بہانہ پرویز خٹک، نشانہ نواز شریف- آصف محمود

asif mehmoodاندر کی کوئی خبر میرے پاس نہیں ہوتی۔ میں بالعموم دستیاب خبر پر تبصرے تک محدود رہتا ہوں۔ گذشتہ کچھ دنوں سے کچھ ایسے احباب جن کے پاس گاہے اندر کی خبریں ہوتی ہیں، یہ دعویٰ کرتے پائے گئے ہیں کہ عمران خان آج کے کنونشن میں پرویز خٹک کی وزارت اعلیٰ کا خاتمہ کرسکتے ہیں ۔\n\nیہ خبر مجھے درجنوں دوست سنا چکے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کی صفوں میں موجود سکون بتا رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں ڈور کا کوئی سرا اہل صحافت کی نظر سے اوجھل ہے۔ یا تو یہ خبر درست نہیں یا پھر پر ویز خٹک کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے اور اصل نشانہ خٹک صاحب نہیں نواز شریف صاحب ہیں۔\n\nعمران خان پرویز خٹک کے خلاف ایسا کوئی فیصلہ کیوں کریں گے۔ جہانگیر ترین خٹک کی پشت پر ہیں اور تحریک انصاف میں جس کے ساتھ ترین صاحب ہوں اس کا کوئی مائی کا لال بال بیکا بھی نہیں کرسکتا اور مائی کا وہ لال تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا جس کی جیب میں اپنا بٹوہ تک نہیں ہوتا اور جس کا مبینہ طور پر اے ٹی ایم مشینوں پر بہت انحصار ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی سامنے کی بات ہے کہ اس موقع پر اپنے ہی وزیر اعلیٰ کی چھٹی کراکے اپنے خلاف فرد جرم خود ہی لگا دینا کوئی دانش مندی نہیں۔ ایک داخلی اضطراب بھی تحریک انصاف کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی خٹک صاحب کی مدد کو آسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ خدشات کی ایک طویل فہرست ہے جو بتا رہی ہے کہ یا تو یہ سب صرف افواہ ہے اور بات اگر درست نکلتی ہے تو پھر بات اصل میں کچھ اور ہے۔\n\nاگر یہ بات درست نکلتی ہے تو اس کا مطلب ہے پرویز خٹک کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے اور اصل نشانہ نواز شریف ہیں۔ پرویز خٹک سے کہا جا سکتا ہے آپ پر الزامات ہیں آپ جب تک ان الزامات سے خود بری الذمہ قرار نہیں دے لیتے تب تک تحریک انصاف آپ کو معطل کرتی ہے۔\n\nاس کے بعد ایک شور اٹھے کہ نواز شریف پر بھی الزامات ہیں۔ وہ بھی ایسا ہی کریں۔ جب تک الزامات سے خود کو کلیئر نہیں کراتے وزارت عظمی چھوڑ دیں۔۔۔۔ ساتھ ہی ایک تحریک شروع ہوجائے ۔\n\nمیں نے عرض کی کہ میرے پاس اندر کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ دستیاب خبر پر تبصرے تک ہی محدود رہتا ہوں۔ یہ افواہ یا خبر چونکہ نصف درجن سے زائد ذرائع نے دی جن کا اندر کی بات تک رسائی کا دعویٰ ہے، اس لیے اس پر ایک امکانی تبصرہ کر دیا۔۔۔ یہ خبر ہے یا افواہ اس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */