عامر لیاقت کا کیا قصور - حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج عامر لیاقت صاحب کا بھلا قصور ہی کیا ہے جناب خاکوانی صاحب؟\n\nافسوس ہم پر اور افسوس ہماری جہالت مآب برداشت پر کہ جنھوں نے شہرت کو خدا کہا اور چند ٹکوں کی خاطر وہ کچھ بھی برداشت کر گئے کہ کسی مہذب عہد میں شاید ہی کسی انسان نے یہ برداشت کیا ہو. افسوس کہ ہماری خود پر عائد کردہ اخلاقی و صحافتی پابندیاں کھلے عام بات کہنے سے مانع ہیں. ورنہ عامر لیاقت فی الاصل کیا ہے؟ کائنات کے شریف ترین انسانوں کی ناموس پر کیچڑ اچھالنے کی کمائی کھانے والا یہ آدمی کس زبان دراز قبیلے کا بےعلم علمبردار ہے. یہ سب کھل کے کہہ دیا جاتا. بہرحال کیا بھلا لوگ اتنا بھی نہیں جانتے؟ پھر مجھے بھلا بتانے کی بھی کیا ضرورت ہے کہ انٹرنیٹ اور یو ٹیوب وغیرہ پر وہ ہفوات اب بھی موجود ہیں. ان شرفائے زمیں پر کی گئی گھٹیا ترین بکواس کہ اغیار تک جن مقدس شخصیات کا نام احترام سے لیتے ہیں. اس شخص کی اسی بےلگام زبان کی صلاحیت کو جیو نے اٹھایا اور پہلی بار پھر اس اذیت ناک فنکاری کو ٹی وی پر بیچنے کا تجربہ کیا. دونمبر اور گھناؤنے کاروباروں کی طرح یہ دھندہ بھی پھر خوب چل نکلا. آپ ذرا اس ہمچو ما دیگرے نیست نفسیات رکھنے والے موصوف کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیجیے، کوئی صاحب عزت پھر آنجناب کی زبان دراز سے بھلا بچ بھی پایا ہے؟ ہاں ایسا ضرور ہوا کہ ہر طاقت کے سامنے آنجناب نے سجدہ کیا اور ایسا کہ عبرت کا نمونہ ہوگیا. اگر راحیل شریف ہے اور نواز شریف ہے اور ظاہر ہے یہ دو قوتوں کے نام ہیں تو اب جناب کی رمضان کی ٹرانسمیشن کا نام بھی رمضان "شریف "ہوگا. اگر فوج نے ان کے ٹی وی کا ناطقہ بند کیا ہے تو تب رمضان" پاک" ہو جائے گا. ایم کیوایم کی قوت موصوف سے بھاری ہے چنانچہ اس طاقت کے سامنے یہ صاحب اکیلے ہی نورتنوں کا پیکر واحد بن جائیں گے. اس کردار پر بھی مگر شرمسار تو وہ ہو کہ جس کی آنکھ میں ابھی حیا کی کچھ نمی باقی ہو. یہاں مگر وہ کہاں؟ چنانچہ تکبر اور سرکشی میں ڈوبا بدترین تکبر!\n\nتکبر ہر ایک کے لیے تباہ کن ہے. بے علموں کے لیے تو مگر یہ ایسی تباہ کن رسوائی کی کبھی نہ ختم ہونے والی داستان ہو جاتا ہے کہ الامان! بد زبانی سے شرفا دامن بچاتے ہیں، اوچھے لوگ مگر اس کو اپنی طاقت جاننے لگتے ہیں اور اسی چیز کو نیچ خصلت اپنی چرب زبانی کی فتح گردان کے خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتے ہیں. کیا آپ کو یاد ہے کہ اسی گزشتہ رمضان سے پہلے جیو ٹی پر لائیو ان صاحب نے کیا فرمایا تھا؟ کہا تھا کہ رات کو روزہ و رمضان ختم ہو جاتا ہے اور پھر پرائم ٹائم شروع ہوجاتا ہے. یہ ہے اس پیارے سکالر کا مبلغ علم اور احترام رمضان و ایمان! پھر کس تکبر اور رعونت سے اس نے کہا تھا کہ تمھیں پتا بھی ہے کہ تم کس (عامر لیاقت) کے پروگرام کے بارے می بات کر رہے ہو؟ (اگرچہ درست !) اس نے کہا تھا کہ وہ یہی کرے گا ( کہ جس سے خواہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت سارے مسلمانوں کے دل دکھتے رہیں) پھر اس نے پوری پاکستانی قوم کو چیلنج دیا تھا کہ اگر روک سکتے ہو تو عامر لیاقت کا پروگرام روک کے دکھاؤ. یہ فرعونی تکبر ہم نے سن تھا اور سہا تھا اور پھر لان کے ایک سوٹ، چائنہ کی ایک بائیک اور ٹی وی سکرین پر اپنی رونمائی کے عوض ہم نے اس کا عرش ہلا دیتا اور نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دکھا دیتا تکبر بھلا ڈالا تھا.\n\nپھر جناب ! وہ کون سا اخلاق ہے جو محترم کے کالموں اور ٹی وی پروگراموں کی زبان سے جاری و ساری رہتا ہے. ایک لفظ اور صرف ایک لفظ اس کے لیے جامع ہے. رکاکت! جی ہاں پرلے درجے کی رکاکت اور رذالت. کیا یہ بات آپ جیسے سکالرز اور اس قوم سے اوجھل ہے کہ وہ سارے الفاظ کہ گھٹیا سمجھ کے جنھیں لغت نے بھی اپنے دامن میں جگہ نہ دی تھی، ان سب کو آں جناب نے اپنا سرمایۂ دانش جان کے سمیٹ لیا تھا اور اخبار نے انھیں ریٹنگ کی خاطر بیچا اور کس دھڑلے سے بیچا. ہم دیکھا کیے، ہم چپ رہے. منظور تھا پردہ تیرا!\n\nاے میری بھولی پاکستانی قوم اور مکرم خاکوانی صاحب ! کیا آپ کو یاد نہیں کہ انھی موصوف نے جنید جمشید کو کس قدر گھٹیا، غلیظ اور غلاظت کی آخری پستی میں اتری بازاری اور نیچ گالی ٹی وی سکرین پر دی تھی. ماں کی گالی. اللہ کی قسم مجھے نہیں پتا کہ ایک ماں کی کوکھ سے پیدا ہونے والا کسی کو ماں کی گالی کیسے دیتا ہے؟ اور ہمیں اسلام سکھانے والے عامر لیاقت حسین نے بتایا تھا کہ ایسے! ہم جانتے ہیں کہ جنید جمشید کا وہ میدان نہ تھا، اس سے بے احتیاطی ہو گئی تھی. ایسا موقع لیکن جناب عامر لیاقت حسین کو اللہ دے. بخدا لکھتے قلم کانپتا ہے جو اس نے کہا. براہ راست جنید جمشید کی والدہ محترمہ کو 'فاحشہ ' قرار دے دیا. اور کیا آنجناب کو معلوم نہ تھا کہ پیغمبر کے فرمان کی رو سے یہ دراصل انھوں نے خود اپنی پیاری والدہ ماجدہ کو گالی دی تھی. آپ نے صحابہ سے فرمایا : کوئی اپنے والدین کو برا بھلا نہ کہے! حیرت سے دنگ صحابہ نے دریافت کیا ، کیا اپنے والدین کو بھی کوئی گالی دیتا ہے؟ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، ہاں اس وقت کہ جب تم کسی کے والدین کو گالی دے کر اسے جوابی گالی کے لیے مجبور کرتے ہو تو گویا یہ اپنے ہی والدین کو گالی دینے کے مترادف ہے. بہرحال یہ بدترین اتہام تھا. یہ گندی ترین دہشت گردی تھی. مگر ہم چپ رہے. لان کے ایک سوٹ اور چائنہ کی ایک بائیک کے عوض ہم نے معاشرے کی ماں کو، اپنی ماں کو دی گئی گالی برداشت کی. یاد آیا امریکی وکیل نے ایمل کانسی کے کیس میں یہی تو کہا تھا کہ چند ڈالروں کی خاطر پاکستانی اپنی ماں تک بیچ دیتے ہیں. اور ہم نے بیچ دی. یہ الگ بات کہ مکافات عمل کی گرفت میں آئے عامر صاحب جلد ہی کسی طرف سے اپنی سگی والدہ پر ہوئے حملے کے دفاع میں جھاگ اڑا رہے تھے.\n\nجناب مکرم ! قصور عامر لیاقت کا نہیں. عامر لیاقت ٹھیک وہی کچھ ہے جو آج منکشف ہوا ہے. اس کا اندر عین وہی ہے جو آج کے کالم سے باہر نکلتا دکھائی دیا ہے. عامر لیاقت وہی ہے، جس نے ٹی وی پر ایک محترمہ کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہوئے، منصب شریعت سنبھالتے ہوئے، اسے دوپٹے کی رخصت عطا فرما دی تھی. سوچتا ہوں کس منہ سے اس نے کہا ہوگا کہ جس کے گلے میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پٹہ ہو اسے کسی دوپٹے شوپٹے کی ضرورت نہیں رہتی. صرف اتنا سوچیے کہ تب کسی نے کیوں نہ پوچھا کہ اہل بیت اطہار نے، سیدہ فاطمہ الزہرا نے اور امہات المومنین نے حجاب کے جو دوپٹے اوڑھے تھے تو کیا وہ اس لیے تھے کہ نعوذباللہ ان کے گلوں میں محبت رسول کے پٹے نہ تھے؟ ہم نے یہ بھی سنا اور ہم یہاں بھی چپ رہے. کسی زبان دراز سے اپنا دامن عزت بچانے اور لان کا ایک سوٹ کمانے کی خاطر . ہم چپ رہے!\n\nحضور سانپ زہریلا ہوتا ہے، اس کے باوجود اگر ہم اسے پالتو کر لیں تو قصور سانپ کا تو نہیں نا، ہمارا ہی ہوگا! جناب مکرم اور میرے سادہ دل قارئین محترم! اگر ہم اپنا دین، اپنی ماؤں کی عزت اور اہل بیت کی ناموس بچانا چاہتے ہیں تو چپ کے روزے کے خلاف دو حرف حق ادا کرنے کی کچھ ذمے داری ہمیں بھی ادا کرنی ہوگی. سوال صرف یہ ہے کہ کیا آج کچھ لوگ اپنی ذمے داری کا احساس کرسکیں گے؟ کیا آج ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم سیاہ کو سفید کہنے، جعلساز کو رہنما ماننے سے انکار کرتے ہیں؟ تاکہ معاشرے کو ہر قسم کی دہشت گردی سے نجات دلانے میں ہم بھی اپنا کردار ادا کر سکیں؟؟ کیا ایک زبان دراز ، ایک ٹی وی، ایک اخبار ہم عوام کی رائے سے زیادہ طاقتور ہیں ؟ کیا ابھی اگلے دن ہماری رائے نے ترکی میں ٹینکوں کو شکست نہیں دی؟ یا ابھی ہمیں اپنی اور مومنوں کی ماؤں کے لیے ابھی اور ناروا باتیں سننا اور برداشت کرنا ہیں؟؟

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • MQM ki taraf se next governorship k lalach ne isy andha kr diya he...\r\naik sahb ne FB py in k "keeray" wale colom k hawale se apni na-pasandeedgi ka izhar krty howe likha k un ki sharsfat ijazat nhn deti k WO aisi ghaleez guftgu logo'n k parhnay ka mujab baney..\r\njb me ne WO colom parha to andaza huwa un sahab ki bat me zra b mubalgha na that q k us colom ko parhty huwe b ek muhazzab shakhs sharam se pani pani ho jaye...\r\nMafhom e Hadees:\r\njb tujh me haya na rahy to tu Jo tera dil chahy WO kr.