رین رنگ سہاگ سنگ (2) – سائرہ ممتاز

اس رجل سفید پوش،گھڑ سوار نے پشکر میں داخل ہوتے سمے تین ناریوں کو درختوں کے جھنڈ میں سڑک پر کھڑے دیکھا اور سوچنے لگا کہ یہ لڑکیاں یہاں کھڑی کیا کر رہی ہیں، اس کے دماغ میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید کسی آوارہ کتے کے پیچھے پڑنے کے باعث اس سنسان سڑک مزید پڑھیں

مجھے مستور رہنے دو – ام الہدیٰ

وہ کوئی تیسری بار اپنی اس ضدی سی سہیلی سے اصرار کرنے آئی تھی، اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ مان جائے۔ ”دیکھو! ایسے اچھا نہیں لگتا، تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ سب کیا کہیں گے کہ آج بھی تم اس بڑے سے ٹینٹ میں چھپی بیٹھی ہو!“ اس نے نہایت اطمینان سے آگے مزید پڑھیں

میری ذات کا جو نشاں ملے – جویریہ سعید

وہ جو جنگل کے راستے پر پھول پر جمع کیا کرتی تھی، وہ ایلس تھی. بولتی سوچتی آنکھوں والی ایلس. پھول چننا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا، خاص طور پر ایسی جھاڑیوں میں ننھے پھول ڈھونڈھنا جن میں کانٹے بہت ہوتے ہیں. مشغلے تو اس کے اور بھی بہت سے تھے، کتابیں پڑھنا، کہانیاں لکھنا، مزید پڑھیں

سرکاری مہر والا خط۔ ـــ محمد مبین امجد

یہ جمعرات کی جھڑی تھی، جس کے بارے میں یقین تھا کہ ایک بار شروع ہو جائے تو پھر پورا ہفتہ ہی مینہ برستا رہتا ہے۔۔۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی بارش کی بجتی جلترنگ سن رہی تھی، کمرے میں ریڈیو بج رہا تھا۔۔۔ اچانک کسی نے باہر کا دروازہ دھڑ دھڑایا، ناچار اسے اٹھ مزید پڑھیں

بے لباس عنایتیں – نصرت یوسف

ہینگرز میں لٹکے سارے کپڑے ایک سے بڑھ کر ایک جاذب نظر لگ رہے تھے۔ کپڑے کی نرمی سے سلائی کی نفاست تک سب ہی عمدہ تھا۔ یہ وہ کپڑے تھے جو کستوری حیدر نے اپنے دریافت کردہ بہترین کاریگروں سے اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کرتے تیار کروائے تھے۔ ہر جوڑے پر لگا ٹیگ مزید پڑھیں

مشن 2030ء – ڈاکٹر رضوان اسد خان

”ٹینا، تمہیں پتہ ہے کہ تم کتنی پر کشش ہو؟“ ناز نے پورے پانچ منٹ تک باریک کاٹن کے بلیک سلیو لیس ٹاپ، سکن ٹائٹ جینز اور بلیک ہائی ہیل سینڈلز میں ملبوس ٹینا کو سر تا پا گھور کر اس کی تعریف کی. ”آئینہ تو کنجوسی کر جاتا ہے، پر کالج کے لڑکوں کی مزید پڑھیں

تھانے دار، امجد حسین سے حسین امجد تک – مائل شبلی

میں اسے گہری نظر سے دیکھتا بھالتا ہوں مگر کہیں سے بھی اس میں اُس کی جھلک نظر نہیں آتی۔ کہنے کو اب وہ تھانے دار ہے، جس کی دشمنی اور پیار دونوں ہی خوں خوار ہوتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے دشمنی خون خواری میں زیادہ جان دار ہو اور یہ بھی ممکن ہے مزید پڑھیں

سیہون – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اک شاپر گوشت ملا ہے کچلی ہوئی امیدوں کا درد میں ڈوبی روحوں کے دم توڑتے نوحوں کا اک بوتل تھی ٹوٹ گئی ہے منت کے روغن میں لپٹی امیدیں بھی چھوٹ گئی ہیں میرا بچہ چھوٹا سا تھا خالی فیڈر صحن سے ملا ہے باقی کچھ بھی باقی نہیں ہے وہ بابا کھچڑی بالوں مزید پڑھیں

فیروزا سائیں (آخری قسط) – ریحان اصغر سید

حوالات میں میرے علاوہ بھی کچھ لوگ بند تھے۔ کچھ تو عارضی مہمان تھے جو چھوٹے موٹے کیسوں میں آئے ہوئے تھے۔ باقی دو ڈکیت میری طرح ڈرائنگ روم کی سیر کر کے آئے تھے۔ وہ دوسری طرف مدہوش پڑے تھے۔ باقی لوگ بھی چادریں اوڑھے سو رہے تھے۔ سامبی مجھ سے کچھ دور دیوار مزید پڑھیں

فیروزا سائیں (4) – ریحان اصغر سید

وہ رات میں اپنے گھر میں ہی رہا۔ صبح میں نے دونوں گھروں کی مشترکہ پانچ فٹ بلند دیوار سے شبو کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر اداسی تھی، وہ مجھے دیکھ کر چپ چاپ اندر چلی گئی۔ مجھے امید تھی کہ شبو موقع دیکھ کر کچھ دیر کے لیے ضرور آئے گی لیکن میں مزید پڑھیں