کتب اور سافٹ ویئرز کی پائریسی کا نوحہ - ابو محمد مصعب

ابومصعب مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں نیٹ سے کتب اور سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے کی بھی اجازت لینی پڑتی ہے اور بلا اجازت کاپی کرنا، ڈاؤن لوڈ کرنا یا ری پروڈیوس کرنا جرم ہے اور ادارہ اگر چاہے تو اس فرد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتا ہے۔\nہمیں ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ جو سافٹ ویئر تیار ہوتے ہیں یا جو کتب لکھی جاتی ہیں ان کے پیچھے کتنی محنت اور وسائل خرچ ہوتے ہیں، کتنے ہاتھوں سے کتاب ہوتی ہوئی، پڑھنے والے تک پہنچتی ہے. ان تمام مراحل سے وابستہ افراد کا روزگار بھی انھی کتب سے وابستہ ہوتا ہے. اگر یہی چلن رہا تو پھر معیاری کام ناپید ہونے کا خدشہ ہے. ترقی یافتہ ممالک میں اسی لیے اتنی معیاری کتب اور اتنے شاندار سافٹ ویئر بنتے رہتے ہیں کہ ان سے وابستہ افراد کو بھی اچھی آمدن مل جاتی ہے. اب تو انڈیا تک میں سافٹ ویئر ڈیزائن کرنے والوں کو تحفظ دینے لیے کافی قانون سازی ہو چکی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت آگے آچکی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر قانون ہے بھی تو اس پر عمل نہیں ہوتا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک کوئی ایک قابل ذکر سافٹ ویئر ہمارے یہاں سے بن کر دنیا میں مقبول نہیں ہوا.\nسعودی علماء کے نزدیک پائریسی ایک گناہ بھی ہے کہ آدمی دوسرے کا مال بلا اجازت لے رہا ہوتا ہے.\nیہاں یواےای ایک دوست نے بتایا کہ اس نے کسی زمانہ میں دبئی میں قرآن کے مشہور قاریوں کی سی ڈیز بڑی تعداد میں کاپی کیں اور پھر دفاتر اور دکانوں پر جا جا کر فروخت کرنا شروع کردیں. یہ کام بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہا تھا کہ ایک دن میں ایک دفتر میں چلا گیا جہاں ایک فلسطینی نوجوان بیٹھا تھا. اس نے جب سی ڈی پر لگے ٹائٹل کو پڑھا جس پر بلا اجازت کاپی بنانے اور فروخت کرنے کی ممانعت عربی میں درج تھی تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے اس کو کاپی بنانے کی اجازت اس ادارے سے لے لی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں اجازت تو نہیں لی۔ اس نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ نہ صرف قانوناََ جرم ہے بلکہ اخلاقاََ بھی درست نہیں. وہ دوست کہتا ہے کہ میں نے اسی وقت وہ کام چھوڑ دیا اور اس فلسطینی سے کوئی رقم بھی نہ لی، ویسے ہی اسے وہ سی ڈی دے دی.\nپاکستان میں نہ صرف ہمیں یہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے بلکہ حکومت کو بھی اس جانب متوجہ ہونا چاہیے اور نہ صرف قانون سازی کرنی چاہیے بلکہ اس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنانا چاہیے.