اصطلاحات اور بیانیے چھوڑیے صاحب!

1463576_258002777680784_890062117_nافکار و نظریات کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی معاشرے کے فکری زاویوں کو تبدیل کرنے کا آغاز ہوا، ذہنوں میں موجود صدیوں کے افکار کو تبدیل کرنے کی مہم شروع ہوئی، عقیدت کے مراکز سے تعلق ختم کرنے کی جدوجہد کی ابتداء ہوئی، مانے ہوئے عقائد میں دراڑیں ڈالنے کا عمل شروع ہوا تو اس مہم، جدوجہد اور کوشش کی ابتداء خوش کن نعروں اور دلکش اصطلاحات سے ہوئی. مارٹن لوتھر نے ٹریڈیشنل عیسائیت پر کاری وار کا آغاز "اصلاح " اور "پاپائیت سے نجات" کے خوشنما نعروں سے کیا. ماڈرن ازم کے علمبرداروں نے انسان کو جملہ مراکز عقیدت سے دور کرنے کی مہم "آزادی" کے مقدس نام سے شروع کی. مارکس نے اشتراکیت کا آمرانہ دیو مسلط کرنے کے پلان کا آغاز "آمدنی میں مساوات " اور "سرمایہ داروں سے نجات" کے دل موہ لینے والی آوازوں سے کیا. الغرض خوشنما نعرے، دلکش آوازیں، دل آویز نغمے، دل میں اترنے والی صدائیں اور ابہام کے دبیز پردوں میں لپٹی اصطلاحات ہمیشہ "اصلی مقاصد" کو پس پردہ رکھنے کے لیے کارگر ثابت ہوتی ہیں۔\n\nوطن عزیز میں جاری سیکولرزم کی خوشنما آوازوں اور دلکش نعروں کے پیچھے بھی ایک پورا فلسفہ، مکمل پلان، متعین اہداف اور سوچا سمجھا منصوبہ چھپا ہے. ان حضرات کا مسئلہ یہ ہے کہ مذہب سے آزادی کے ماڈرن دور میں کیسے ایک پوری مملکت " ایک مذہب یعنی abstract-word-cloud-for-secularism-with-related-tags-and-terms1اسلام" کے نام پر وجود میں آئی ؟ ایک خطہ زمین میں دین کو روبہ عمل لانے کے لیے کس طرح ایک پوری نسل نے اپنی جانیں پیش کیں؟ ایک "مذہبی نعرے" کے لیے کس طرح ایک نسل اپنے آبائو اجداد کی سر زمین چھوڑنے پر آمادہ ہوئی؟ پھر جب یہ مملکت وجود میں آئی تو کس طرح اس کے ماتھے کا جھومر "لا الہ الا اللہ" کی صدا ٹھہری؟ کس طرح اس کے آئین نے "اللہ کی حاکمیت" کو اپنا ماٹو قرار دیا حالانکہ انسان کی حاکمیت کا دور دورہ ہے. کس طرح یہاں مذہب بیزاروں کا ناطقہ آئینی و قانونی طور پر بند کیا گیا؟ پون صدی گزرنے کے باوجود کیسے یہ ملک جیسے تیسے اپنی اصل،بنیاد، اساس اور بانیان پاکستان کے نعروں سے جڑا ہے؟ یہ منفرد اعزاز اور مملکت خداداد کی یہ شناخت گوارا نہیں؟\n\nماڈرن ازم کے اس دور میں جب ہر مذہب اور دھرم اپنی عبادت گاہوں تک محدود ہوگیا، صرف اسلام نے کیسے اجتماعی زندگی میں انسانیت کی رہنمائی کی ذمہ داری کا بار اپنے سر پہ اٹھا رکھا ہے؟ آزادی، مساوات اور ترقی کے مسلمہ عقائد کے اس دور میں کیسے اسلام بندگی، رسالت اور خدائے واحد کے عقائد کی تعلیم دیتا ہے؟5298c1c60 عورت کو صرف اور صرف تجارتی مال اور مرد کی جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھنے کے اس دور میں کیسے اسلام عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی میں تقسیم کر کے اس کو ایک باوقار معاشرتی مقام دیتا ہے؟ سرمایہ دارانہ عفریت کے اس دور میں کیسے اسلام ہر امیر کو ہر غریب کا رکھوالا قرار دیتا ہے؟ جنسی ہیجان کے اس دور میں کیسے اسلام حیا، شرم اور عورت کی تکریم کا سبق دیتا ہے؟ رشتوں کی پامالی کے اس دور میں کس طرح اسلام رشتہ داری کو جوڑنے کی پرزور تعلیم دیتا ہے؟ اسلامی طرز زندگی کے یہ سب اعزازات، خصوصیات اور امتیازات گوارا نہیں ؟ انسان کی "خدائی " کے اس دور میں انسان کی "بندگی "برداشت نہیں ؟\n\nانھی خوبیوں کو پہلے ریاست، پھر معاشرے اور آخر میں فرد کی زندگی سے نکالنے کے لیے سیکولرزم اور لبرل ازم کے خوشنما نعرے ایجاد کیے گئے، انھی نعروں کے ذریعے پہلے مغرب کو مذہب سے آزاد کیا گیا، اب مشرق پر چھرا پھیرنے کی باری ہے. اس ہدف اور مشن کو حقوق نسواں، حکمرانی جمہور، مذہبی منافرت سے آزادی، مذہب کی بنیاد پر انسانیت کی تقسیم، انسان پرستی، آزادی، ترقی، مساوات، وسعت ظرفی اور کشادہ دلی کے خوشنما نعروں سے سجایا گیا، جبکہ اسلام کے ابدی امتیازات و خصوصیات کو سیاسی اسلام، شدت پسندی، تھیوکریسی، مذہبی پاپایئیت، ملائیت، عورت دشمنی، مذہبی بنیاد پر تقسیم، ریاست کی غیر جانبداری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا رنگ دیا گیا ہے۔\n\nصاحب ! دو ٹوک بات کہو کہ اسلام انفرادی زندگی کی طرح معاشرتی اور ریاستی سطح پر رہنمائی کرتا ہے یا نہیں؟اسلام نے جس طرح فرد کی نجی زندگی کو ایک ضابطے، اصول، قانون اور اخلاقیات کا پابند بنایا ہے، وہ اس کی معاشرتی زندگی کو بھی کسی اصول کا پابند کرتا ہے؟ اس کی حکمرانی کو بھی کسی قانون کا سایہ فراہم کرتا ہے؟اس کی اجمتاعی زندگی کو بھی خدائی اصولوں میں پروتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہی اسلامسٹ اور مذہبی آدمی کا مدعا ہے. اور اگر جواب نفی میں ہے کہ اسلام نے فرد کو چند عبادات کا پابند بنا کر اجمتاعی زندگی میں اسے جانوروں کی طرح کھلا چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی زندگی کو خدائی تعلیمات کے بجائے خود ساختہ فلسفوں کے مطابق گزاریں، اپنی معاشرتی زندگی میں خدائی قانون کا ہار پہننے کے بجائے انسانی فلسفوں کا طوق پہنیں، ریاست کو خدائے وحدہ لا شریک کے قانون کے بجائے ہیومن ازم کے قانون کا پابند کریں، تو یہ سیکولرزم ہے، یہی سیکولر آدمی کا مدعا ہے، یہ اس کا دعوی اور یہ اس کا "عقیدہ"ہے۔ آپ سیکولر ہیں یا اسلامسٹ؟ نعرے، اصطلاحات اور بیانیوں کی بحث چھوڑ یں، بس اپنا مدعا واضح کریں کہ آپ کا مدعا کیا ہے؟