دائروں کا سفر – زینی سحر

کھڑکی کے پٹ کھلے ہیں، اور میں اس کے قریب بیڈ پہ لیٹی کھلے آسمان کو دیکھ رہی ہوں. کمرے کی گھڑی اپنے مخصوص دائرے میں چل رہی ہے. اور اس مخصوص دائرے میں چلتے ہوئے بھی اپنی بساط کے مطابق شور بپا کیے ہوئے ہے.. ٹک ٹک ٹک.. ٹک.. بالکل ہم انسانوں کی طرح مزید پڑھیں

یہ جو زندگی کی کتاب ہے – حرم فارس

زندگی کی کتاب پڑھتے ہوئے ہمیں اپنی مشکلات کو سمجھنا تھا۔ سمجھ کر ان کو حل کرنا تھا۔ پھر ان کے گرداب سے نکلنا تھا۔ اس کے بے سکون گھیرے سے جان چھڑوانی تھی۔ ایسے گھیرے سے جو دماغ کے گرد تنگ سے تنگ ہو رہا ہو اور اس نے اپنے جال میں ہماری ذات مزید پڑھیں

با اخلاق اور کارآمد بڑھاپے کی تیاری – فرح رضوان

دیکھا جائے تو انسان کے سارے ہی کام بروقت اور درست، صرف اسی صورت میں ہو پاتے ہیں جب ان کاموں کا ننھا بیج وقت آنے سے بہت بہت پہلے، بہت احسن طریقے پر بویا اور سینچا جاتا رہا ہو. ہم زندگی بھر بےشمار سنگ میل طے کرتے سفر جاری رکھتے ہیں، کیرئیر، شادی، بچے، مزید پڑھیں

لفظوں کے سوداگر – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مجھے لفظوں سے محبت تھی .. لفظوں میں چھپے جذبے .. پرت در پرت کھلتے مفہوم .. ہلکی ہلکی نکیلی باتیں جن کی کسک محسوس تو ہو لیکن تکلیف دہ نہ ہو .. لفظوں کے لہجے.. لفظوں کی ترتیب .. ترتیب کا الجھاؤ اور اس میں چھپے رنگ بدلتے معنی .. بہتے پانی کے دھارے مزید پڑھیں

قندیل بلوچ، فکشن اور زندگی کی حقیقتیں – محمد عامر خاکوانی

ارادہ تو سیاست پر لکھنے کاتھا۔ نیوز لیکس والا معاملہ بے شک حکومت اور ادارے اپنی طرف سے نمٹا چکے ہیں، مگر ہم اس موضوع پر نصف درجن کالم لکھ چکے ہیں تو ایک اختتامی کالم لکھنے کا حق بہرحال محفوظ رکھتے ہیں۔ آج مگر سوشل میڈیا کے گرداب نے اپنے موضوع سے ہٹا دیا۔ مزید پڑھیں

خدا، انسانی نَشوونما، بڑھاپا اور سائنس – مجیب الحق حقی

اگر ہم اطراف پر نظر ڈالیں تو یہی نظرآتا ہے کہ انسان نے مجموعی طور پر خدا کو بھُلا کر اپنی اجتماعی زندگی سے ایسے خارج کردیا ہے کہ جیسے خدا ہے ہی نہیں۔ ملکوں کے نظام سے لے کر بین الاقوامی سطح پر اہم سیاسی عہد نامے جیسے انسانی حقوق کاچارٹر اور مختلف نظام مزید پڑھیں

ہم وہ ہرگز نہیں، جو نظر آتے ہیں – نورین تبسم

انسان اپنے اندر لامتناہی وسعتیں رکھتا ہے، اس کو جاننےکے لیے کسی قسم کے مشکل اسباق پڑھنے کی ضرورت نہیں، صرف اپنے اوپر ایک نظر ڈال لیں تو حیرت کے در کُھلتے چلے جائیں گے۔ زندگی کا پہیہ جیسے جیسے سِرکتا ہے، ہر موڑ پر ہماری شخصیت کا ایک نیا منظر دکھائی دیتا ہے، اور مزید پڑھیں

بھریا میلہ – نورین تبسم

”ہر میلہ اُجڑنے کے لیے ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کا ہو یا خواہشوں کا.“ جو آیا ہے اُس نے جانا ہی ہے۔ آنے پر اختیار ہے اور نہ جانے پر۔ شکم ِمادر میں نئی کونپل کی نوید سے لے کر روشنی میں اُس کی رونمائی تک کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی، مزید پڑھیں

تصور ِ کامیابی – شاکراللہ چترالی

یہ ایک تنقیح طلب امر ہے کہ یہ جو بعض لوگ غیر ضروری اور لا طائل مہم جوئیوں میں جان کھپا دیتے ہیں اور ایسے کارنامے انجام دینے کو سرگرداں رہتے ہیں جن کا اِک نام بنانے کے سوا کوئی خاص فائدہ پیشِ نظر نہیں ہوتا، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کسی آدرش کے مزید پڑھیں

خوف اور مایوسی سے خودکشی تک – زینت جہان

خوف کا سب سے پسندیدہ مسکن انسان کا دل ہے اور جس دل میں خوف اور مایوسی کی جڑیں پھیلنے لگیں تو اس کے خیالات کے شجر میں خزاں رت ٹھہر جاتی ہے، اور وہ زندگی سے مایوس ہو کر موت کو گلے لگا لیتا ہے. انسان فطری طور پر ایک خوف زدہ مخلوق ہے. مزید پڑھیں