جنرل سیلز ٹیکس ایک عفریت - اسد عباس

اسد عباس جنرل سیلز ٹیکس مشرف دور میں لاگو ہوا. 14 فیصد سے شروع ہونے والا جی ایس ٹی اس وقت تقریباً 20 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اگر آپ مارکیٹ سے تین سو روپے مالیت کا کوئی شیمپو خریدتے ہیں تو حکومت اس پر کم و بیش 60 روپے جی ایس ٹی کی مد میں کمپنی سے وصول کر چکی ہوتی ہے. کھانے پینے کی اشیا میں یہ ٹیکس سترہ فیصد تک ہے. اور الیکٹرونکس اشیاء اور موبائل فونز میں یہ ٹیکس 20 فیصد کی حد کو بھی عبور کر گیا ہے. کھانے پینے کی اشیاء میں آٹا واحد ایسی چیز ہے جس پر سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہے.\n\nستمبر 2014ء سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جس کا ریلیف ہر ملک کی حکومت نے اپنے عوام تک پہنچایا ہے مگر پاکستان میں معاملہ مختلف ہے. دھرنوں اور احتجاج کے دوران حکومت پٹرولیم مصنوعات میں ہلکی پھلکی کمی کر کے عوام پر احسان کرتی رہی ہے. یہاں تک تو معاملات کچھ بہتر ہیں تاہم لبریکینٹس کی انڈسٹری میں حکومت نے عوام کسی قسم کا ریلیف دینا گوارا نہیں کیا. زراعت ہمارے ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. لیکن پچھلے دو تین سالوں سے زراعت کا بھی برا حال ہے. کپاس اور دھان کی قیمتیں اتنی گر چکی ہیں کہ اخراجات بھی بعض اوقات پورے کرنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ لبریکنٹس (موبل آئل) بھی زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے. اس کے علاوہ نقل و حمل کے ذرائع میں بھی لبریکینٹ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے. ستمبر 2014ء سے لبریکینٹس کی مصنوعات میں واقع ہونے والی کمی کا ایک فیصد فائدہ بھی لبرکینٹس انڈسٹری کو حاصل نہیں ہوا۔ مارچ 2014ء میں پاکستان کی مشہور لبرکینٹس ملٹی نیشنل کمپنی "شیل پاکستان" نے اپنے ریٹ بڑھائے تھے جو تاحال برقرار ہیں، اور اس کی بنیادی وجہ گورنمنٹ کا نہ بھرنے والا پیٹ ہے. مارچ 2014ء میں شیل پاکستان کے مشہور برانڈ ریمولا 2 (Rimula 2) کی ٹریڈ پرائس 1569 اور ریٹیل پرائس1728 روپے کر دی گئی۔ اس ریٹیل پرائس میں گورنمنٹ 20 فیصد سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ چار پیک کے ایک کارٹن پر گورنمنٹ 1380 روپے ڈنکے کی چوٹ پر وصول کر رہی ہے.\n\nجنوری 2016ء میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ لبریکینٹس مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی، تاہم حکومت کی طرف سے کمپنیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قیمتوں میں کمی کا فیصلہ منسوخ کر دیں. اس حکم کی بنیادی وجہ سیلز ٹیکس وصولیابی کی کمی بتائی گئی. اگر لبریکینٹس کمپنیاں 20 فیصد تک بھی کمی کرتی ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ سیلز ٹیکس ریکوری میں 20 فیصد کمی یعنی 1380 روپے کے بجائے 1100 روپے سیلز ٹیکس کی مد میں وصول ہوں گے. جس کا مطلب روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان. سیلز ٹیکس کی جمع تفریق صرف ایک کمپنی کی ہے. شیل کے علاوہ، Caltex, Pso, Total, Castrol, Zic اور دوسری درجنوں کمپنیاں بھی اسی قطار میں شامل ہیں. پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجہ ہی سیلز ٹیکس ہے. یہ تو صرف ایک انڈسٹری کا واقعہ ہے. اس کے علاوہ آپ جس شعبے میں بھی نظر دوڑائیں آپ کو یہی صورتحال نظر آئے گی. حکومت قیمتوں میں کمی فائدہ کسی صورت عوام تک نہیں پہنچا رہی. یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں جب عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا بھی ممکن نہیں رہے گا