اسلام اور سیکولرزم - ابو سعد ایمان

222441_373175546104422_700413377_nدنیا جس اسلام کو محمد عربی ﷺ کے پاکیزہ حوالے سے جانتی ہے ،اسے ریاست میں ایک مقتدر اور سپریم مقام حاصل تھا ، ہے اور رہے گا۔ ماننے والوں کے لیے عزت اور امن کی صورت میں اور ناماننے والوں کے لیے خوف اور خطرہ کی صورت میں۔\nسیکولرزم(مذہبی آزادی) اسلامی ریاست کا لازمی حصہ ہے لیکن اس کی حیثیت ایک ماتحت، ایک پیادے اور ایک سپاہی کی سی ہے، جس کا کام ہر گھڑی اور ہر لمحے ریاست کے نظریاتی بادشاہ اور مقتدر اعلیٰ اسلام کے آگے جھکنا اور اس کی اطاعت کا دم بھرنا ہے۔اس کے برعکس مذہب کا جو مسخ شدہ تصور مغربی تہذیب کے متاثرین ہم سے منوانا چاہتے ہیں اس کے مطابق سیکولرزم کو ریاست میں سپریم طاقت حاصل ہے اور مذہب اس کا ایک ماتحت اور غلام ہے۔\nمحمد عربیﷺ کے اسلام کو فرد کی ذاتی زندگی کی طرح اس کی سب سے بڑی اجتماعی زندگی (ریاست) میں بھی مکمل اختیار، طاقت اور کنٹرول حاصل ہے، جبکہ مغرب کے غلاموں کا تصور مذہب صرف فرد کی ذاتی زندگی تک محدود ہے اور ریاست میں اسے مداخلت کا کوئی حق نہیں۔\nلڑائی کب شروع ہوتی ہے؟\nآپ کو سیکولرزم بہت پسند ہے ناں۔ آپ جاگتے، سوتے، ہنستے روتے، اٹھتے بیٹھتے غرض ہر ہر لمحہ میں سیکولرزم کا خواب دیکھتے رہتے ہیں ناں؟ تو جایئے جا کر مغرب اور مشرق کے غیر مسلم ممالک میں مسلط سیکولرزم کے بت کی پوجا شروع کردیجیے، اس کی حمد ،ثناء اور تسبیح پڑھنا شروع کردیجیے۔ محمدﷺ کے ماننے والوں کی آپ سے کوئی لڑائی نہیں۔آپ کو آپ کا دین مبارک ہمیں ہمارا دین۔\nلڑائی اس وقت شروع ہوجاتی ہے جب آپ کاآقا مغرب سیکولرزم کی چھتری تلے ہر مذہب کے پیروکاروں کو احترام دینے کے لیے تیار ہے لیکن کائنات کے واحد سچے دین اسلام کو احترام دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے رسولﷺ، اسلام کی کتاب (قرآن) اور اسلام کے احکامات کا سیکولر دنیا کا میڈیا برسرعام مذاق اڑاتا ہے اور توہین کرتا ہے ، اور اسلام کے بھی صرف ان پیروکاروں کو اذیت اور جاہلی عصبیت کا شکار بناتا ہے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور مغرب کی سیکولرتہذیب کے علمبردار مسلمان کی داڑھی، اس کے پردہ اور اس کے لباس پر پابندیاں لگانا شروع کردیتی ہے۔\nجی جناب !لڑائی اس وقت شرو ع ہوتی ہے جب آپ اپنے اس بت کی محبت میں اسلام کو بھی دھکے دینے لگ جاتے ہیں اور مطالبہ کرنے لگ جاتے ہیں کہ جناب جس طرح دنیا کے باقی مذاہب نے سیکولرزم کی بالادستی کو تسلیم کرلیا ہے اور ریاست میں عمل دخل سے دستبردار ہوگئے ہیں اسلام بھی سیکولرزم کی بالادستی کے آگے سربسجود ہوتے ہوئے ریاست کی تعمیر و تشکیل کے خواب دکھانا چھوڑ دے۔ نہیں منے بھائی نہیں یہ دھاندلہ نہیں چلے گا۔ ۔ ۔دنیا میں جب تک قرآن محفوظ ہے، دنیا میں جب تک محمد ﷺ کا نام باقی ہے، دنیا میں جب تک اسلام کے ماننے والے موجود ہیں، مسلم اکثریتی ممالک میں ریاست کی اسلامی تشکیل اور ریاست و حکومت پر اسلام کی بادشاہی قائم کرنے کی کوشش ہوتی رہے گی ۔\nچاہے کوئی پسند کرے یا ناپسند یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک یا تو اسلام کو بھی فرد کی نجی زندگی کی طرح اس کی ریاستی زندگی پر بھی مکمل کنٹرول اور اقتدار حاصل ہوجائے گا یا پھر دنیا سے مسلمان ختم ہوجائیں گے۔آپ اس کو فکری سطح پر روکنے کی کوشش کریں گے غلامان محمد ﷺسے آپ کی فکری سطح پر لڑائی شروع ہوجائے گی ، آپ اور آپ کے آقا (مغربی طاقتیں) عملی میدان میں اسلام کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے تو زندگی کے عملی میدان میں غلامان محمد ﷺ سے آپ کے آقاؤں کی لڑائی شروع ہوجائے گی ۔ آپ کے آقا (مغربی طاقتیں) کہتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ جی ! آپ ہی کے بنائے ہوئے اصول کی صورت میں مسلمان ضرور دہشت گرد ہوتے اگر مسلمان مغرب میں جاکر ریاستی اور فوجی مشینری کی طاقت کے ذریعے سیکولرزم کو روکنے کی کوشش کرتے اور وہاں زبردستی اسلامی قانون نافذ کرنے کی کوشش کرتے۔\nلیکن یہاں تو معاملہ الٹ ہے۔ دولت مغرب کے پاس، طاقت مغرب کے پاس، ٹیکنالوجی مغرب کے پاس، بے مہابا جنگی سازوسامان و افواج مغرب کے پاس اور مغرب تھر تھر کاپنتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلم ملک میں کہیں اسلام کا عدل و انصاف اور امن پر مبنی نظام نافذ نہ ہوجائے، جس کے نتیجے میں مغرب کے کھوکھلے، دجالی، فریبی اور انسانیت کے دکھوں کا استحصال کرنے والے مغربی ازموں اور نظاموں پر انسانیت کا اعتبار ختم نہ ہوجائے ۔یہ ڈر، یہ خوف اور اندیشہ ان نام نہاد مغربی سیکولرطاقتوں کو مسلم ممالک میں مداخلت پر ابھارتا ہے اور وہ ان مسلم ممالک میں اسلام کا، امن کا اور عدل کا راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے مغرب پیسہ بھی پانی کی طرح بہاتا ہے ، اپنی طاقت سے بھی ڈراتا ہے اور مسلم ممالک میں انارکی اور انتشار کو بھی ہوا دیتا ہے ۔تو جناب اصل اور بڑا دہشت گرد کون ہوا؟ دہشت گردی کا منبع اور سرچشمہ کون ہے؟دنیا کے خزانوں پر قابض اور سائنس و ٹیکنالوجی کے ٹھیکیدار آپ کے مغربی آقا یا کہ بھوکے، ننگے، وسائل سے تہی دامن، ٹیکنالوجی اور اداروں سے محروم بدحال اور فاقہ کش مسلمان۔\nاپنی خواہش کو معبود بنانے والے:\nجو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح غیر مسلم اکثریتی ممالک نے اپنے اپنے ممالک سے اپنے پسندیدہ مسخ شدہ اور تحریف شدہ مذاہب کو ریاست و حکومت کے ایوانوں سے نکال باہر کیا اسی طرح مسلم اکثریتی ممالک میں بھی "ریاست وحکومت"کے ایوانوں سے اسلام کو نکال باہر کیا جائے، یہ لوگ سوائے اپنی خواہش کو معبود بنانے اور اٹکل پچودلائل دینے کے اور کچھ بھی نہیں کرتے۔\nان لوگوں کے بس میں یہ تو نہیں ہے کہ قرآن سے وہ تمام احکام اور آیات کھرچ کھرچ کر مٹا دیں جن میں ریاست وحکومت سے متعلق مسلمانوں کو ہدایات دی گئی ہیں اور نہ ہی ان کے بس میں یہ ہے کہ یہ اس حقیقت کو مسلمانوں سے چھپا سکیں کہ اسلام کے مقدس ترین رسولﷺ اور آپ کے قریب ترین ساتھیوں نے نہ صرف ریاست اور حکومت کے ایوانوں پر اسلام کے احکام کو نافذ کرکے دکھایا بلکہ اپنے وقت کی عالمی طاقتوں کو بھی الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔\nتو پھر یہ کیا کرتے ہیں؟ یہ کرتے یہ ہیں کہ اپنی عقل، اپنی دانش، اپنے خیال، اپنے قلم اور اپنے کلام کے طاقت ورگھوڑوں کو دنیا کی ادنیٰ قیمت کے بدلے میں بیچ دیتے ہیں۔ کبھی ان کی منطق کے گھوڑوں کو کافروں کی دنیاوی طاقت و ٹیکنالوجی مسحور کرکے رکھ دیتی ہے، کبھی ان کے خیال کے گھوڑے مغرب کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے رسیاں تڑوا کر بھاگنے لگتے ہیں، کبھی ان کی دانش کےگھوڑے مغرب کی بے خدا(سیکولر) تہذیب کے پیچھے اس لیے سرپٹ دوڑنا شروع کردیتے ہیں کہ اس میں مسلمانوں کو نجی زندگی میں بھی برابر کی عزت و آزادی دینے کا اعلان کیا جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان کی دانش کے بے لگام گھوڑے مسلمانوں کی نجی زندگی میں بھی اسلام سے وابستگی (مثلاً نماز، تقویٰ، زہد، غنا، صبر، توکل، حجاب، داڑھی) کا موقع بے موقع مذاق اڑانے سے نہیں چوکتے۔\nمسخ شدہ مذاہب اور اسلام:\nجس کا مذہب ذاتی خواہشات ،مسخ شدہ اور تحریف شدہ تاریخی حوالوں کا نام ہے وہ جائے اور جاکر اعلان کرتا پھرے کہ ہمارا مذہب جس طرح غیر اللہ کی پوجا کی تلقین کرتا ہے اسی طرح دنیا کے تازہ "خدا" سیکولرزم کی پرستش سے بھی نہیں روکتا بلکہ اس کی بندگی کا حکم دیتا ہے۔ اور جس کا مذہب (دین) محمدﷺ اور قرآن کے عطا کیے ہوئے اسلام کا نام ہے ، وہ جس طرح ذاتی زندگی میں ایک اللہ کی بندگی اور پرستش پر اصرار کرتا ہے عین اسی طرح مسلمانوں کی ریاستی زندگی کو بھی اللہ کی بندگی اور پرستش کا حکم دیتا ہے۔\nمسخ شدہ اور تحریف شدہ مذاہب اپنی ریاست کی بادشاہی کسی بھی فلسفہ اور ازم کو دے سکتے ہیں اور انہوں نے عملی طور پر ایسا کیا۔ مگر سچا ، صاف اور پاکیزہ دین اسلام دو ٹوک اعلان کرتا ہے کہ فرد کی نجی زندگی ہو یا ریاستی زندگی بادشاہی کا حق صرف اور صرف اللہ اور اس کے قانون (اسلام )کو حاصل ہے۔