انتہاپسند مذہبی، جمہوری، سیکولر و لبرل چٹکلے - ارمغان احمد

اس مضمون میں ارادتاً مذہبی، جمہوری، سیکولر اور لبرل انتہا پسندانہ و دوغلے رویوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ اس لیے مصنف یہ امید رکھتا ہے کہ کوئی بھی انتہا پسند اس سے متفق نہیں ہوگا۔ مگر سوچنے پر مجبور ضرور ہوگا ان شا اللہ۔ اور یہی دلیل کی وہ طاقت ہے جو جلد یا بدیر پاکستان کو بہتری کی طرف لے آئے گی۔\n\n• امریکا نے جاپان پر جو ایٹم بم گرائے تھے وہ امن کے لیے تھے\n\n• ہٹلر نے یہودیوں اور انسانیت پر بہت ظلم کیا تھا مگر امریکا کے ایٹم بموں نے انسانیت کی خدمت کی تھی\n\n• مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا آزادی اظہار رائے کا حصہ ہے اور ہولوکاسٹ کے بارے میں کسی شک کا اظہار کر کے یہودیوں کے جذبات مجروح کرنے پر پابندی ہونی چاہیے\n\n• ہماری تاریخ محمد بن قاسم سے نہیں اشوکا سے شروع ہوتی ہے۔ مسلمان حملہ آور تھے جبکہ دراوڑوں کے لیے آریا امن و محبت کا پیغام لے کر آئے تھے ان کو ملیچھ بنا کر\n\n• عراق پر حملہ اور لاکھوں بچوں، عورتوں اور سویلینز کا مرنا محض ایک غلطی تھا جبکہ نائن الیون میں چار پانچ ہزار لوگوں کا قتل بدترین دہشت گردی\n\n• "اسلامی جمہوریہ پاکستان" کے تحفظ کے لیے لڑنے والے تو شہید نہیں ہیں مگر "سیکولر ترکی" کے "سیکولر" آئین کے تحفظ کے لیے لڑنے والے شہید ہیں\n\n• اردگان کا محض شک پر بغیر کسی انکوائری کے، بغیر کسی عدالتی کارروائی کے ہزاروں لوگوں کو روزگار سے محروم کر دینا اور جیل میں ڈال دینا سو فیصد درست ہے جبکہ ٹی ٹی پی والے ہمارے اپنے ناراض بچے ہیں\n\n• اردگان تو بہت ظالم ہے مگر بشار الاسد باغیوں سے نمٹ رہا ہے\n\n• ایران یا سعودیہ میں تمام مذہبی عقائد رکھنے والے مسلمانوں کے حقوق برابر ہیں\n\n• ہمیں ترکی کی عوام سے سیکھنا چاہیے کہ جمہوریت کیسے بچاتے ہیں مگر آئس لینڈ کے عوام سے یہ ہرگز نہیں سیکھنا چاہیے کہ جمہوریت میں کرپٹ حکمران کو جوابدہ کیسے بناتے ہیں۔ اس سے "سسٹم" خطرے میں پڑ جاتا ہے\n\n• کشمیری دہشت گرد ہیں جبکہ آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ والے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے\n\n• چی گویرا اور بھگت سنگھ ہماری انسپائیریشن ہونے چاہییں جبکہ برہان وانی دہشت گرد ہے\n\n• بلوچستان میں جو ہو رہا ہے وہ جائز ہے جبکہ خالصتان تحریک تو سکھ انتہا پسندوں کی ہے جی\n\n• افغانیوں کی غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد ناجائز جبکہ ایسٹ تیمور میں عیسائیوں کی اپنے ہی ملک سے لڑائی سو فیصد جائز تھی\n\n• اسلام تلوار کے بل پر پھیلا جب کہ آسٹریلیا میں ایب اوریجنلز اور امریکا میں ریڈ انڈینز کو نہایت پرامن طریقے سے نسل کشی کر کے معدوم کیا گیا\n\n• ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کے باوجود باقی مذاہب کا قائم رہنا جبکہ سپین میں سات سو سالہ حکومت کے باوجود اگلے محض پچاس سال میں عیسائیت کے سوا کسی مذہب کا باقی نہ بچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام "عدم برداشت" کا کس قدر "سبق" دیتا ہے\n\n• پاکستان میں آج تک عوام نے کسی مذہبی انتہا پسند جماعت کو اکثریت نہ دلا کر جبکہ بھارت میں ایک ڈکلیئرڈ دہشت گرد کو اکثریت دلا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں سیکولرازم کس قدر ضروری ہے\n\n• پاکستان میں ایک خاتون کے دو بار جنرل الیکشن میں اکثریت لینے، وزیراعظم بننے جبکہ امریکا میں آج تک کوئی خاتون صدر منتخب نہ ہونے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ خواتین کے بارے میں کس قدر تنگ نظر ہے\n\n• لوگوں کو لباس اتارنے کی آزادی جبکہ اپنی مرضی کا لباس پہننے پر جرمانے کرنا ہی تو لبرل ازم ہے\n\n• پاکستانیوں کو فلسطین وغیرہ کی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ میرا پیرس حملے کے بعد ڈی پی بدلنا میری روشن خیال اور انسانیت دوستی کی مثال ہے\n\n• پیرس پر ڈی پی بدلنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ رابعہ، مرسی، اردگان، فلسطین وغیرہ پر ڈی پی بدلنا میری "مسلمان انسانیت" کا منہ بولتا ثبوت ہے\n\n• اردگان کے مثبت کردار کی تعریف کرنا جبکہ منفی کردار پر تنقید کرنے کا مطلب ہے کہ آپ "کنفیوزڈ" ہیں۔ دراصل بین السطور میں آپ کو "اسلام دشمن" اور متعصب کہنے سے بھی نہیں چوکوں گا\n\n• جمہوریت کا مطلب محض ووٹ دے کر حکومت کو پانچ سال کا "لائسنس ٹو کل" دینا ہوتا ہے۔ اس دوران جو بھی شخص کرپشن، دھاندلی وغیرہ پر احتجاج کرے اسے جمہوریت کے خلاف سازش اور لندن پلان وغیرہ کہنا "جمہوریت کا حسن" ہے\n\n• مذہب کو بطور ایک آلہ استعمال کرنے والے ڈکٹیٹر کی گود میں جنم لینے والے فنانس منسٹر، چیف منسٹر اور پھر شریعت بل پیش کر کے امیر المئومنین بننے کی کوشش کرنے والے وزیراعظم سے زیادہ لبرل ازم اور جمہوریت کا محافظ کوئی نہیں ہو سکتا اور اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ ہر وہ شخص ہے جو اسے چیلنج کرے\n\n• جو قوم اپنے جمہوری حکمرانوں کو جوابدہ نہیں بنا سکی وہ ٹینکوں کے سامنے لیٹے گی\n\n• جو لوگ ڈبل پی ایچ ڈی، ڈاکٹر یا انجینئر ہونے کے باوجود پنجاب یا سندھ پولیس کے ایک سپاہی سے ماں بہن کی گالیاں سن کر سر جھکا کے گھر آ جانے پر مجبور ہوں، وہ مارشل لاؤں کے خلاف کھڑے ہوں گے\n\n• حسینہ واجد بنگلہ دیش میں جو کر رہی ہے انتہائی غلط ہے مگر اردگان ترکی میں اس کا مردانہ ورژن بن رہا ہو تو میں اس کی وکالت کرنا اپنے ایمان کا تقاضا سمجھتا ہوں\n• بنگلہ دیش میں عدالتی کارروائی کے بعد ہونے والی انتقامی کاروائیاں غلط ہیں مگر اردگان کا ڈھائی تین ہزار ججوں کو ہی اڑا دینا درست!\n\n• چاہے پاکستان کا آئین سیکولر ہو جائے، میں اسے تب تک سیکولر نہیں مانوں گا جب تک کہ پاکستان کے خصوصی زمینی حقائق کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی ترمیم واپس نہیں لے لی جاتی اور اگر محض یہ ترمیم واپس لے لیں تو میں پاکستان کے آئین کو سیکولر بنانے کا مطالبہ بھی بند کر دوں گا (یہاں مصنف نے آنکھ مارنے کی کوشش کی تھی مگر اپنی ازلی شرافت کی بنا پر دونوں آنکھیں بند ہو گئیں)\n\n• ایرانی نژاد پاکستانیوں، سعودی نژاد پاکستانیوں کے بعد اب ترک نژاد پاکستانیوں نے بھی مورچے سنبھال لیے ہیں پاکستان میں۔ اپنے ملک میں کچھ ٹھیک کرنا نہیں، ساری الٹی پالیسیز کی وکالت کرنی ہے مگر پوری دنیا کا درد جگر بھی پال کر رکھنا ہے