خلافت عثمانیہ کی یاد میں... عبدالقادر حسن

m-bathak.com-1421902610abdul-qadir-hassan\n\nاسلامی تاریخ کا ذوق رکھنے والوں کے لیے یہ کل کی بات ہے کہ استنبول کا شہر ان کی یادوں اور خوابوں کا شہر تھا جہاں ان کی عثمانی خلافت کا پرچم پانچ چھ سو برس تک لہراتا رہا اور ایک دنیا پر سایہ فگن رہا۔ مغربی طاقتوں کو اتنی بڑی اسلامی حکومت اور اس قدر پھیلتا ہوا اقتدار ناقابل برداشت تھا۔ یہ ایک درد ناک کہانی ہے کہ مسیحی مغربی طاقتوں نے استنبول جیسے خوبصورت شہر سے حکمرانی کرنے والی اس حکومت کو بالآخر ختم کر دیا اور استنبول کی خواتین کے پاس صرف وہ زیورات نشانی کے طور پر باقی رہ گئے جو دنیا بھر کی مسلمان خواتین نے ان کی محبت اور مدد کے لیے تحفے میں بھجوائے تھے۔\n\nان زیورات میں ایک بڑی مقدار ان زیورات کی بھی تھی جو ہندوستان کی مسلم خواتین نے تحریک خلافت کے دوران ترکوں کو تحفہ میں بھجوائے تھے کہ ان کو بیچ کر اپنی جنگ اور جہاد جاری رکھیں۔ ترکی کی بزرگ خواتین کے پاس یہ زیورات اب تک محفوظ ہیں جو انھیں بے حد عزیز ہیں اور جن کی قیمت دنیا کے مال میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ جب کوئی سیاح  ہندوستان سے ترکی جاتا تو یہ خواتین کبھی بڑے فخر کے ساتھ اسے یہ تحفے دکھاتیں اور ان کے آنسوؤں کی سوغات لے کر یہ سیاح واپس ہندوستان آتے جو خلافت عثمانیہ کی تحریک کا مرکز تھا اور جس تحریک کی یادیں اب تک زندہ ہیں۔\n\nآپ کو تعجب ہو گا کہ ہندو لیڈر گاندھی بھی تحریک خلافت میں شامل تھا اور بات یہ تھی کہ یہ تحریک برطانوی سامراج سے نجات کی تحریک تھی اور گاندھی جی سامراج کی مخالف تحریک کے لیڈر تھے۔ میں استنبول یا قسطنطنیہ کو حافظے سے ذرا جھٹک کر آج کے ترکی بات کر رہا ہوں جہاں کے مسلمانوں نے اپنی ناپسندیدہ حکومت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور دنیا نے اسے بغاوت کا نام دیا ہے جس میں کئی جرنیل اور اعلیٰ ترین سول افسر برطرف کیے گئے ہیں۔ میرے لیے ایک مسلمان ملک کے عوام سے اس بغاوت کی توقع نہ تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ترکی میں ابھی تک ماضی کی آزادی کا کوئی کیڑا زندہ ہے جو اس قوم کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتا اور اس کے دماغ میں کلبلاتا رہتا ہے۔\n\nترکی محض ایک ملک نہیں تھا یہ عالم اسلام کی ایک زندہ حقیقت تھی جو مغرب نے بڑی ہی محنت اور قربانی کے ساتھ ختم کی تھی اور جو اس کے وجود کے لیے ایک خطرہ تھی۔ یہ ایک تاریخ ہے کہ خلافت عثمانی کو ختم کرنے کے لیے کیا کچھ کیا گیا اور مغربی دنیا نے کتنی قربانی اور حکمت عملی کے ساتھ اس خلافت کو ختم کیا جو اگر زندہ رہتی تو مغربی دنیا کے لیے زندہ رہنا آسان نہ رہتا۔ عثمانی خلافت کی ایک طویل تاریخ ہے جو کوئی چھ سو برس تک دنیا پر حکمرانی کرتی رہی۔ بڑے بڑے نامور اور بلند پایہ حکمران اس خلافت کے نگران رہے اور وہ زمانہ تاریخ کو اچھی طرح یاد ہے جب مغربی ملکوں کے شاہی خانوادے نیا بادشاہ مقرر کرنے کے لیے عثمانی خلیفہ کی منظوری کا انتظار کیا کرتے تھے۔\n\nسلطان سلیمان عالی شاہ کا یہ ارشاد دنیا کو یاد ہے کہ جہاں میرے گھوڑے کے قدم پڑ جاتے ہیں وہ جگہ میری حکومت میں شامل ہو جاتی ہے اور حقیقت بھی ایسی ہی تھی۔ عثمانی سپاہ جس طرف کا رخ کر لیتی وہ علاقہ عثمانی خلافت کا علاقہ تسلیم کر لیا جاتا کیونکہ جو طاقت عثمانی خلافت کے پاس تھی وہ کسی کے پاس نہیں تھی اور عثمانی لشکر کا مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا۔\n\nبوڑھے سلطان سلیمان کو یہ رنج رہا کہ وہ آسٹریا فتح نہ کر سکا جس کی راہ میں ایک تو اس کی عمر حائل ہو گئی دوسرا سخت ترین سرد موسم جو عثمانی لشکر کے لیے ناقابل برداشت تھا اور اس موسم میں جنگ نہیں کی جا سکتی تھی اگر بعض جرنیلوں کی ہمت یہ تھی کہ سلطان اجازت دیں تو وہ یہ معرکا بھی سر کر لیں لیکن سلیمان نے ان کی بات کو درست تسلیم نہ کیا اور اسے ایک جذباتی فیصلہ قرار دیا اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ آسٹریا والوں نے اپنے ملک کی سرحد پر ایک سپاہی کو مُکّہ تانے دکھایا جو اب تک سنا ہے کہ موجود ہے اور یہ  مُکّہ گویا عثمانی حکومت کے لیے تھا کہ خبردار اگر آگے بڑھنے کی کوشش کی گئی۔ بہرکیف تاریخ میں ایسے لطیفے بہت ہیں۔\n\nخلافت عثمانیہ جس نے دنیا فتح کر لی تھی اس کے لیے ایک چھوٹا سا یورپی ملک کیا تھا لیکن سلطان سلیمان عمر بھر اپنے بڑھاپے اور سخت موسم پر نالاں رہا۔ موسم بہتر ہوا تو سلطان کو حملے کا مشورہ دیا گیا لیکن اس نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بہرکیف یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک خوش قسمتی سے عثمانی سپاہ کی توپوں کی گھن گرج سے بچا رہا اور وہ وقت کی فوجی سپر پاور سے بچ جانے کا جشن اب تک مناتا ہے اور واقعہ یہی ہے کہ وہ عثمانی سپاہ سے بچ نکلا تھا مگر ترکی کی ناپسندیدہ حکومت نہ بچ سکی اور اسے جمہوریت سے شکست ہو گئی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */