دیہاتی،گنوار اور شہری دانشور – شہیر شجاع

وہ چار اکثر ملکی حالات و واقعات، خصوصا سیاسی خبروں پر زور و شور سے تجزیے کرتے، آپس میں لڑ پڑتے، ہر ایک کو بزعم خود دانشوری کا خمار تھا۔ پانچواں ان سے الگ تھلگ کچھ دیر رک کر ان کا چہرہ تکا کرتا۔ یہ لوگ اچٹتی نگاہ اس کی جانب ڈالتے، ذرا مسکراتے اور مزید پڑھیں

نئے قلم کاروں کے نام – عادل لطیف

موجودہ دور میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے. سیکولرازم، لبرل ازم اور الحاد کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے. اسلام کی وہ تعبیر پیش کی جا رہی ہے جس سے اسلام کا دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں ہے. خواتین کے حقوق کی آڑ میں اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے. مزید پڑھیں

حقیقی و غیرجانبدار دانشور کیسا ہوتا ہے؟ داؤد ظفر ندیم

میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ پاکستان کا دانشور چاہے اس کا تعلق رائٹ سے ہو یا لیفٹ سے، اپنے اکثر تجزیوں میں جانبدار اور انتہا پسند ہوتا ہے۔ رائٹ والوں کے بارے میں مجھے پورا یقین تھا کہ وہ کارل مارکس، ہندو دشمنی، مسلمانوں کی جھوٹی عظمت اور جذباتیت اور اب مغرب اور امریکی زندگی مزید پڑھیں

نیا سال مبارک – محمود فیاض

۔ آدھی رات کا وقت، شہر کے آخری کونے سے پرے ویران پڑے ریستوران کی میز پر چاروں دوست ایک سال بعد ملے تھے۔ ۔ دانشور، دلدار، سنکی اور سائنسدان … چاروں ہی سر جھکائے کاؤنٹر کے قریب لگے ریڈیو کی نشریات سن رہے تھے، نئے سال کی آمد میں مختلف پروگرام نشر ہو رہے مزید پڑھیں

آپ کیوں لکھتے ہیں؟ عابد محمود عزام

کوئی بھی لکھاری دیگر فنکاروں اور ہنرمندوں کی طرح ایک تخلیق کار، فنکاراور ہنرمند ہی ہوتا ہے، جو معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اور سوچتا ہے، اسے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے ذہن پر ثبت مزید پڑھیں

راتب خور دانشور اور نظام – محمد صغیر قمر

مدتوں سے نام نہاد راتب خور دانشور اس قوم نما ہجوم کو ڈرا رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر یہ نظام لپیٹ دیا گیا تو کچھ نہیں بچے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس نظام کی موجودگی میں عوام کے پاس کیا بچا ہے؟ وہی چہرے، وہی نعرے، وہی دعوے، وہی وعدے وہی توندیل مزید پڑھیں

لبرلزم کا سلو پوائزن اور دانشور – اویس قرنی

بچپن میں ایک لطیفہ پڑھا تھا:\n”آدھی رات کا وقت تھا. کہ ایک آدمی چیخ مار کے نیند سے جاگا اور زور زورسے رونے چلانے لگا. ذرا سی دیر میں گھر والوں کے علاوہ ہمسائے بھی خبرگیری کو جمع ہوگئے. سب نے چپ کرانے کی کوشش کی اور پوچھا کیا ہوا ہے؟\nاس نے روتے ہوئے بتایا مزید پڑھیں

جمہوریت اور دانشور – شہیر شجاع

دانشوران پاکستان کا آج کل کا موضوع ”جمہوریت اور دشمنان جمہوریت“ ہے۔ خوب جم کر دلائل ، نقطہ نظر و مؤقف کے ساتھ صفحات سیاہ کیے جا رہے ہیں۔\n\nبقول کالم نگار مؤقف جانبداری پر مبنی ہوتا ہے جبکہ تجزیہ غیر جانبدار ،اسی لیے تجزیہ کار کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ سو قاری جو حق مزید پڑھیں

بحران اور سوشل میڈیائی دانشور – محمد بن کامران

یوں تو پاکستان کسی نا کسی بحران میں گِھرا رہتا ہے۔ توانائی کا بحران، پٹرول اور گیس کا بحران، ویسے لیڈرشپ، برداشت، انسانیت، اخلاقیات کا بحران بھی شدت سے جاری ہے، پاکستان نہ ہوا بحرانستان ہوگیا، مگر ان تمام بحرانوں کے باوجود پاکستان نے ایک شعبے میں بےحد ترقی کی ہے۔ جی ہاں! یہ شعبہ مزید پڑھیں