تمھاری اداسی کیسے ختم ہوگی؟ راشد حمزہ

تُم کہتی ہو میں اُداس ہوں، کوئی ایسی بات کرو کہ میں رُو لوں اور اُداسی میرے آنسو کے ساتھ رُخصت ہو جائے.\nمیں تمھیں بتاؤں، اداسی رخصت کرنے کا صرف یہی ایک طریقہ تو نہیں بچا، اور بھی کئی طریقے ہیں\nاول تو اداسی تمھارے صاف چہرے اور روشن آنکھوں پر بالکل بھی نہیں جچتی ہے، ان آنکھوں میں مسرتوں کے ننھے ننھے تاروں کا جگمگ جگمگ کرتے رہنا تمھارے زندہ ہونے کی علامت ہے، تمھارا مسرور رہنا تمہارے مہ وش چہرے کو زیب دیتا ہے، تمھارے ہونٹوں پر ہر آن ہلکی ہلکی دل آویز تبسم کا پھیلتے رہنا اچھا لگتا ہے.\n\nچلو میں تم کو اپنے ساتھ ایک ایسے جہاں کی سیر کراتا ہوں جو فرشتوں کا تخیل ہے، جو روشنیوں سے منور ہے، جہاں ایک حسین مدہوش جھیل کے کنارے پر سنگ مرمر کا بنا ہوا ایک خوبصورت سفید محل ہے، جس کی لمبی لمبی ستونوں پر سنہری تہہ چڑھی ہوئی ہے، جہاں لاتعداد برقی قمقمے جاڑے کی واضح راتوں میں آسمان اور چمکتے تاروں کا سا سماں باندھتے ہیں، وہاں تمھارے سارے غم دھل جائیں گے، تمھاری اداسی بے پناہ مسرتوں میں بدل جائے گی، وہاں صرف دل آویز اور دلفریب مسکراہٹیں ہوں گی، دو دلوں کی آہٹیں ہوں گی، وہاں قدرت اپنی تمام تر خوبصورتی اور حسن کے بے پناہ مظاہروں کے ساتھ تمھاری آغوش میں بیٹھ کر تمھارے ساتھ پیار اور محبت سے باتیں کرے گی، تمھاری دل جوئی کرے گی، تمھارا حوصلہ بڑھائے گی.\n\n


\n\nتو پھر دیر کس بات کے لیے، وہاں جانے کےلیے ہم ایک کشتی میں سوار ہوں گے، ہمارے راستے میں دونوں کناروں پر درختوں کی جھنڈ، پھولوں سے لدی ہوئی بیلیں اور جنگلی پھولدار جھاڑیاں آئیں‌گی، ہم ایک ایسے جہاں میں داخل ہوں گے جہاں ہمیشہ چودھویں کا چاند منور رہتا ہے، جن کی فضائیں ہمیشہ پھولوں کی فردوسی خوشبوؤں سے مہکتی رہتی ہیں، جہاں ہریالی ہی ہریالی ہوگی، وہ خوبصورت قطعہ زمین اودے اودے پہاڑوں کی بیچوں بیچ واقع ہے، جہاں فرش پر ریت اور پتھر کا تصور تک نہیں، مخمل جیسی نرم اور خودرو گھاس فرش پر ایسی بچھی رہتی ہے جیسے کسی نے خوبصورت قالین بچھایا ہو، تم وہاں جب خدا کو قدرتی نظاروں کے لبادے میں اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ جلوہ افروز دیکھوگی تو تمھاری اداسی یکلخت مسرت میں بدل جائے گی، تم مسرتوں سے مغلوب ہوجاؤگی، تمھاری روح سرشار ہوجائے گی، تمھارا دل مچل جائے گا، تمھاری عقل دنگ رہ جائے گی، تمھاری طبعیت پر بہار کی سی کیفیت آئے گی.\n\n


\n\nتم وہاں ایسا محسوس کروگی جیسے تمھیں تخلیق کرتے وقت مٹی اس جہاں سے لے لی گئی تھی، وہاں کے لاتعداد پھولوں کے دلفریب اور پاکیزہ رنگوں کی آمیزش دیکھ کر تمھیں محسوس ہوگا کہ خوبصورتی کے تمام رنگ یہاں سے چُنے گئے ہیں، تم محسوس کروگی کہ یہ سانسوں کی نکہت ان معطر فضاؤں سے لے لی گئی ہے، وہ ایک ایسا جہاں ہے جہاں باتیں ہوں گی تو صرف سُر، سرور، خمار اور ساز کی باتیں ہوں گی، آرزؤں، خوشبوؤں، امنگوں، رنگوں، آہنگوں اور دل نشین میٹھی میٹھی آوازوں کے مظاہرے ہوں گے،_\n\nرات کے آخری پہر جب تاریکی پوری طرح بے لباس ہوجائے گی، جب خوبصورت چاند اپنے نور میں تڑپتا ہوا جھیل کی مدہوش سطح میں غوطہ لگانے اترے گا، تب تمھیں چاند چھونے کی خواہش بیدار ہوگی، میں تمھیں کشتی میں چاند کے قریب لے جاؤں گا، چاند کو چھوتے ہوئے تمھیں محسوس ہوگا جیسے قدرت اپنے نور کے ساتھ تمہارے من میں تحلیل\nہوتی جا رہی ہے، اور چاند تمھارا ہم نفس ہو رہا ہے یوں تمھاری اداسی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی