پسند کی شادی ، اسلامی احکامات اور غیرت کا معاملہ - کاشف حفیظ صدیقی

10953200_10152705232588341_7738640678239656909_nجس طرح آپ کو میری رائے سے اختلاف ہے ، مجھے اجازت دیں کہ یہ میرا حق ہے کہ میں آپ کی رائے سے بھی اختلاف کروں ۔ رائے سے اختلاف کا مطلب ذاتی دشمنی نہیں ، ہاں مکالمہ ضرور ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مجھے کہا جائے کہ تم ایک بند اور تنگ ذہن کے آدمی ہو اور میں ایک روشن خیال ۔ میں آپ کی رائے سے اختلاف رکھتا ہوں مگر اس کا احترام کرتا ہوں اور آپ سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں\n\nکچھ معاملات پر میرے کچھ محبت رکھنے والے دوست میری درد دل کے ساتھ اصلاح چاہتے ہیں مگر میں ہوں کوڑھ مغز ، کچھ سمجھ میں دیر سے آتا ہے ۔ مجھے کہا گیا ہے کہ حامد میر کا پسند کی شادی پر کالم پڑھوں اورکھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رائے سے رجوع کر لوں ۔ مگر اس کالم کو پڑھنے کے باوجود میں ایسا کرنے سے قاصر ہوں. سب سے پہلے تو حامد میر نے اپنے کالم میں ایک بےباک تبصرہ یہ کیا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے نبی مہربان ﷺ سے پسند کی شادی کی تھی ۔ ذرا ٹھہریے الفاظ کے چنائو میں احتیاط برتیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ مردانہ وجاہت کا نمونہ تھے بلکہ حسن یوسف ؑ سے بڑھ کر حسین تھے۔ مگر کیا حضرت خدیجہ ؓ نے ان میں مردانہ وجاہت دیکھی یا نبی کریم ﷺ کی امانت داری اور دیانت داری سے متاثر ہوئیں۔ ساتھ میں عرض یہ بھی ہے کہ عرف عام میں متاثر ہونا ایک علیحدہ بات ہے اور پسند اور عشق ایک جدا چیز ہے۔ یہ شادی کسی بازاری عشق اور عام معاشرتی پسند سے بڑھ کر امانت داری اور تقویٰ کی بنیاد کسی سعید روح کی ترجیح بنی۔ بات اتنی آسان نہیں جتنی جرات سے کہہ دی گئی ۔ کسی خبر کی رپورٹنگ اور روئے زمین کی سب سے مقدم ترین ہستی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے ادب کا دامن ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے\n\nاسلام میں عورت کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ کسی رشتے سے کسی بھی بنیاد پہ انکار کر دے ۔ ابودائود، نسائی اور ترمذی کی روایت مشکوۃ شریف کے باب ، باب الولی فی النکاح، میں موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کنواری لڑکی سے نکاح کرتے وقت اس سے پوچھا جائے، اگر خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کا اذن ہے اور اگر انکار کر دیا تو اس پر کوئی جبر نہیں۔ ابو داؤد کی ہی ایک اور روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ نے میرا نکاح جبرا کر دیا ہے ، میں راضی نہیں ہوں ۔ آپ ﷺ نے اس کو اختیار دے دیا ۔ نبی مہربان ﷺ کے اس دیے گئے حق کا کون ظالم انکار کر رہا ہے ۔ نکاح کے وقت اس کو طلاق کا حق لینے کا بھی اختیار ہے اور مہرلڑکی کا ضامن بنایا گیا.\n\nمگر یاد رکھنا چاہیے کی اسلامی معاشرت کی بنیاد شرم اور حیا پر ہے (جو مرد اور عورت دونوں کے لیے لازمی ہے) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حیا اور ایمان ، ہمیشہ اکھٹے ہی رہتے ہیں ۔ جب ان میں سے ایک کو اٹھا لیا جائے تو دوسراخود بخود اٹھ جاتا ہے ۔ (مشکوۃ) سورۃ النور میں "غص بصر" یعنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا اور حدیث ﷺ میں بتایا گیا کہ پہلی نظر تمھاری اور دوسری شیطان کی ہوتی ہے ۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ غیر مرد اور غیرعورت کے درمیان تیسرا ہمیشہ شیطان ہی ہوتا ہے ۔ مشکوۃ ۔ سورۃ النور میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ غیر محرم لوگوں سے اونچی آواز میں بات مت کرو. سورۃ النور میں ہی اسلامی معاشرت میں فواحش کی روک تھام پر زور دیا گیا اور اس کو پھیلانے والوں پہ وعید کی گئی اور مرد و خواتین کے آزادانہ اختلاط کو ناپسند کیا گیا. ساتھ ہی پورے قرآن میں جہاں جہاں اطیع اللہ و اطیع رسول ﷺ کی بات کی گئی وہاں فورا بعد اطاعت والدین کا حکم دیا گیا ۔ ماں باپ کی اطاعت کی حد درجہ اہمیت رکھی گئی اور اولاد کو اپنے والدین کی اطاعت کا حکم دیا گیا چاہے وہ کتنی ہی ناگوار ہو الا یہ کہ وہ اللہ کی معصیت پر مبنی ہو کہ وہاں اطاعت لازمی نہیں. نکاح کے لیے ولی کو لازمی کیا گیا۔ احمد، ترمذی ، ماجہ اور دارمی میں سیدہ عائشہ ؓ سے مروی یہ حدیث موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت اپنے ولی کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے\n\nاقبال نے کہا کہ "خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ﷺ"\n\nبھائی جان، میرے نزدیک (ہو سکتا ہے کہ آپ کے نزدیک نہ ہو) اسلامی معاشرے میں شرم اور حیا لازمی عنصرہے اور اس کے ساتھ والدین کی اطاعت ہمارا دینی فریضہ ۔ والدین کو کہا گیا کہ اپنے بچوں کی تربیت دینی اصولوں پہ کرو اور شرم و حیا کا احساس اور پاس ان میں جاں گزیں کرو\n\nاسلامی سوسائٹی میں مغربی طرز کے عشق و عاشقی کی کوئی گنجائش نہیں. ہاں کسی کو کوئی پسند آسکتا ہے ۔اس لیے نکاح کے حوالے سے اس کا ایک طریق کار ہے جو ہمارے معاشرے میں موجود ہے ۔ جو نبی کریم ﷺ کے زمانے کے معاشرے میں بھی موجود تھا ۔ اسی طریقے کو اپنایا جائے اسی میں برکت اور خیر ہے.\n\nگھر سے فرار، والدین سے بغاوت، عشق و عاشقی جو میرے نزدیک بے راہ روی کی علاوہ کچھ اور نہیں ، کی قطعا کوئی گنجائش نہیں۔ کسی لڑکی کی اپنے والد کی ترجیح سے انکار کی خبر دینے والے ایسے کتنے کیسسز نبی کریم ﷺ کے زمانے کے لا کر دکھا سکتے ہیں ، جہاں عشق و عاشقی کا جذبہ کار فرما ہو ۔جہاں ولی کے بغیر گھر سے باہر بھاگ کر شادی کر لی گئی ہو؟\nبلند مقاصد کی راہ پہ چلنے والے اس دنیا سے باہر اور بلند ہوتے ہیں ۔\n؁ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے\nجتنا اس فلمی عشق و عاشقی کو سپورٹ مغربی فکر کے زیر اثر رہ کر کیا جائے گا، ہمارے معاشرے میں المیہ اتنے ہی زیادہ رپورٹ ہوں گے. غیرت کے نام پر قتل ہو یا نافرمانی کے نام پہ (ان دو چیزوں کو بھی خلط ملط کر دیا جاتا ہے) ناقابل قبول ، ناقابل معافی اور ناقابل برداشت ہیں ۔ اس کا کوئی تعلق دین سے نہیں ۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا. مگر ہم کو کہا جائے کہ عاصمہ جہانگیر جن کا نعرہ تھا "میں تو ناچوں گی، میں تو گائوں گی" ۔ میرے لیے قابل تقلید ہیں تو میں معذرت چاہتا ہوں\n\nاسلامی معاشرت کی بنیاد اللہ کا خوف ، اسوہ رسول ﷺ اور تعلیمات رسول ﷺ پہ کامل ایمان ، شرم و حیا ، والدین کی اطاعت اور حسن اخلاق مع ایثار اور وفاداری پہ قائم ہے ۔ اس میں سے کسی ایک چیز کو بھی ہلایا جائے گا تو عمارت کا انہدام ہوگا ۔ جس کی کاوش آج کا میڈیا ور اس کے ایجنٹ کر رہے ہیں\n\nبس یہ ہمیں منظور نہیں ۔ میں زہر ہلاہل و کبھی کہہ نہ سکا قند

Comments

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی معروف سروے کمپنی پلس کنسلٹنٹ، کراچی کے سربراہ ہیں، اسلامی اور معاشرتی موجوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.