ووٹ کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داری - ریاض علی خٹک

ریاض خٹک آوے ای آوے ساڈا فلاں آوے ای آوے\nڈھول کی تھاپ، بھنگڑوں کی ٹاپ، بڑے بڑے پینافلکس، سینے پر لگے بیجز، گرما گرم دیگوں سے اٹھتی بھاپ اور ٹھنڈی ٹھار بوتلوں کے ڈھکن کھلنے کی ٹھکاٹھک، خاندانی اکٹھ اور برادری بلاک، کونوں کھدروں میں ہوتے مول تول اور قسموں وعدوں سے معمور لارے، اس ماحول سے قطع نظر کیا ووٹ کا کوئی اسلامی پس منظر بھی ہے؟ کیا یہ صرف ایک ٹھپہ ہے جو لگایا اور بھول گئے.؟\n\nموجودہ دور میں کاروبار حکومت چلانے کے لیے نظامِ جمہوریت کو اولیت حاصل ہے. جمہوریت کی یہ عمارت عوام کے حق رائے دہی پر ایستادہ ہے. ہر انسانی نظام کی طرح یہ بھی خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ہے. اس میں بھی شک نہیں کہ تاریخ کے آئینے میں انسان کے بنائے نظاموں میں یہ بہتر نظام ہے، اگر یہ اپنی روح کے مطابق بھی نافذ ہو جائے. ہم نہ اس جمہوریت پر بحث کر رہے ہیں نہ آئین کے آرٹیکل 62-63 پر، نہ اس جمہوریت کی دعویدار جماعتوں پر نہ حکومت کی مشینری پر جو اس نظام کے نفاذ کی ذمہ دار ہے. یہاں بحث فرد کی ہے. آیا اس فرد کا ٹھپہ ایک سنجیدہ عمل ہے کہ نہیں؟ آیا یہ ووٹ اس کے اعمال کا حصہ ہے یا بس نری دنیا داری ہے؟\n\nووٹ ایک شہادت ہے. ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہوتا ہے، وہ اس کے متعلق اس بات کی شہادت دے رہا ہوتا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانتدار اور امانت دار بھی ہے. اگر اس شخص میں یہ صفات نہیں ہیں، اور ووٹر یہ جانتے ہوئے بھی بذریعہ ووٹ یہ شہادت دے رہا ہے تو یہ ایک جھوٹی شہادت ہوگی، اور اسلام میں جھوٹی شہادت گناہ کبیرہ ہے. صحیح بخاری میں درج ایک حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کاذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر میں شمار کیا ہے. سو اگر امیدواروں میں سے صرف تعلق، برادری یا ذاتی پسند ناپسند پر ایک غیر دیانتدار شحص کی شہادت کوئی دیتا ہے تو یہ ایک جھوٹی شہادت گردانی جائے گی. اس کذب اور بدیانتی کی ایک اور جہت لابنگ ہے. ہم نہ صرف مطلوبہ شخص کو ووٹ دیتے ہیں بلکہ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے دوست احباب بھی اسی امیدوار کو ووٹ دیں، یعنی ہم سفارش کرتے ہیں. اس پر قران مجید کی ایک آیت کامفہوم ہے کہ جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے، اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے، اور جو بری سفارش کرتا ہے تو اس کی برائی میں اس کا بھی حصہ ہے. سو ووٹ ڈال کر ہم اس فرد کے اعمال میں اس کے حصہ دار بن جاتے ہیں. اس کی ممبری اور وزارت کے دور کی اس کی تمام اچھائیوں و برائیوں میں ہمارا بھی حصہ ہوتا ہے. کیونکہ اُسے ہم نے اپنے ووٹ اور اس کی وکالت سے منتخب کیا اور کروایا ہے. ہماری اسی وکالت نے ہی اسے اس مسند امارت پر بٹھایا ہے.\n\nملت کا ہر فرد یہ جان لے کہ معاشرے میں ووٹ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے, یہ نری دنیا داری نہیں بلکہ ایمان اور گناہ و ثواب کا معاملہ ہے. جس طرح جھوٹی شہادت کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتی ہے اور حرام قرار دی گئی ہے، اسی طرح سچی شہادت واجب اور لازم قرار دی گئی ہے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 'اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور رب کی رضا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو وہ خود تمھارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشہ دار عزیزوں کے. وہ شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو، دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے، اس لیے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا، اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے.\n\nدوستو! یہ ووٹ کھیل تماشا نہیں. نہ تماشائی بن کر معاشرے بنتے ہیں. معاشرہ ذمہ داری اور احساس ذمہ داری سے بنتا ہے. ہر فرد اپنی ذات کےلیے جواب دہ ہے. اپنی جواب دہی میں اس گناہ بے لذت کا حصہ نہ بنیں بلکہ سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں. ورنہ بقول غالب\nکعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب\nشرم تم کو مگر نہیں آتی

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.