ترقی پسند تحریک کی لٹیا - مشفق خواجہ کے قلم سے

duniya-e-adab-300x336اگر کوئی شخص ہر وقت یہی کہتا رہے کہ میں عاقل وبالغ ہوں تو اس کا عاقل وبالغ ہونا مشکوک ہوجائے گا۔یہی حال پاکستانی ترقی پسندوں کا ہے جن کی ترقی پسندی کی عمارت زبانی دعوئوں پر قائم ہے۔ ہم نے آج تک کوئی رجعت پسند یا زوال پسند ایسا نہیں دیکھا جو اپنی زبان سے اپنی رجعت پسندی یا زوال پسندی کا ڈھنڈورا پیٹے۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ہوں یا انتظار حسین،لکھنے پڑھنے کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں،رجعت پسندی یا زوال پسندی کے فوائد پر گفتگو کرکے اپنا وقت ضائع کرتے ہیں نہ دوسروں کا۔\nزبانی جمع خرچ سے ترقی پسندوں کی کچھ ایسی دلچسپی ہے کہ ایک عرصے سے انھوں نے لکھنے لکھانے کا کام شروع کرنے سے پہلے ہی چھوڑ رکھا ہے۔ ’’گفتگو‘‘ تحریر کا نعم البدل بن چکی ہے۔حد تو یہ ہے کہ ’’گفتگو‘‘کے نام سے کتاب بھی چھپ گئی ہے۔اس کتاب کے سرورق پر جلی حروف میں یہ عبارت درج ہے۔’’ترقی پسند تحریک کے نظری مسائل،اثرات اور مخالفین کے اعتراضات پر مشاہرین ادب سے بات چیت‘‘۔\nلفظ ’’مشاہرین‘‘کا استعمال قابل غور ہے۔ہم سے یہ معمہ حل نہ ہوا تو استاد لاغر مراد آبادی کو زحمت فکر دی گئی۔انھوں نے فرمایا: ’’مشاہرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو مشاہرہ لے کر۔۔۔۔۔۔‘‘۔ ہم نے استاد کو مزید کچھ کہنے سے روک دیا کہ ’’مشاہرین‘‘ کا ’’مشاہرے‘‘ سے رشتہ جوڑنا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ ہم نے عرض کیا: ’’اس میں کچھ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے‘‘۔استاد نے فرمایا: ’’ہاں اس کا بھی امکان ہے۔آخر خود ترقی پسند تحریک بھی تو ہماری تاریخ َادب میں کتابت کی ایک غلطی ہی تو ہے‘‘۔\nکتابت کی غلطیوں کی بات چل نکلی ہے تو یہ عرض کردینا مناسب ہوگا کہ زیرنظر کتاب’’گفتگو‘‘ کا شاید ہی کوئی صفحہ ایسا ہو جس پر کتابت کی دس بارہ غلطیاں نہ ہوں۔خصوصا شعروں پر تو وہ ظلم ٖڈھائے گئے ہیں کہ اچھے خاصے شعر بھی کیفی اعظمیٰ کے شعر بن کر رہ گئے ہیں۔ کتابت کی ان غلطیوں کی بنا پر یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ کتاب’’مشاہرین ادب‘‘کی نہیں ’’مشاہرین کتابت‘‘ کی بات چیت کا مجموعہ ہے۔\naac-1992-1کتاب کا پہلا باب علی سردار جعفری کی بات چیت پر مشتمل ہے۔ جعفری صاحب احتجاجی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے احتجاجی لہجے میں فرماتے ہیں:’’تو جناب ہم نے احتجاجی شاعری ضرور کی ہے لیکن بے ایمانی کی بات یہ ہوئی کہ ہم نے ساتھ ہی دائمی شاعربھی کی،جسے آپ اچھی شاعری کہتے ہیں۔اب آپ کرتے یہ ہیں کہ ہماری اچھی شاعری کو تو نظرانداز کردیتے ہیں اور پکڑ لیتے ہیں اس شاعری کو جو ہم نے ہنگامی ضرورتوں کے تحت کی تھی۔لیکن یہ تو کوئی ادبی دیانت نہیں ہوئی۔خیراس کو چھوڑیے میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ جناب ہماری وہ ہنگامی نوعیت کی شاعری آپ کی اس مہمل شاعری سے بدرجہا بہتر تھی جس کا کوئی مقصد،کوئی رخ اور کوئی مافی الضمیر نہیں ہوتا‘‘۔\nقطع نظر اس سے کہ جعفری صاحب کے مخاطب کون ہیں اور مہمل شاعری کا طعنہ کسے دیا جارہا ہے‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہنگامی ضرورتوں کے تحت شاعری کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔کیا اس سے بہتر کوئی کام نہیں کیا جاسکتا۔ہنگامی ضرورتوں کے تحت یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ مہمل شاعری کا مطالعہ ہی کرلیا جائے‘شاید اس بہانے کوئی کام کی بات معلوم ہوجائے۔مہمل شاعری میں کم از کم یہ توقع تو رہتی ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا کبھی نہ کبھی کوئی مفہوم ضرور برآمد ہوگا۔ہنگامی ضرورتوں والی شاعری سے تو یہ توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی۔\nسردار جعفری صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے:’’آزاد شاعری کا جو نمونہ راشد اور میرا جی نے قائم کیا تھا ‘وہ آگے چلا نہیں۔فیض نے، میں نے یا دوسرے ترقی پسند شعراء نے آزاد شاعری میں جو آہنگ اختیار کیا ہے ‘وہ جدید لکھنے والوں کے ہاں تک پہنچتا ہے لیکن راشد اور میراجی کی شاعری اپنی شناخت کھو چکی ہے‘‘۔\nممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ اگر راشد اور میرا جی کی شاعری اپنی شناخت کھو چکی ہے تو پھر ترقی پسند شاعری تو اپنا سب کچھ کھو چکی ہے۔لیکن ہمیں اس قسم کی انتہا پسندانہ رائے سے اتفاق نہیں ہے۔راشد اور میراجی کی شاعری کی اپنی شناخت تھی تو اس نے کھوئی ‘ ترقی پسندشاعری کے پاس ہے کیا جو وہ کھوئے گی۔سردار جعفری نے دوران گفتگو کہا:’’برنارڈ شا نے ایک مرتبہ بڑی دلچسپ بات کہی تھی کہ میرا درزی ہر سال آکے میرا ناپ لے جاتا ہے۔تو یہ بات حالات اور ہمارے باہمی رشتے پر بھی منطبق ہوتی ہے۔حالات جو ہیں وہ برنارڈ شا ہیں اور ہم درزی ہیں‘‘۔\nممکن ہے بعض رجعت پسند یہ کہیں کہ آپ درزی ہیں تو پھر آپ نے مصنفوں کی انجمن کیوں بنا رکھی ہے؟ان جملے باز رجعت پسندوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ درزیوں کی انجمن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ درزی کا کام آتا ہو جبکہ مصنفین کی انجمن بنانے کے لیے اس قسم کے کسی تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔\nکتاب کا دوسرا باب سید سبط حسن کی گفتگو پر مشتمل ہے۔اس میں انھوں نے علامہ اقبال ؒسے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھوں نے اقبال سے پوچھا:’’اچھا صاحب ہمارے ہندوستان کے جو fl08_sibte_hasan_j_2666777gمسائل ہیں ان کا کیا حل ہے‘‘؟اقبال نے جواب دیا:’’سوشلزم‘کوئی نہ کوئی شکل سوشلزم کی اپنانی ہی پڑے گی‘‘۔قطع نظر اس سے کہ سید سبط حسن سے علامہ اقبالؒ کی ملاقات ان کی زندگی میں ہوئی تھی یا بعد میں‘ یہ واقعہ سید صاحب کو اس وقت کیوں یاد نہ آیا جب انھوں نے اپنا مشہور مضمون ’’فلسفہ شاہین ‘‘تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے اس قسم کی باتیں لکھی ہیں:’’اقبال اقتدار پرست ہے اور دیوانگی کی حد تک اقتدار پرست۔وہ ہر قوت کا استقبال کرتا ہے۔ہر صاحب اختیار سے متاثر ہوتا ہے۔قوت واقتدار کی مدح سرائی اس کی شاعری کا اضطراری پہلو ہے اور اس دھن میں وہ تحقیق وجستجو اور عقل وتمیز کو بھی خیرباد کہہ دیتا ہے‘‘۔\nاس مضمون کا زمانہ تحریر سید صاحب کی نوجوانی بلکہ لڑکپن کا زمانہ تھا۔(پہلے یہ مضمون ’’پیام‘‘ حیدرآباد دکن میں اور پھر ’’نیا ادب‘‘ لکھنو میں شائع ہوا تھا) اب پہلے جیسا جوش وخروش باقی نہیں رہا ‘اس لیے اقبال کے بارے میں سید صاحب کی رائے میں خاصی تبدیلی آگئی ہے۔زیر نظر کتاب میں وہ فرماتے ہیں:’’Progress.....کا تصور مغرب میں اٹھارویں صدی کے بعد تیزی سے مقبول ہونا شروع ہوگیا تھا لیکن اقبال سے پہلے ہمارے ہاں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اقبال نے ان تمام جدید تصورات سے ہمارے فکروادب کو متعارف کرایا اور کس کمال خوبی‘ہنر مندی اور فن کاری سے انھیں شعری قالب میں ڈھالا ہے، وہ بجائے خود بے مثال ہے۔بلکہ مجھے معاف رکھیں، میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ ترقی پسندشاعری اپنی تمام تر توانائی‘دل کشی‘نمو پذیری اور حقیقت آفرینی کے باوجود ملوکیت‘سرمایہ داری‘سامراج پر جو کچھ اقبال نے لکھ دیا ہے‘اس کے پاسنگ برابر ایک نظم بھی اپنے ہاں سے پیش نہیں کرسکتی ‘‘۔\nلیجیے سید صاحب نے تو ترقی پسند شاعروں کی لٹیا ہی ڈبو دی۔بےچارے نصف صدی سے شاعری کررہے ہیں اور شاعری کا ایک بھی ایسا نمونہ پیش نہ کرسکے جو اقبال کی کسی نظم کے پاسنگ ہوتا۔ سید صاحب کو اتنی بے مروتی سے کام نہیں لینا چاہیے تھا۔ حوصلہ افزائی کے خیال سے کم از کم یہی کہہ دینا چاہیے تھا کہ اگلی نصف صدی میں اس کا امکان کم ہے کہ ترقی پسند ایک آدھ ایسی نظم ضرور لکھ دیں گے جسے کلام اقبال کے ’’پاسنگ برابر‘‘قرار دیا جاسکے۔\nسید صاحب کے پاس ترقی پسند تحریک سے متعلق کچھ اہم کاغذات تھے۔یہ کاغذات چوری ہوگئے۔اس پر سید صاحب نے دلی صدمے کا اظہارکرتے ہوئے یہ تفصیلات بتائی ہیں:’’جب فیض صاحب ملک سے باہرجارہے تھے تو انھوں نے یہ چند کاغذات مجھے بھجوا دیے تھے۔حفاظت کے خیال سے اور میں نے انھیں اپنے ایک بیگ میں دوسرے اہم کاغذات کے ساتھ رکھ دیا تھا۔ایک روز کوئی چور صاحب دن دہاڑے گھر میں گھس آئے۔وہ سمجھے کہ بیگ میں کچھ رقم ہوگی‘اور اٹھا کر لے گئے اور نہ جانے کہاں پھینک دیا۔مجھے ان کاغذات کے گم ہوجانے کا انتہائی ملال ہے‘‘۔\nسید صاحب کا ملال برحق ہے‘لیکن ہم تو عوامی آدمی ہیں‘اس لیے ہمیں اس شخص کی محنت کے ضائع جانے کا ملال ہے جس نے سید صاحب کا بیگ اڑایا ‘اس توقع پر کہ اس میں رقم ہوگی ‘لیکن ایسے کاغذات نکلے جو اس کے نزدیک دو کوڑی کے بھی نہیں تھے۔سید صاحب سے گزارش ہے‘ کہ کاغذات کی گم شدگی کا غم چھوڑیے‘انجمن ترقی پسند مصنفین کی فکر کیجیے۔اسے اپنے بیگ میں نہ رکھیے۔کسی بنک کے لاکر میں رکھوا دیجیے۔\nترقی پسندوں کی سیاست کا یہ پہلو بہت دل چسپ ہے کہ وہ اردو ہی کے ذریعے شہرت حاصل کرتے ہیں اور اردو ہی کو استعمار کی علامت قرار دیتے ہیں۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ علاقائی زبانیں بولنے والوں کو یہ غلط احساس دلایا جائے کہ اردو کو زبردستی ان پر مسلط کیا جارہا ہے‘ اور ان کی زبانوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔اس طریق کار کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک میں انتشار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔سید صاحب نے بھی ترقی پسندوں کے اس معروف طریقہ واردات کو اپنایا ہے۔ فرماتے ہیں:’’اشتعال کی حد یہ ہے کہ اسے (اردو کو) مقتدرہ زبان‘یعنی صاحب اقتدار زبان کہا جارہا ہے‘‘۔ہمیں سید صاحب جیسے دانشور سے اس غلط بیانی کی توقع نہیں تھی۔کیا سید صاحب کسی بھی ایسے شخص کی نشان دہی کرسکتے ہیں جس نے اردو کو ’’مقتدرہ زبان‘‘کہا ہو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب مرکزی حکومت کے ایک ادارے’’مقتدرہ قومی زبان‘‘کے نام سے دھوکہ کھا گئے۔یہ ’’نیشنل لینگویج اتھارٹی‘‘ کا ترجمہ ہے جیسے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ترجمہ ’’مقتدرہ ترقیات کراچی‘‘ ہوگا۔کیا اس سے بھی سید صاحب یہی مطلب نکالیں گے کہ کراچی صاحبان اقتدار کا شہر ہے۔حالانکہ اس شہر میں 70 لاکھ محکوم ومظلوم آباد ہیں۔\n’’گفتگو‘‘میں اور بھی کئی ’’مشاہرین‘‘ کی دل چسپ گفتگو سے صفحوں کے صفحے سیاہ کیے گئے ہیں۔مگر ہم میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اس سیاہی یا سیاہ کاری سے اپنے کالم یعنی نامہ اعمال کو مزید سیاہ کریں۔\n(خامہ بگوش کے قلم سے، مرتب کردہ مظفر علی سید)

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • واہ زبردست - نام نہاد ترقی پسندوں کی اصلیت اور ان کی طریق واردات سے آگاہ کرتی ایک چلبلی تحریر -

  • واہ ! ماشاءاللہ کیا خوبصورت تحریر ہے، پڑہ کر لطف آ گیا اور ترقی پسندی کی حقیقت بھی واضح ہو گئی۔