تبدیلی مگر کیسے؟ غلام اصغر ساجد

1939656_1647114415508774_2201907491607776658_oغلام اصغر ساجد\nانسان کی سرشت تبدیل ہو جانا ہے، اس کے لیے اسے کسی خارجی دباؤ کی ضرورت نہیں پڑتی- مثلاً آپ کسی ایک ہی جوتے کو سالہا سال پہننا پسند نہیں کرتے، کچھ عرصے بعد ہی اسے تبدیل کرنے کی خواہش آپ میں جنم لینے لگتی ہے چاہے اس جوتے کی حالت بہتر ہی کیوں نہ ہو- اس تبدیلی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عناصر میں آپ کی تنخواہ ہے یا آپ کا شیخ و میمن ہونا- آپ ہفتے کے سات دن اور ہر دن کے تین اوقات میں فقط روٹی کھانا پسند نہیں کرتے، اگر بہت ہی برے حالات بھی ہوں تو ہفتہ میں ایک آدھ دن آپ چاول بھی تناول کرتے ہیں- پھر خود روٹی کے ساتھ سالن کو تبدیل کرتے رہتے ہیں- آپ روز بینگن کے ساتھ روٹی کھا کے دکھائیں- ایسا تو حکماء مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ صبح دوپہر شام کدو چھیل کے کچا کھانا ہے- ہم اپنے گھروں میں اپنی خواتین کو دیکھتے ہیں کہ ہر سال وہ کمرے کی سینٹنگ تبدیل کر دیتی ہیں، بیڈ بھی وہی ہوتا ہے، صوفہ بھی وہی ہوتا ہے، الماری اور شو کیس بھی وہی ہوتا ہے لیکن تبدیل ہونے کی سرشت مجبور کرتی ہے کہ کچھ آگے پیچھے کر کے ہی حلیہ بدل دیا جائے- اس کار جہاں میں باریک بینی سے جائزہ لیجئے تبدیل ہونے کی یہ اندرونی خواہش آپ کو پورے معاشرے میں نظر آئے گی- لیکن آپ نے دیکھا کہ کبھی انسان نے سوچا ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا جو طریقہ بتایا ہو انسان کی جبلت نے اسے بدلنے کی خواہش ظاہر کی ہو، خدا کو سجدہ ہی کرنا ہے نا، تو کیا مغرب میں خدا ہے مشرق میں نہیں ہوگا؟ کیوں نہ رخ بدل لیا جائے؟ چلیں ایک ہی سورۃ فاتحہ بار بار پڑھنے سے اکتاہت پیدا ہو گئی ہو، قرآن مجید تو پورا معتبر اور فصیلت والا ہے سورۃ فاتحہ کی جگہ کوئی اور سورت پڑھ لیتے ہیں؟ ایسی سوچ نہیں آتی کیوں کہ یقین ٹوٹنے لگتا ہے، تعلق کمزور ہونے لگتا ہے- یہاں دین کی تقریبا ساری ہی تعلیمات اور اعمال رکھے جا سکتے ہیں اور صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ الہام خود ایک خارجی عنصر ہے جسے ایمان کی طاقت بہم پہنچ رہی ہے، انسان کی دماغی ارتقاء سے ان کا مادی وجود بدل رہا ہے، ایسے میں شریعت کے فروع میں تبدیلی کا فطری جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان کے بچاؤ کے لیے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے- اور اگر ایمان پر اس کی گرفت کمزور پڑ گئی تو پھر وہ اگلا سوال کرتا ہے کہ مصافحہ درست تو پھر معانقہ بھی درست ہونا چاہیے- اور اگر لونڈی حلال تھی تو گرل فرینڈ بھی حلال کرو- اور پھر کوئی اس کو اجتہاد کا نام دے تو ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ خواہش کو پورا کرنے کا نام اجتہاد ہوگا؟ اب ہم سوچنے لگیں گے کہ کیا مذہب کو جامد بنانے والی سوچ پیدا کی جا رہی ہے- نہیں انسان کو بنانے والا خالق اپنی کاریگری سے خوب واقف ہے، اس لیے اپنی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں بدلنے کی آزادی دیتا ہے لیکن اس آزادی کو خواہش کے تابع رکھنے کے بجائے ایمان کے تابع بناتا ہے- لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ حد درجہ انتہا پسندی، مسلمان کو مادی وسائل جیسے لاوڈ اسپیکر کو برتنے سے بھی روکتی ہے اور حد درجہ آزاد روی، خواتین سے مصافحے کی اجازت دے دیتی ہے