پھر ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا - محمد نعمان بخاری

نعمان بخاری ہمیں اچھی طرح یاد ہونا چاہیے کہ خدا نے تمام بنی آدم کو پُشتوں سے ظاہر فرما کر وقتِ الَست ایک اہم عہد لیا تھا کہ اَلستَ بِربکم.. (کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟). ہم نے اپنی مرضی اور اختیار سے یہ اقرار کیا تھا کہ بے شک ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں. تب خدا نے فرمایا تھا کہ اس بات کو بھول نہ جانا کہ روز قیامت کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہیں؟\n\nکیا کہا؟ آپکو یاد نہیں ہے؟ واقعی؟ اچھا اپنا دائیاں کان میرے قریب کرو اور بائیں میں انگلی ڈالو. یار ویسے آپس کی بات ہے کہ مجھے بھی یاد نہیں ہے،، تھوڑا سا بھی نہیں. میں نے بہت دماغ لڑایا، بہتیرا سوچا، اپنے احساس کو دور، کہیں بہت ہی دور لے جانے کی جدوجہد کی،، کافی دیر آنکھیں موندے لائٹ بجھائے تخلیہ کیا، مگر عہد ہے کہ مجال ہے ذرا یاد آ جائے. پھر کیسے مان لوں کہ واقعتاً مجھ سے ایک ایسا وعدہ لیا گیا جس کی مجھے خبر ہی نہیں؟ کمال ہے بھئی،، یہ تو گویا سیاستدانوں والا وعدہ ہوا کہ جھٹ کیا اور پَٹ بھلا دیا.!\n\nہفتے کے روز مجھے دفتر سے چھٹی ہوتی ہے تو میں عموماً صبح کو دکان سے دودھ لینے چل نکلتا ہوں، اس بہانے ہفتہ وار مارننگ واک بھی ہو جاتی ہے. پچھلی بار جب میں دودھ لے کر واپس آرہا تھا تو راستے میں ایک دوست نے لفٹ دی اور رہائش تک چھوڑ گیا. آج واپسی پہ وہ مجھے خواہ مخواہ یاد آگیا. خیالوں پہ بھلا کس کا بس چلتا ہے، سو اگلا خیال یہ آیا کہ اُس دن ہم نے میس میں کون سا سالن بنایا تھا؟ ذہن پہ زور دیا تو یاد آیا کہ شاید آلو گوبھی پکائی تھی. پھر خیال کوندا کہ اُس سے پچھلے ہفتے اور پھر اُس سے پچھلے ماہ ہم نے کیا کھایا تھا؟ ارے یہ کیا.! مجھے میری ایک پرانی خلش کا جواب مل رہا تھا جو ملحدین کے مباحثے میں تب پیدا ہوئی تھی جب میں ایک ملحد کے عہدِ الست پر اٹھنے والے اعتراض کا آسان فہم اسلوب میں ازالہ نہ کر سکا تھا.!\n\nمیں نے اپنے مکمل ہوش، کلی اختیار اور پورے شعور کے ساتھ جنوری کی تین تاریخ کو جو کچھ کیا تھا، اب میرے ذہن سے مٹ چکا ہے. میں یکسر بھول گیا ہوں کہ میں مارچ کی انیس تاریخ کو کس کس سے کہاں ملا تھا اور میں نے کیا کچھ بولا تھا. ہاں ایک طریقہ ہے یاد رکھنے کا کہ اپنے ہر لمحے کو کہیں لکھ کر محفوظ کر لیا جائے،، جیسا کہ میں نے میس میں پہنچ کر حساب والی کتاب اٹھائی، پچھلے ہفتے کا گوشوارہ دیکھا تو علم ہوا کہ اوہ، ہم نے آلو گوبھی نہیں بلکہ اپنے ذاتی فیصلے اور ارادے سے دال چنا پکائی تھی، جس کے لیے ہم پر کسی کا کوئی جبر اور پریشر نہیں تھا، پھر بھی نجانے کیونکر بھول گیا. آپ کو بدگمانی سے بچانے کےلیے واضح کرتا چلوں کہ ہم کھانے پینے کے معاملے میں کنجوس بالکل بھی نہیں ہیں، کیونکہ ہم نے ابھی کل ہی تو چکن بریانی اور پرسوں کڑاھی گوشت بنایا تھا. مگر اگلے سال تک میں یہ سب بھول چکا ہوں گا..!\n\nبھول جانا یا بُھلا دیا جانا ہم انسانوں کی ایک بِلٹ اِن خصلت ہے. یہ کبھی ہمارے لیے انعام ثابت ہوتی ہے تو کبھی امتحان. دار دنیا میں یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم عہد الست کے لمحے کو بھلا چکے ہیں،، بالکل ویسے جیسے ہمارے ماضی کے کئی واقعات ہمارے ذہن سے غیر ارادی طور پر محو ہو گئے ہیں. لیکن فطرت سلیم رہے تو ہمارا ضمیر ہمیں ہمیشہ یاد دلاتا رہتا ہے کہ "خبردار! دیکھو تم عہد کی پاسداری نہیں کر رہے، یہیں رک جاؤ.." کہیے! یاد دلاتا ہے یا نہیں؟ اگر بالفرض نہیں دلاتا تو کتابِ مبین اُٹھا کے دیکھ لو. یاد کرنے کی "نیت" سے پڑھو اور سوچو گے تو کتاب میں عہد نامے کی ساری شقیں لکھی پاؤ گے. احساس کو جتنا چاہے وسیع اور پختہ کر لو، تب بھی ضروری نہیں کہ عین وہی منظر آپ کو دکھائی بھی دینے لگے، جیسا کہ مجھے کماحقہ احساس اور حقیقی ادراک نہیں ہو پا رہا کہ کہ مجھ پہ نومبر دو ہزار تیرہ کی کسی خنک صبح کو کیا بیت رہی تھی، حالانکہ تب میں اپنے مکمل حواس میں تھا. چلیں چھوڑ دیں یہ سب اُلجھی اُلجھی باتیں،، اگر آپ اتنے ہی لاپروا ہیں کہ خدا کی گواہی کو کافی نہیں سمجھتے تو پھر کچھ مزید دن عیاشیاں کر لیں. کر لیں اپنی نفسانی خواہشات کی اندھی پیروی. مہلت تمام ہونے اور سانسیں تھمنے کی دیر ہی تو ہے. پھر "حساب کی کتاب" میں سب کہا سُنا اور کیا دھرا آنکھوں کے سامنے ہو گا. پھر آپ جانو گے کہ اوہ واقعی، ہم سے ایک عہد تو لیا گیا تھا.. تب یہ نہ کہنا کہ "کاش مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی. کاش میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے. کاش دنیاوی موت ہی میرے لیے فیصلہ کُن ہوتی. وائے ناکامی، آج یہاں کوئی کسی کا یار اور غمگسار نہیں ہے."\nدراصل یہ صرف پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے جو کتاب (نامہ اعمال) کے ملنے اور اپنے رب سے ملاقات ہونے پر کامل یقین رکھتے ہیں.. فھل مِن مدَّکر؟؟