ایمان بالغیب صرف عقل سے حاصل ہوتا ہے، غامدی صاحب کا نیا اجتہاد – سید خالد جامعی

غامدی صاحب اس امت کے پہلے محقق مجتہد اور مفکر ہیں جو ایمان بالغیب کی ایک ایسی توجیہہ پیش کرتے ہیں جو اس امت کی تاریخ تہذیب قرآن و سنت اور اسلامی علمیت کے لیے بالکل اجنبی غلط اور ناقابل قبول ہے غیب پر اور تقدیر پر ایمان کے بغیر کسی مسلمان کا ایمان مکمل مزید پڑھیں

کشمیر اور بلوچستان کے تقابلی جائزے پر ایک رائے – عبدالحکیم اسماعیل

گزشتہ دنوں دلیل پر محترم رعایت اللہ فاروقی صاحب کا ایک کالم ”کشمیر اور بلوچستان، ایک تقابلی جائزہ“ کے عنوان سے نظر سے گزرا۔ مذکورہ کالم میں جس طرح فاروقی صاحب کے زوردار اور قدرے کانٹے دار قلم سے توقع کی جاتی ہے، بہت ہی جاندار تعابیر، استعارات اور تضادات سے کام لیا گیا ہے۔ مزید پڑھیں

قتل کرکے پوچھتے ہیں یہ جنازہ کس کا ہے – ثقلین مشتاق

دلیل ڈاٹ پی کے پر ایک تحریر کے مطالعہ کا اتفاق ہوا۔ فاضل دوست نے بہت ہی عمدہ انداز سے ایم کیوایم قائد کی دھرتی ماں سے بےوفائی، ٹارگٹ کلنگ اور چائنا کٹنگ کے کارناموں کومحض الزام قرار دے کر مسترد کرنے کے ساتھ متحدہ کو پاک دامنی، حُب الوطنی اور عوام دوستی کا سرٹیفکیٹ مزید پڑھیں

کیا کفر و ضلالت مبنی بر ”دلالت“ ہے؟ محمد تہامی بشر علوی

احباب گمرہی کا رشتہ ”دلالت“ سے جوڑ بیٹھے. کہا گیا کہ جہاں دلالت قطعی ہوگی اس کا انکار کفر ہوگا، اور جہاں ظنی ہوگی وہاں حکم بتدریج کم ہوتا جائےگا. مکتب فراہی چوں کہ دلالت کو قطعی مانتا ہے، اب یا تو اس قطعی مفہوم کے منکرین کو کافر کہے یا مان جائے کہ کلام مزید پڑھیں

باچا خان محب وطن تھے یا غدار؟

خان عبدالغفار خان کون تھے؟ یہ جاننے کے لیے ان کے خطبات پڑھنا ضروری ہے۔ سینئر صحافی ضیاشاہد نے دلیل پر شائع ہونے والے سلسلہ وار مضامین میں کہا ہے کہ باچا خان غدار تھے۔ قارئین کرام یہ خطبات پڑھیں اور باچاخان کے بارے میں جانیں کہ وہ غدار تھے یا ایک محب وطن۔ (فیاض مزید پڑھیں

خلافت و ملوکیت اور مولانا مودودی (رح) کی سیاسی فکر، اصل مسئلہ – محمد زاہد صدیق

مولانا مودودی (رح) کی ”خلافت و ملوکیت“ پر گرما گرم بحث کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ یہ موضوع جس قدر احتیاط کا متقاضی ہے، بدقسمتی سے اس کتاب میں مولانا کا انداز بیان اور تجزیہ اس احتیاط کو ملحوظ نہ رکھ سکا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں اختیار کردہ طریق تجزیہ کی مزید پڑھیں

جاوید غامدی، سلاست اور علمی مباحث – محمد دین جوہر

گزشتہ کچھ عرصے سے ورقی اور برقی میڈیا میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے ”جوابی بیانیہ“ پر بحث چلی آتی ہے۔ سہ ماہی ”جی“ نے بھی اپنی ایک اشاعت میں بساط بھر اس بیانیے کے مذہبی اور نظری پہلوؤں پر گفتگو کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ ابھی حال ہی میں جناب نادر مزید پڑھیں

قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ یا واضح الدلالہ اور خفی الدلالہ – ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

عزت مآب جناب عزیز ابن الحسن صاحب نے ایک صاحبِ علم کی تحریر پر میری رائے مانگی ہے۔ چند نکات پیش ِخدمت ہیں:\r\n\r\n1۔ یہ کہ قرآن کے قطعی الدلالہ ہونے کے لیے قرآن ہی کی آیات سے استدلال مصادرہ مطلوب کا مغالطہ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ جن آیات سے آپ قطعیت ثابت کررہے مزید پڑھیں

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات – طارق محمود ہاشمی

راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا ہے (۱)۔ المورد کے مزید پڑھیں

ابوالاعلی کو ”تحقیق“ پسند ہے – حاشر ابن ارشاد

کہانی ہو کہ افسانہ، مضمون ہو یا خاکہ، تنقید سے کچھ بھی مبرا نہیں مگر تنقید بےسروپا لفظوں کو صفحے پر کھینچنے کا نام نہیں ہے۔ نقاد کے کندھوں پر معیار، اسلوب اور نکتہ آفرینی کا بوجھ ہوتا ہے۔ ہر جملہ دلیل نہیں ہوتا اور ہر دعوی سچ نہیں بنتا جب تک کہ منطق اور مزید پڑھیں