بھیا طُمطُراق بنے مہمان – حنا نرجس

حلیمہ کی ہنسی قابو میں نہیں آ رہی تھی. وانیہ بھی منہ پر ہاتھ رکھے اپنے قہقہے کو کم از کم کچھ دیر تک معطل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی. امی تشویش میں مبتلا، کھانا ادھورا چھوڑ کر ایک دم آگے بڑھی تھیں. ابو بھی پریشانی سے اسی جانب دیکھ رہے تھے جبکہ ننھا مزید پڑھیں

وہ زندگی کے کچھ دن – نصرت یوسف

سنگی بنچ پر بیٹھی وہ خود سنگی مجسمہ لگ رہی تھی جسے بنانے والے نے نوک پلک سے سنوار کر دنیا کے میلے میں بٹھا دیا ہو۔ بےحس، بےحرکت، اور خاموش۔ وہ لیلیٰ نواز تھی جو جمال آفریں تھی۔ خوبصورت نرم ہاتھوں میں کوئی زیور چمکتا دکھائی نہ دے رہا تھا،گلابی ایڑھیوں والے پیر زیتونی مزید پڑھیں

اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (5) – اسری غوری

شازینہ بابا کی گود میں سر رکھے جانے کب سو گئی تھی. بابا دھیرے سے اس کا سر تکیے پر رکھ کر باہر آگئے مگر ہر دن بگڑتی حالت ان کو مستقل تشویش میں مبتلا کر رہی تھی. انہوں نے اپنے کمرے میں جاکر اپنے بہت ہی پرانے دوست احمد شاہ بخاری کا نمبر ڈائل مزید پڑھیں

کتابچی (2) – سعود عثمانی

’’یہ دیکھیے! یہ وہ تختی ہے جو بّرصغیر پاک و ہند میں پائی جانے والی قدیم ترین تحریروں میں سے ہے. انتہائی نادر اور انتہائی اہم. اس کو حاصل کرنے والا عجائب گھر اس کی موجودگی پر اِتراتا ہے اور دُور دُور سے ماہرین آثار ِقدیمہ اس کو محض ایک نظر دیکھنے آتے ہیں. یہ مزید پڑھیں

عطرگل – سائرہ ممتاز

محبوب! پورے چاند کی رات ہے. روہی کے سینے پر ٹھنڈی ریت چاند کی روشنی میں چمک رہی ہے. ستارے دھرتی پر بکھرے ان کھربوں روشن جبینوں سے جھک جھک کر گلے مل رہے ہیں.گویا ملن کی رات ہو. اس یخ بستگی کو محسوس کرتے ہوئے ایک گھڑ سوار مشرق کی اور سے نمودار ہوتا مزید پڑھیں

یہ حلب رو رہا ہے – مبارک بدری

ہر سمت سے صدائیں کیسی یہ آرہی ہیں ہر کوئی سن رہا ہے ہر کوئی پوچھتا ہے کہنا کہ ایک ظالم ایسا بھی ہے جہاں میں معصوم روح کو بھی جو بخشتا نہیں ہے اور یہ صدائیں شستہ جو سن رہے ہو تم سب مظلوم کی بکا ہے یہ حلب کی صدا ہے یہ حلب مزید پڑھیں

کتابچی – سعود عثمانی

مئی کا مہینہ تھا اور ابر آلود موسم میں استنبول کی ایک سہ پہر. میں جامعہ استنبول کے ارد گرد کی گلیوں میں گھوم رہا تھا. شہر کے یورپی حصے میں تاریخی عمارات اور داستانیں سموئے ہوئے مقامات کے درمیان یہ علاقہ بہت پر رونق ہے اور ٹف ٹائل کے کھڑنجے سے بنی ان گلیوں مزید پڑھیں

ناگ سائیں (آخری قسط) – ریحان اصغر سید

‎ناگ سائیں کی آنکھیں بند تھیں اور پیشانی پر پیسنے کے قطرے چمک رہے تھے۔ وہ گرد و پیش سے مکمل بےنیاز نظر آتا تھا۔ اس سے چند فٹ دور کھڑے گن بردار پولیس والوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال سکیں۔ اگر نوکری کی مجبوری نہ ہوتی مزید پڑھیں

ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں – حسان احمد اعوان

ایسے کُچھ لوگ بھی مٹی پہ اُتارے جائیں دیکھ کر جن کو خدوخال سنوارے جائیں ایک ہی وصل کی تاثیر رہے گی قائم کون چاہے گا یہاں سال گزارے جائیں تیرے مژگاں ہیں کہ صُورت کوئی قوسین کی ہے درمیاں آکے کہیں لوگ نہ مارے جائیں اِک جُنوں ہے کہ تُجھے پانا ہے دُنیا میں مزید پڑھیں

بھول یا بھول بھلیاں؟ فرح رضوان

ایک سے بڑھ کر ہر اک کوڑھ مغز بھنبھناتا ہوا بھنورا ہو یا گستاخ مگس سب کا کہنا ہے، ہمیں بھول کی ہے بیماری سینت کے رکھی ہوئی چیز نہ مل پائے کبھی بیچاری ہم جو کہتے ہیں کہ یہ عمر کا تقاضا ہے کیا کبھی یوں ہی سہی، گذرے کل میں جھانکا ہے؟ بھول مزید پڑھیں