میڈیا کی جوابدہی کون کرے گا؟ صائمہ اسما

قندیل بلوچ کا قتل ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اس کی پہلی ایف آئی آر پرائیویٹ میڈیا چینلز کے خلاف کٹنی چاہیے جنہوں نے اس کی سستی شہرت کی طلب کافائدہ اٹھایا اور اپنی ریٹنگ بڑھاتے رہے۔ پھر ایک عالم دین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کے لیے اسے انتہائی گھٹیا طریقے سے استعمال کیا۔ جس بےہودہ اور لچر انداز میں ٹاک شوز اس معاملے کا مزہ لیتے رہے، اس کی اجازت میڈیا اخلاقیات تو کیا، کسی بھی سطح کی اخلاقیات نہیں دے سکتی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایک پیشہ ور عورت ہے، جس کے نزدیک سچ جھوٹ، عزت و ذلت، حرام و حلال، جائز و ناجائز کوئی اہمیت نہیں رکھتے، اس کے بیانات کو اہمیت دی گئی اور ایک دیندار آدمی کی عزت اچھالی گئی۔ اور وہ بھی ایک ایسا شخص جس کے معتقدین بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ جب سے ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بنے ہیں، پاکستان میں دین اور علمائے دین کا منفی تاثر پھیلانے کا ایجنڈا میڈیا کو دے دیا گیا ہے جس میں اب روزبروز تیزی آتی جا رہی ہے۔ میڈیا نے اپنے نیچ مقاصد کی خاطر ایک غریب اور گمراہ عورت کو اس طرح استعمال کیا کہ اس کے لیے واپسی کے سارے راستے بند کر دیے، معاشرے نے اس کو قبول کرنے سے انکار دیا اور وہ اپنوں ہی کے ہاتھوں المناک انجام کا شکار ہو گئی۔\n\nاس واقعے نے پاکستان میں پرائیویٹ میڈیا کے کردار اور پیمرا کے اصول و قواعد پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ جس چینل نے جعلی آواز میں مفتی عبدالقوی کا بیان سنوایا، اس کا لائسنس فوری اور مستقل طور پر منسوخ ہونا چاہیے تھا۔ بےہودہ الزام تراشی اور نامناسب لباس پر مبنی فوٹیج چلانے پر بھی متعلقہ چینلز کو جرمانہ ہونا چاہییے تھا۔ اس بات کا بھی فیصلہ ہونا چاہیے کہ کس سطح کی خبر کو کتنی بار چلنا چاہیے۔ اس میں خبریت کا معیار کتنا ہے؟ قومی منظرنامے میں اس کا مقام اور اہمیت کیا ہے؟بریکنگ نیوز کی تعریف پر کون سی خبریں پوری اترتی ہیں؟ ٹاک شوز کی اخلاقیات کیا ہونی چاہییں؟کیا ہر معاشرتی، حساس، نازک اور سنگین نوعیت کے معاملے کو ریٹنگ بڑھانے کے لیے سنسنی خیز بنایا جا سکتا ہے؟ ہر عورت کو مرچ مسالہ بنا کر پیش کرنے سے اس عورت کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کسی معاملے کو نمایاں کرنے سے معاشرہ کتنا تقسیم ہوگا؟ نفرتیں کتنی بڑھیں گی؟ بیرونِ ملک کیا تاثر بنے گا اور اس تاثر کی اصل حقائق کے ساتھ کتنی مناسبت ہوگی؟ لوگوں کا ہر چھوٹی بڑی بات کو’’جاننے کا حق‘‘ زیادہ اہم ہے یا ذاتی زندگیوں کا سکون اور پرائیویسی. معاشرے کی یک جہتی اور ہمواری؟ ان اہم سوالات کو طے کرنے میں ہم پہلے ہی بہت تاخیر کر چکے ہیں اور اس تاخیر کے نتائج کو بھگت رہے ہیں۔ پیمرا کو مزید فعال، چوکنا اور قومی مقاصد سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ پرائیویٹ میڈیا ہمارے ماحول اور معاشرے کے مطابق اپنامثبت کردار ادا کرے۔\n\nباقی رہا غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ، تو اس سلسلے میں قانون سازی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر چونکہ ہمارے ہاں ایسے جرائم کے پیچھے اکثر بااثر افراد ہوتے ہیں اور وہی ہماری قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے ہیں، اس لیے قانون کا ہونا نہ ہونا برابر ہو جاتا ہے۔ قندیل بلوچ جیسی عورتیں ان کی ضرورت ہوتی ہیں اس لیے ان کو پروموٹ کیا جاتا ہے اور جب چاہا راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یا پھر انھی کے سگے پیسے کی خاطر یا اپنی بے عزتی برداشت نہ کرسکنے پر ان کو مار دیتے ہیں۔ ایسی عورتوں کا یہ انجام ہر معاشرے کا حصہ ہے۔ مغرب میں اپنے عاشقوں کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں یا سگے رشتے قاتل بن جاتے ہیں۔ حالانکہ وہاں قانون بھی ہے اور قانون کی عملداری بھی۔ اس کا واحد حل قانون کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اخلاقی تربیت ہے۔\n(صائمہ اسما خواتین کے معروف میگزین ماہنامہ بتول، لاہور کی مدیرہ ہیں)