تصوف بطور متوازی دین؛ اقبال، پرویز اور غامدی - عزیز ابن الحسن

ابن الحسن آج قیصر شہزاد کا اگست ۲۰۱۵ کا ایک شذرہ متعلق بہ تصوف بطور متوازی دین پڑھتے ہوئے یکا یک ۱۹۸۳ کے وہ دن یاد آگئے جب گرمیوں کی چھٹیوں میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی حیدر آباد کے ہاسٹل میں پرویز صاحب کی کتاب "اسلام اور تصوف" پڑھ کر اتنا وفورِجوش ہوا کہ فوراً پرویز صاحب کر ایک خط لکھ مارا تھا. پرویز صاحب بھی غامدی صاحب کی طرح تصوف کو اسلام کے متوازی ایک الگ دین ماننے والوں میں سے تھے. غامدی صاحب کے شہرۂ علمی کا آفتاب ابھی طلوع ہو رہا تھا اور پرویز صاحب اپنی عمر کی نصف النہاری قوس طے کر کے مائل بہ ڈھلان تھے مگر ان کی فکری لاتیاں و مناتیاں ہنوز جوان تھیں لہٰذا عامۃالناس کو ابھی صرف انھی کی عشوہ طرازیوں میں لپٹے نئے دینی بیانیوں پر گزارا کرنا پڑتا تھا.\n\nتصوف پر اپنی اس کتاب کی تمہید میں تصوف کی گمراہیوں کا ذکر کرتے ہوئے پرویز صاحب نے لکھا تھا کہ میں ان باتوں کو ذاتی تجربے کی روشنی میں جانتا ہوں. میرا ابتدائی رجحان بھی تصوف کی طرف رہا ہے. میں بھی ہمالیہ کی غاروں اور کھوہوں میں بہت سے صوفیوں، یوگیوں اور رشی منیوں کی صحبتوں میں بڑی بڑی تپسیاؤں سے گزرا ہوں. لہٰذا تصوف کی خرابیوں کا مجھے ذاتی تجربہ ہے. اس لیے میں تصوف کو اسلام سے متناقض جانتا ہوں. اپنی کتاب کو پرویز نے دو حصوں میں منقسم کیا ہے: ایک 'تصوف اور قرآن' ، دوسرا 'تصوف اور اقبال'. پہلے حصے میں قرآن کی رو سے تصوف کی خبر لی گئی ہے. اسلام کی تاریخ میں مختلف شخصیات کی پیدا کردہ خرابیوں کا ذکر کرتے پرویز نے ابن عربی اور مولانا روم کے بارے میں ایک نہایت دلچسپ فقرہ لکھا ہے. جملہ معترضہ کے طور پر وہ بھی سن لیجیے: کہتے ہیں کہ ابن عربی کا فلسفہ وحدۃالوجود انتہائی پیچیدہ، غامض مغلق اور آسانی سے فہم میں نہ آنے والا تھا. مولانا روم نے اس امت پر بڑا ظلم کیا کہ ان خشک فلسفیانہ موشگافیوں کو اپنی شاعری میں سمو کر قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے خون میں جاری کردیا.\n\nکتاب کے دوسرے حصے میں اقبال کی زندگی کے تین ادوار قائم کرکے تصوف کے بارے میں اقبال کے تین رویے بتائے گئے ہیں. پہلا دور جس میں اقبال اپنے صوفی باپ کی ابتدائی تربیت کے زیر اثر تصوف کا حامی رہا. یہ اثرات اقبال کے یورپ جانے تک باقی رہے. دوسرے دور میں جب اقبال کی عقل و فکر میں ذرا پختگی آئی، وہ تصوف کا شدید ناقد اور مخالف ہو گیا. اور تیسرے دور میں ۱۹۲۵ کے بعد جب اقبال کے قوٰی کچھ مضمحل ہونے لگے تو وہ سٹھیاپے کا شکار ہوکر دوبارہ تصوف کی بھول بھلیوں میں بھٹک گیا. اور مرنے کے قریب تو وہ ایسے ذہنی اختلال میں مبتلا ہوا کہ اٹھتے بیٹھتے رومی و ہجویری جیسے مُردوں سے ملاقاتیں کرنے لگا. پرویز نے اقبال کے اس المیے کا محض علمی محاکمہ ہی نہیں کیا بلکہ اپنے ذاتی تجربات سے حاصل ہونے والے تیقنات کی روشنی میں اقبال کی تحلیل نفسی بھی فرمائی تھی. ان کا کہنا تھا کہ علم نفسیات کی رو سے ہوتا یہ ہے کہ ا نسان جس ماحول اور میلان میں ابتدائی زندگی گزارتا ہے، بڑھاپے میں وہی خیالات و رجحانات دوبارہ عود کر آتے ہیں اور انسان پھر سے انھی کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے اور یہی کچھ اقبال کے ساتھ بھی ہوا ہے. اچھا خاصہ حکیم الامت مریض الامت بن کے رہ گیا.\n\nپرویز صاحب کے اس طرز استدلال اور نتائج فکر کو دیکھتے ہی ہمارے محوّلہ بالا جوش میں وفور آیا، اور ہم نے پرویز کو ایک چند سطری خط لکھ مارا: "آپ نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ انسان زندگی کے آخری دور میں اپنے ابتدائی میلانات کی طرف لوٹ جاتا ہے جیسا اقبال کے ساتھ ہوا. اس اصول کے مطابق آپ کو بھی مرنے سے قبل تصوف کا قائل ہوجانا چاہیے کیونکہ آپ کی ابتدائی زندگی بھی تصوف کی ریاضتوں میں گزری ہے. اگر ایسا ہوگیا تو تصوف کے بارے میں آپ کا زندگی بھر کا مؤقف غلط ٹھہرے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو اقبال کے بارے میں آپ کا تجزیہ غلط ہوجائےگا. بطور طالب علم مجھے ان میں سے کسی ایک حادثے کا انتظار رہے گا".\n\nآج یہ بات مجھے اس لیے یاد آئی کہ قیصر شہزاد کے مذکورہ بالا شذرے پر بھی بعض احباب، مثلاً عثمان سہیل اور شاہد اعوان نے از رہ تفنن اس طرح کے تبصرے لکھے ہیں:\n"اس دنیا میں کچھ بھی ہوسکتا ہے کیا معلوم کسی دن غامدی صاحب بھی "مشرف" بہ تصوف ہو جائیں".\nمیں اس پر صرف یہ اضافہ کروں گا کہ اس طرح کے اصحاب "مشرف" بہ پرویز، ضیاء اور ایوب تو ہوسکتے ہیں مگر مشرف بہ تصوف کبھی نہیں.\nع یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com