دلیل حیات دلیل - غلام اصغرساجد

1939656_1647114415508774_2201907491607776658_o"دلیل" کے نقارے کئی دنوں سے سن رہے تھے، سو اب دو دنوں سے سرِ دیوار "دلیل" کی آمد آمد ہے، زیادہ تحاریر نہیں پڑھ سکا. پہلی تحریر عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی پڑھی جو "دلیل" کے مقاصد کا تعین کر رہی تھی، مقصد کے بغیر دلیل، دماغی ورزش سے زیادہ کوئی بڑی خدمت نہیں کر سکتی. "دلیل" کی سچائی یہی ہے کہ وہ ایک پُرمقصد سچائی پر قائم ہوئی ہے. خوشی کی بات یہ ہے کہ "دلیل" سماجی انتشار اور تخریبی خیالات کے بجائے پُرامن اور تعمیری سوچوں کے ذریعے اٹھانے کی بات کرتی ہے، ٹکراؤ سے گریز ہی دلیل ِحیاتِ "دلیل" ہے .\nیہ معاشرہ اور وطن ہمارا ہے، اس کے خیر خواہ ہم ہی ہو سکتے ہیں اور بارہا ہم نے عملی میدانوں میں ثابت بھی کیا ہے. امرتسر سے لٹے پٹے قافلے قدم قدم پر گواہی دے رہے تھے، کل بھی ڈھاکہ کی دیواروں نے شہادت دی تھی اور آج بھی پھانسی کے پھندے سر ہلا رہے ہیں اس لیے کہ پاکستان سے محبت ہمارا جزو ایمان تھا اور ہے- یہ قوم ہم سے ہی ہے، یہ خوش ہو تو ہمیں خوشی ہوتی ہے اور یہ تکلیف میں ہو تو ہم ان کی مدد اور نصرت کرتے ہیں، زلزلہ ہو یا سیلاب، مقصدِ زندگی رکھنے والے ہی مرہم کرتے دکھائی دیتے ہیں- اس لیے ہم اس قوم اور وطن میں انتشار کو پسند نہیں کرتے، ہاں کچھ شر پسندوں کا مقصد انارکی ضرور ہو سکتا ہے، شاید وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو رہے ہیں کہ اس تخریب اور انتشار کے بعد ان کی شرائط پر کسی معاشرے کی تشکیل ہو گی.\nحال ہی میں سوشل میڈیا پر چھڑے والے شر پسنددانہ خیالات نے خطرناک انداز میں معاشرے کو تیلی دکھانے کی کوشش کی، جسے دیکھ کر سنجیدہ حلقے پریشان ہو گئے. درحقیقت ہمارا ملک اور معاشرہ مزید کوثروں اور قادریوں کا متحمل نہیں ہو سکتا. یہ ملک اب بنگلہ دیش یا شام تو بن سکتا ہے لیکن یہاں کوئی درآمد شدہ نظریہ غالب نہیں آ سکتا. جدید تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے، اب دنیا بدل چکی ہے. افغانستان اور عراق جنگ کے بعد امریکہ نے سبق سیکھا ہے کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے. دونوں مقامات پر تخریبی کارروائیوں کے بعد وہ اپنا مطلوب معاشرہ اور ریاست ترتیب نہیں دے پایا لہذا ہمیں بھی اس شر کو جو ابھی بہت چھوٹا ہے، دلیل سے دفن کر کے اپنے معاشرے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، اور صرف تحفظ ہی نہیں بلکہ اس کی موجود بنیادوں پر از سر نو تعمیر بھی کرنا ہے-\n"دلیل" کی دوسری طاقت اس کا فرقوں سے بالاتر ہونا ہے، جو نہ صرف "دلیل" کو روشن کرے گا بلکہ اس کے اثرات فیس بک پر موجود مختلف فقہی اور فروعی آراء رکھنے والے احباب پر بھی نظر آئیں گے- سو "دلیل" سامنے ہے دلیل والوں کے لیے، میں اپنی دوستوں، لکھاریوں اور قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ "دلیل" کی طرف ضرور آئیں. یہ بہت سوں کو قوت بخش کر استقامت کی دولت سے مالا مال کرنے کا باعث بنے گی-

Comments

ڈاکٹر محمد غیث المعرفہ

ڈاکٹر محمد غیث المعرفہ

ڈی وی ایم، ایم فل جینیات۔ 2012ء سے بلاگنگ سے وابستہ ہیں۔ اسلام، سائنس، جدید رحجانات اور عالمی اسلامی تحریکیں پسندیدہ موضوع ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.