اردگانی طریقہ اور مذہبی جماعتیں - اسرار احمد خان

اسرار احمد خان اردگان کی نقل اتارنے کے خواہش مندوں کو پہلے لوکل تناظر پر غور و فکر کرنا چاہیے. نقل اتارنے سے کام چلتا ہوتا تو احمد شہزاد بھی کوہلی بن چکا ہوتا. اردگان ایک ہی ہے، مرسی بھی ایک تھا.\n\nترکی کا اپنا ایک پس منظر ہے، اتاترکی فاشزم کی وہاں عوام میں پوزیشن کیا تھی؟ عوامی شعور کس لیول کا ہے؟ لوگوں کی تعلیم کیا ہے وغیرہ وغیرہ. ان کے بہت سے عوامل مل کر ایک تناظر بنتا ہے پھر کہیں جا کر وہاں ایک اردگان فٹ ہوتا ہے. پاکستان میں مذہبی لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھنا ہے حالانکہ فقہ ساری کا سبق یہی ہے کہ بلیک اینڈ وائٹ میں نہ دیکھو یعنی ایک کے حساب سے بوسے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے دوسرے کے حساب سے نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں دوسرے کی نمازیں ہی باطل ہیں.\n\nاردگان کے معاملے میں ادھر موجود حلقوں میں دو طرفہ انتہا پسندانہ آرا آ رہی ہیں وہی بلیک اینڈ وائٹ. کوئی صلح حدیبیہ اور شراب کی قسط وار حرمت کی مثالیں دے کر حمایت کر رہا ہے اور کوئی سیکولر قوانین کے نفاذ اور یہود و نصاریٰ سے مل کر مسلمان مارنے کی مثالیں دے کر مخالفت کر رہا ہے. اسے خلافت کا ماڈل و منہج ثابت کرنے لگ پڑنا یا ایسا نہ کر سکنے پر پیچھے پڑ جانا عجیب و غریب سطحیت ہے. بھٹو نے جتنا پاکستان میں اسلام نافذ کیا، کسی اور نے نہیں کیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نفاذ دین کا کوئی طریقہ تھا جیسے کچھ فکری یتیم یقین کروا رہے ہیں. ایسا ہی ایک یتیم اسلامی جماعتوں کو نفاذ اسلام کا نعرہ بھلا کر سیکولر بن کر الیکشن لڑنے کے مشورے دے رہا ہے گویا یہی ناکامی کی وجہ ہے یعنی عجیب تر.\n\nپاکستان کے تناظر میں سادی سی تفہیم یہ ہے کہ جب تک اسلامی حکومت، خلافت نہیں آتی یا لائی جاتی تب تک جمہوریت کو سپورٹ کرنا ضروری ہے کیونکہ جمہوریت کی صورت میں عوام میں موجود مذہبی جذبات قوانین میں ریفلیکٹ ہوتے رہتے ہیں اور اس نظام میں عوام جدوجہد کر کے نئے قوانین کو بدلوا بھی سکتی ہے. سیاسی جماعتوں کو آمروں کے مقابلے میں مکمل سپورٹ دینا وقت کی ضرورت ہے اور اسی سے معاشرے، اداروں اور قوانین میں ارتقائی عمل سے بہتری آتی جائے گی. کسی سراج الحق یا فضل الرحمان کو کلین شیو کر کے اور سوٹ پہن کر اردگان بننے کی ضرورت نہیں.\n\nجب تک آپ کا آئیڈیل نظام نہیں آ جاتا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہر چیز مؤخر کر دی جائے، اور راحیل شریف کے مقابلے میں نوازشریف یا نوازشریف کے مقابلے میں پرویزمشرف یا اتاترکی فوج کے مقابلے میں اردگان کو سپورٹ نہ کیا جائے. بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی ہی حق ہوتا ہے. ہمارے ہاں اردگانی معاملہ نہ اس سے اوپر کہیں فٹ ہوتا ہے نہ نیچے. اسٹیبلشمنٹ کے اتحاد سے نکل آئیں، یہی اس کی تشریح ہے مگر اس پر بھلا مذہبی جماعتیں کہاں تیار ہوتی ہیں؟