسعت رکھتاہے- یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کی زندگانیوں کےمتعلق بجا طور سے کہا جا سکتا ہے،
باتیں ہماری یاد رہیں، پھر باتیں ایسی نہ سنیےگا
پڑھتے کسی کوسنیےگا تو دیر تلک سر دھنیےگا

سبق: مطالعہ کیجیے، یہ انسان کا وہ وصف ہے جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے.

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.