جناب عامر خاکوانی کی خدمت میں - ابو سعد ایمان

جناب خاکوانی صاحب ! آپ کمال کرتے ہیں۔ کیا بنگلہ دیش اور ترکی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ برادرم! بنگلہ دیش کی حکومت وہی ظلم اسلام پسندوں کے ساتھ اب کررہی ہے جو ترکی میں سابقہ ستر سالوں میں بار بار کیا جاتا رہا ہے۔ اگر ستر سال تک ایک ملک میں اسلام پسندوں کا تختہ الٹا جاتا رہا اور ان کو پھانسیوں پر چڑھایا جاتا رہا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے، اس تاریخی پس منظر رکھنے والے ملک میں ایک بار پھر کسی اسلام پسند حکمران کا تختہ الٹنے کی کوشش کو کیسے وہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرے گا. وہ بھی اس طرح کہ ایک فوجی ٹولے کی طرف سے اس ہوٹل پر بم دھماکہ کیا گیا جس میں اردگان چند لمحے پہلے موجود تھے، تاکہ انہیں ہلاک کردیا جائے، ان کے طیارے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، بغاوت کا حصہ نہ بننے والے فوجی جنرل اور بعض فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس بغاوت پر قابو پانے کے بعد اگر اردگان اس بغاوت کی تحقیقات کےلیے پانچ دس ہزار لوگوں کو گرفتار کرے اور غیرملکی ایجنڈے پر چلنے والے مشکوک اداروں کے خلاف کارروائی کرے (حالانکہ نہ ابھی کسی کو پھانسی دی گئی ہے، نہ ہی ماورائے عدالت قتل کیے گئے ہیں ) تو اس میں کیا غلط ہے، اور بغاوت جیسے بدترین جرم کے خلاف محض تحقیقاتی اور انضباطی کارروائی کو بنگلہ دیشی حکومت کے اسلام پسندوں کو غیرقانونی اور ظالمانہ پھانسیاں دینے کے برابر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ واہ ! کمال کرتے ہیں آپ بھی۔ کیا اسلام پسند بنگلہ دیش میں بغاوت کے ویسے ہی مجرم ہیں جیسے ترکی میں اسلام پسندوں کی حکومت کے خلاف امریکی و اسرائیلی سازش کا حصہ بن کر بغاوت کا بازار گرم کرنے والے عناصر۔ کیا ترکی میں کسی غیر جانبدار عالمی ادارے نے حکومت پر ویسے ہی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جیسا بنگلہ دیشی حکومت کے حقوق انسانی کے خلاف اقدامات اور غیر قانونی پھانسیوں پر کیاگیا تھا۔\n\nآپ کا تجزیہ اس لحاظ سے قابل گرفت ہے کہ آپ نے ترکی میں گھنائونی بغاوت کے خلاف اسلام پسندحکمران کی محض کارروائی کو اس ظلم اور بربریت سے مشابہ قرار دے دیا ہے جو بنگلہ دیش کی اسلام مخالف حکومت اسلام پسندوں کے خلاف فرضی جرائم کی فہرست بناکر انھیں مسلسل پھانسیوں پر لٹکا کر کر رہی ہے۔ آپ اور آپ جیسے دیگر قابل احترام دوستوں کا یہی استدلال ہی آپ کے نقطہ نظر کو غیرمتوازن اور غیرصحت مند ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔\n\nاردگان خونی بغاوت کے خلاف تحقیقات ہی تو کروا رہا ہے، آپ دوستوں کو اسے حسینہ واجد کی طرح ظالم ثابت کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ بالفرض تحقیقات کے بعد اگر کسی بےقصور کو سزا ملتی ہے یا کوئی شخص اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے باوجود دبوچ لیا جاتا ہے اور ترکی کا میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ اس خبر کو نشر کرتے ہیں تو اس صورت میں اردگان پر تنقید کرنے اور اس کے غیرشفاف کردار پر انگلی اٹھانے کا کوئی جواز بنتا ہے، اور تب میں بھی آپ کا ساتھ دوں گا۔ لیکن محض تحقیقات اور کارروائی ہی کے مرحلے میں ظلم ظلم کا شور مچا دینا اور محض کارروائی ہی کو حسینہ واجد جیسی غیرملکی قوتوں کی آلہ کار اور اسلام پسندوں کی دشمن حکمران کے عمل سے مماثلت دینے لگ جانا سخت ناانصافی ہے۔\n\nگولن بہت بڑا صوفی ہے، بہت بڑا اسلام کا رہنما ہے، بہت بڑی اسلامی تحریک کا قائد ہے تو پھر اسے ڈر کس بات کا ہے، کیوں امریکہ میں چھپا بیٹھا ہے۔ ترکی آئے، عدالتوں میں پیش ہو، اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرے اور اپنی بے گناہی ثابت کرے۔ ترکی کا ایک بہت بڑا طبقہ اس کا پیروکار ہے، عالمی طاقتوں کی اسے پشت پناہی حاصل ہے تو پھر اسے ڈر کس بات کا ہے؟ اگر بے قصور ہے تو اپنے ملک میں آکر مقدمات کا سامنا کرے،اور اپنی اخلاقی برتری ثابت کرے۔ آخر بنگلہ دیش کے اسلام پسندوں نے بھی تو مردانہ وار جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا اور بہادر شیروں کی طرح پھانسیوں کا پھندا چوم کر اس پر جھول گئے.\n\nترکی میں سیکولر طبقات اور ان کی نمائندہ فوج کے اسلام پسند حکمرانوں کے خلاف ظلم و جبر کے طویل تاریخی پس منظر کے ہوتے ہوئے اردگان اس خونی بغاوت کے بعد جب اسے زبردست عوامی تائید حاصل ہے، اگر ایک ہمہ گیر تفتیش، تطہیر اور صفائی کا عمل شروع نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ حکومت کرنے کے بجائے سبزی کی دکان کھول لے کہ یہی اس کے لیے زیادہ مناسب ہوگا۔ \nمحترم خاکوانی صاحب ! قدرت نے اردگان کو ترکی میں اسلام پسندوں کے خلاف 70 سال کا پھیلایا ہوا زہریلا جابرانہ جال کاٹنے کا بہترین موقع عطا کیا ہے، اس کے لیے اسے محیرالعقول عوامی تائید حاصل ہے. اس کے بعد اگر وہ اس موقع کو ضائع کردیتا ہے تو اس سے بڑا نادان کوئی نہیں، اس سے بڑا کم فہم اور کودن کوئی نہیں، اس سے بڑا موقع بے شناس کوئی نہیں۔\n\nآپ نے اردگان کو بھٹو سے غلط طور پر تشبیہ دی۔ بھٹو جاگیردارانہ پس منظر رکھنے والا لیڈر تھا، اپنے مخالفین کو ماورائے عدالت قتل کرانے کے سنگین الزامات اس پر عائد تھے، پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں اس کا بہرحال ایک کردار تھا، شیخ مجیب نے اس کے خلاف فوجی بغاوت نہیں کی تھی بلکہ الیکشن جیتا تھا، جبکہ اردگان ایک غریب خاندان کا پس منظر رکھنے والا کردار ہے، اس پر اپنے مخالفین کو قتل کروانے کا کوئی الزام نہیں ہے، اور آخری بات یہ ہے کہ اردگان کے خلاف کسی نے الیکشن نہیں جیتا کہ وہ اس کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ بلند کررہا ہو بلکہ وہ تو قومی مجرموں کو کٹہرے میں لانا چاہتا ہے، بغاوت برپا کرنے والے اور ملک میں خانہ جنگی اور انارکی پھیلانے والے پورے نیٹ ورک کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا وہ غلط کرنا چاہتا ہے؟\n\nموجودہ تناظر میں ترکی میں اردگان کو قتل کرکے اس کی حکومت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرنا محض ایک شخص کی حکومت کا خاتمہ نہیں ہے ۔ یہ درحقیقت اسلام پسندی کے خلاف اس نفرت کا اظہار ہے جس کا ارتکاب ترکی میں بطور ایک سسٹم سابقہ سترسالوں سے کیا جا رہا ہے. اس کے باوجود اردگان پر الزام عائد کرنا کہ وہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور اپنی شخصی آمریت کو مسلط کرنے کے لیے ایسا کررہا ہے تو یہ ایک انتہائی بدگمانی اور خلاف حقیقت بات ہے۔ کیا اس کا ماضی اس طرح کا سازشی رہا ہے؟ ٹھیک ہے آپ نے یہ الزام عائد نہیں کیا لیکن بعض لوگ دبے دبے لفظوں میں اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ فکر ہے کہ اس کا انجام بھٹو جیسا نہ ہو. میرے محترم! بھٹو کا انجام معلوم ہے ایسا کیوں ہوا تھا کہ وہ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں ہر امریکی ڈکٹیشن اور دھمکی کو جوتے کی نوک پر رکھتا تھا، اور پھر اسی جرم کی پاداش میں ضیا کو بھی فضا میں اڑادیا گیا۔ لہٰذا اب اگرترکی میں اپنے ملک کے تحفظ، بہتری اور اسلام پسندوں پر خونچکاں جبر کاراستہ بند کرنے کے لیے اردگان ہر امریکی ڈکٹیشن کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے صفائی کا ایک ملک گیر پروگرام روبہ عمل لایا ہے تو وہ عین ایک درست اور فطری راستے پر ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ ہمارے پاس درست یا غلط صرف راستہ منتخب کرنے کی چوائس ہے، رہا انجام تو اس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اردگان کو قدرت نے بہترین موقع دیا ہے کہ وہ شیر کی طرح جیے، ان لمحات کو اگر وہ گیدڑکی طرح جیتا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے موت کب آتی ہے اور کس طرح آتی ہے۔ گیدڑ گیدڑ ہوتا ہے چاہے سو سال بھی جی لے اور چاہے پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ ہی اس کی تدفین کی جائے جبکہ شیر شیر ہوتا چاہے بستر پر موت آئے چاہے بہادر شیروں کی طرح حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دے۔\n\nان معروضات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اردگان کوئی معصوم فرشتہ ہے، اس سے کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی اور یہ کہ وہ اسلام کا واقعی کوئی بہت بڑا علمبردار ہے، بالکل نہیں، ہمیں ایسی کوئی بھی غلط فہمی نہیں ہے۔ بلکہ ہم کہنا صرف یہ چاہتے ہیں کہ اردگان اگر غیر مسلم بھی ہوتا تو ظلم اور جبر سے تارتار جس قسم کا تاریخی پس منظر میں نے اس کا بیان کیا ہے، اس کے ساتھ اس سے فطرت اسی کردار کا مطالبہ کرتی جس کا مظاہرہ اس وقت وہ کررہا ہے۔ انسان کے کردار کو اس کے پورے پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ پرکھنا چاہیے۔ اس موقع پر اگر اردگان دو چار ہزار نامی گرامی اور طاقتور لوگوں کو پھانسیوں پر بھی لٹکا دیتا ہے تو اس کا جواز اس کے پاس موجود ہے۔ مجھے اور آپ کو اس سے اختلاف کا حق تو حاصل ہے لیکن معروضی حالات اور پس منظر و پیش منظر سے آنکھیں بند کرکے محض اعتراض کرتے چلے جانا کسی طور دانش مندی نہیں.