قندیل بلوچ ، چند سوال - عائشہ غازی

قندیل کو قندیل کس نے بنایا ؟ اس کی بے حرمت، بے قیمت زندگی اور اندوہناک موت کا ذمے دار کون ہے؟ اس بارے میں گزشتہ چند دن میں جو آرا نظر سے گزریں ، ان میں اکثریت ان کی ہے جنھوں نے یہ عادت بنا لی ہے کہ کوئی موضوع ملے اور لٹھ اٹھا کر "معاشرے" پر برس پڑیں، "تنگ نظری" اور "عدم برداشت" ، دو ایسی اصطلاحات مل گئی ہیں جنھیں استعمال کرنے کے لیے کسی غور و فکر ، معاشرے کے رجحان، اکثریت کا اخلاقی معیار ، اس معیار کا ماخذ کسی پہلو پر غور کرنے کی ضرورت نہیں. بس کچھ بھی ہو جائے ، لٹھ اٹھاؤ اور اس معاشرے پر برس پڑو.

کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ قندیل کی اس مظلوم زندگی اور مظلوم تر موت میں قندیل کے اپنے لیے چنے گئے راستے کا کتنا ہاتھ تھا. کسی نے معاشرے کی بچیوں کو یہ نہیں بتایا کہ برائی کے دو منطقی انجام ہیں ، توبہ یا عبرت آمیز ہلاکت کسی بھی رائے کو عادت بنا لینے میں سوچنا سمجھنا نہیں پڑتا، حالات کو اپنے اوپر لاگو کر کے نہیں دیکھنا پڑتا ، اپنے اوپر کوئی عقل کا معیار مقرر کرتے ہوئے اپنی عقل کا مواخذہ نہیں کرنا پڑتا. رائے جب عادت بنا لی جائے تو فہم بے کار ہو جاتا ہے. لیکن یہ بھی تب سمجھ آتا ہے جب فہم مستعمل ہو.

تو عمومی آرا یہ ہیں کہ قندیل کو معاشرے نے قندیل بنایا۔ کیسے ؟ اس کا جواب نہیں ملتا. کیا یہ معاشرہ اتنا غلیظ ہے کہ اس معاشرے میں رہنے والی عورت جب تک سر بازار جسم کی نمائش نہ کرے، وہ عزت سے زندگی نہیں گزار سکتی؟ کیا یہ وہی معاشرہ نہیں جس میں باپ بھائی شوہر عورت کو ضروریات زندگی اور حفاظت مہیا کرنے کی غیر مشروط اور غیر معینہ ذمے داری اٹھاتا ہے؟ کیا قندیل کے پاس باعزت زندگی گزارنے کی کوئی آپشن نہیں تھی؟

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

اور جو راستہ اس نے چنا ، اس راستے پر اس کو لانے والے کون لوگ ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں جو بدلتی ہوئی اقدار کے باوجود معاشرے میں مطعون ہیں؟ جو لوگ قندیل جیسی اونچے خواب دیکھنے والی عام لڑکی کو اس کے خوابوں کے پیچھے بھگاتے ہوئے تاریک راستوں تک لے جاتے ہیں. جو ان لڑکیوں کو بازار میں رکھی انٹرٹینمنٹ بنا دیتے ہیں، کیا یہ معاشرہ انھیں شاباش دیتا ہے؟ تو پھر ہر معاملے میں معاشرہ ملعون کیوں؟ یہ ہر لمحے خود کو لعن طعن کرتا ہوا رویہ ایک نفسیاتی بیماری نہیں جسے لوگ اب رائے کی عادت کے طور پر اپناتے جا رہے ہیں؟

قندیل کے معاملے میں انٹرنیشنل میڈیا نے جس طرح پاکستانی معاشرے کو رسوا کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی. اسے عورتوں کے حقوق کی مدعی بتاتے ہوئے نہ میڈیا یہ سوچتا ہے اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں موجود مغربی میڈیا کے اندھے پیروکار یہ سوچتے ہیں کہ قندیل عورتوں کے کون سے حقوق کی جنگ لڑ رہی تھی؟ کون سے حقوق؟ اور اس سارے قصے میں مولوی کیسے دشنام کی زد میں آ گئے؟ نہ تو قندیل کو قندیل بنا کر زندہ کھانے والے مولوی تھے اور نہ اسے بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے والا کوئی مولوی تھا، بلکہ اس کا باپ تک مولوی نہیں تھا جو بیٹی کو بیٹا کہہ کر اس کی کمائی کھاتے ہوئے آنکھیں موندے رہا کہ بیٹا معاشرے میں ان ذرائع سے پیسہ نہیں کما سکتا جن تاریک راستوں سے اس کی بیٹی گزر رہی ہے. ہاں اگر کسی مولوی نے قندیل کو متبادل راستہ دکھانے کے بجائے اس کے ساتھ سیلفی لینے کو ترجیح دی تو اس مولوی کو مولویوں سے لے کر غیر مولوی طبقے تک، سب نے اسے لعن طعن کی اور اس کا سلسلہ ابھی جاری ہے، لیکن ایک فرد کی برائی کو معاشرے کا مجموعی چہرہ بنا کر پیش کرنا، اگر سوچی سمجھی سازش نہیں تو کم سے بد ترین ناانصافی ضرور ہے.

یہ بھی پڑھیں:   میڈیا بازاری بن گیا ہے - حبیب الرحمن

اچھا، برا یا بہت برا، پاکستان بہرحال اکثریتی آبادی میں مسلمان ملک ہے اور اس معاشرے میں معیار ، حقوق اور فرائض بہرحال وہی تسلیم ہونے چاہییں جو اللہ نے ہمارے درمیان مقرر کر دیے. انھی پر معاشرے کی عظیم اکثریت چلتی ہے. اگر اللہ کے معیار حرف آخر ہیں تو عقل کا جھگڑا کیوں؟ بہرحال کسی اور انسان کی عقل میرے لیے معیار مقرر کرنے کے قابل نہیں، ویسے ہی جیسے میری عقل کسی اور انسان کے لیے معیار مقرر نہیں کر سکتی. ایسے میں فلاح صرف اللہ کے مقرر کردہ معیار ہی کو مان لینے میں ہے

Comments

عائشہ غازی

عائشہ غازی

برطانیہ میں مقیم عائشہ غازی وکیل، سماجی کارکن، ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ، اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔ تھر اور ڈرون متاثرین پر ڈاکومنٹری بنا چکی ہیں۔ جذبات شعر کی صورت ڈھالنے کا ہنر رکھتی ہیں، شاعری کی دو کتب شائع ہوئی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشاء اللہ ، بہت اعلیٰ لکھا آپ نے۔۔۔ بلکہ خواتین کے حقوق اور اس قسم کے معاملات میں آپ جیسی بہینیں زیادہ بہتر آواز اٹھا سکتی ہیں،

  • میں بہت متاثر ہوا آپ کی تحریر سے کیونکہ کسی نے بهی اس مسئلے کی گہرائی کو نہی سمجھا لیکن سستی شہرت حاصل کرنے والے کرداروں سے متاثر ہو جاتے ہیں اس لئے خود بهی اسی روش کے قائل ہو گئے ہیں. سوشل میڈیا پر معروف ہونے کیلئے ہمارا معاشرہ خود قندیل بلوچ بننے میں ایک لمحہ بهی نہیں لگاتا. اور میں سمجهتا ہوں کے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب خالی دماغ کے مالک ہیں ہمارے پاس کوئی زاتی رائے اور نظریہ موجود نہیں اس لئے ہوا ہے رخ کے ساتھ ہو لیتے ہیں. خواہ وہ ہوا موسمی تبدیلی کے باعث چلی ہو یا پهر کسی ماسٹر مائنڈ نے سوچی سمجھی سازش کے تحت درپیش مسئلے کو ہوا دی ہو. ہم یہ سوچنا پسند ہی نہیں کرتے کے یہ بنے بنائے ٹیمپلٹس ہمیں کون مہیا کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے. اور یہ پریکٹس اتنی زیادہ کروا دی جاتی ہے کے پهر اگر کوئی کتنی بهی بڑی دلیل سے اس نظریے کی خلاف ورزی کرے کوئی سسننے کو تیار نہیں ہوتا.