ہمارے منبر - محمد زید غوری

مولانا اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد کا ذکر ہے، میں حسب معمول جمعے کی تیاری میں مصروف تھا کہ اچانک مسجد کے اسپیکر سے ایک نئی آواز آئی. آواز کےکچے پن اور لڑکھڑاہٹ سے معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی نوآموز آج اس منبر پر جلوہ افروز ہے اور کچھ عجیب کرنے والا ہے. خیر میں اپنی تیاری میں مصروف رہا اور کان اس آواز کے فرمودات پر دھر دیے. پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب حضرت نے مولانا اسلم شیخوپوری کے ساتھ رحمہ اللہ کی جگہ دامت برکاتہم العالیہ کہا. پھر تو بےجوڑ و بےوزن باتوں کا ایک عجب سلسلہ شروع ہوا جو قریب نصف گھنٹے تک جاری رہا، اور یہ احساس دلاتا رہا کہ آواز کے پیچھے کوئی کج فہم اور دماغی خلل سے دوچار بچہ ہے. اس بات پر حیرت بھی ہوئی کہ اس بھری مسجد میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو اس کو روکے. موصوف نے آدھےگھنٹے میں اپنے الفاظ اور انداز سے واضح کردیا تھا کہ فرقہ واریت، لسانی، نسلی اور طبقاتی تعصب سے بھرے پڑے ہیں اور اسی کو ہوا دینے کے لیے یہاں موجود ہیں. علمی پسماندگی کا عالم یہ تھا کہ شہادت کے دوسال بعد بھی رحمہ اللہ کی جگہ مدظلہ اور دامت برکاتہم لگا رہے تھے. پورا مہینہ یعنی چار جمعوں تک یونہی چلتا رہا، پھر بالآخر ان کو ایک دن روک لیا اور سمجھایا کہ یہ سب نہ کریں اور مولانا کے نام کے ساتھ رحمہ اللہ کا لفظ لگائیں .\n\nیہ شہر کراچی کی ایک مسجد کا حال تھا. ایسی ہزاروں مسجدیں پورے ملک میں موجود ہیں جن کے منبروں سے یہ زہر عوام کے ذہنوں میں انڈیلا جا رہا ہے اور اس کے سد باب کی کوئی صورت و سعی نہیں کی جارہی. پاکستان کے کسی شہر، گاؤں دیہات یا قصبے میں چلے جائیں اور منبر سے اٹھنے والی صدائیں سن لیں جو یقینا صرف ان الفاظ کافر، مشرک، خارجی، واجب القتل، زندیق اور گستاخ پر مشتمل ہوں گی. ملک میں برپا فساد اور قتل غارت گری کے اور اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے پر بہت کم لوگ ہیں جن کا دھیان اس طرف گیا ہوگا.\n\nلمحہ فکریہ ہے کہ ہم منبر کی اس نسبت کو بھول گئے جو اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے. ہم نے اپنے کانوں کی لذت کی خاطر یہ عظیم منصب کسی بھی لاعلم کے سپرد کرکے اس کا تقدس پامال کردیا. جن منبروں سے محبت جوڑ بھائی چارے کی آواز اٹھتی تھی اور اٹھنی چاہیے تھی وہاں سے قتل کے فتوے صادر اور فساد کا پرچار ہورہا ہے. یہ منبر عوام الناس میں بیداری شعور کا نہایت عمدہ اور سہل راستہ ہیں مگر انھی سے شعور اور احساسات کا قتل عام ہو رہا ہے. پاکستانی معاشرے میں لوگ جن چند لوگوں کی پیروی کو فخر سمجھتے ہیں، ان میں سے ایک منبر پر بیٹھنے والا شخص بھی ہے، جب یہ شخص اپنے فرض منصبی کو نہیں پہچانےگا تو کوئی دوسرا شخص کیسے اس سے رہنمائی لے گا اور حقیقت تک رسائی پائے گا.\n\nان باتوں کے لکھنے کی وجہ گزشتہ ایک ماہ کے وہ خطبات ہیں جو عمان میں بحثیت خطیب دیے ہیں. دوران خطبہ جہاں بارہا احساس ندامت ہوا، وہیں یہ بات بھی عیاں ہوئی کہ ضروری نہیں کہ معاشی استحکام ہی کلی طور پر امن و امان کا سبب ہو. ان کے پرامن ہونے میں معاشی استحکام کے ساتھ منبر کا صحیح اور مثبت استعمال بھی ہے. یہاں کے عوام میں شعور ان منبروں سے ہی آیا ہے اور یہ لوگ اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں.\n\nاب ایک نظر گذشتہ ماہ کے خطبات کے عنوان پر ڈالیں.\n\n1) عید کے دن کے فضائل اور روزے داروں پر اللہ کے انعامات اور بشارتیں \n2) شوال کے 6 روزوں کی فضیلت اور اس کے فوائد \n3) نوجوانوں کی تعطیلات میں اوقات کی حفاظت اور ان اوقات کا صحیح استعمال \n4) غیر ملکیوں کےساتھ نرمی، حسن سلوک اور ان کی معاونت جس طریقے سے بھی ہو .\n\nقابل تحسین بات یہ ہے کہ سلطنت اس معاملے کو اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے خود دیکھتی ہے اور ہر جمعے کا خطبہ اسی کی طرف سے خطیب کو ملتا ہے جس کا پڑھنا ضروری ہے اور جو خطیب ایسا نہ کرے، اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے.\n\nاب سوال یہ ہے کہ کیا وطن عزیز میں یہ ممکن ہے؟\nجواب ہے. جی بلکل ممکن ہے. حکومت کی طرف سے جب ایک جسمانی مرض (پولیو ) کے لیے ورکرز ایک ایک دروازے پر جاسکتے ہیں تو ایک ذہنی مرض (تعصب) جو ہمیں وقت سے بہت پیچھے دھکیل رہا ہے، کے لیے کیوں تمام مساجد تک نہیں جاسکتے. وفاقی حکومت کو چاہیے کہ تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کرے کہ وہ علما کا ایک پینل اپنے صوبے میں تشکیل دیں جو غیر جانبدار ہو اور معاشرتی مسائل پر گہری نظر رکھتا ہو. وہ پینل وقت اور موقع دیکھ کر اس حوالے سے جمعے کے خطبے کا عنوان اور اس کی حدود متعین کرے اور خطبا کو پابند کریں کہ خطبہ ان حدود سے باہر نہ ہو، خلاف ورزی کے مرتکب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے. ممکن ہے ابتدا میں کچھ دشواریاں ہوں مگر اس راستے سے کسی حد تک ہم ایک باشعور اور تنگ نظری سے پاک معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے. \nبس کوشش شرط ہے .!