اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (2) – اسری غوری

آپ کو معدے کا کینسر ہے مسز شازینہ! آپ کو بتانا اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ساتھ کبھی کوئی نہیں آتا، آپ ہمیشہ اکیلی ہی آئیں، اس لیے مجبورا آپ کو بتانا پڑ رہا ہے. آپ پڑھی لکھی سمجھدار ہیں ورنہ ہم ایسی نیوز مریض کو کم ہی بتاتے ہیں، ہم اسے معدے مزید پڑھیں

نصیب – مائل شبلی

دن بھر کا تھکا ہارا، وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کا چہرہ ستا ہوا تھا اور سنجیدگی اس کی شکل سے نچڑ رہی تھی۔ دروازہ اس کے چھوٹے بیٹے نے کھولا۔ دروازے کے ساتھ ہی چھوٹا سا صحن تھا جہاں ایک طرف اس کی بیوی چارپائی پر بیٹھی تھی، اس کے چہرے پر مزید پڑھیں

رین رنگ سہاگ سنگ (3) – سائرہ ممتاز

نرملا… ارے او نرملا… بھابھو آواز دیتی آ رہی تھیں، ’’کہاں رہ گئی ہو، پانی رکھ دیا مہمان کے کمرے میں.‘‘ وہ جلدی سے پیچھے ہٹی، سینہ دھوکنی ہو گیا تھا، آنکھیں غزال کا ویرانہ، ’’نہیں بھابھو، میں چادریں ڈال ہی رہی تھی کہ بھیا جی آ گئے، ابھی رکھ دیتی ہوں.‘‘ نرملا بھاگ کر مزید پڑھیں

اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے – اسری غوری

وہ ایمرجنسی وارڈ میں میرے سامنے والے بیڈ پر ہوش و حواس سے بلکل بیگانہ تھی، ساتھ جو اٹینڈنٹ تھا، وہ مستقل بے جان ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں دبائے تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کے کان کے پاس جا کر کہتا ’’اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے.‘‘ اس کے لہجے میں موجود درد اور مزید پڑھیں

بٹ خیلے کا ندیم ولی – زارا مظہر

کیت کیت کیت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھور سمے ریشم جاناں کی کانوں کو چھیدتی آواز سارے نئے نویلے جوڑوں کے لیے اذّیت اور نیند میں خلل کا باعث بن جاتی مگر اسے مطلق پرواہ نہ ہوتی۔ دونوں لائنوں کے گھروں سے اکٹھی کی گئی روٹیاں وہ رات پانی میں بھگو دیتی اور مزید پڑھیں

رین رنگ سہاگ سنگ (2) – سائرہ ممتاز

اس رجل سفید پوش،گھڑ سوار نے پشکر میں داخل ہوتے سمے تین ناریوں کو درختوں کے جھنڈ میں سڑک پر کھڑے دیکھا اور سوچنے لگا کہ یہ لڑکیاں یہاں کھڑی کیا کر رہی ہیں، اس کے دماغ میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید کسی آوارہ کتے کے پیچھے پڑنے کے باعث اس سنسان سڑک مزید پڑھیں

مجھے مستور رہنے دو – ام الہدیٰ

وہ کوئی تیسری بار اپنی اس ضدی سی سہیلی سے اصرار کرنے آئی تھی، اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ مان جائے۔ ”دیکھو! ایسے اچھا نہیں لگتا، تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ سب کیا کہیں گے کہ آج بھی تم اس بڑے سے ٹینٹ میں چھپی بیٹھی ہو!“ اس نے نہایت اطمینان سے آگے مزید پڑھیں

میری ذات کا جو نشاں ملے – جویریہ سعید

وہ جو جنگل کے راستے پر پھول پر جمع کیا کرتی تھی، وہ ایلس تھی. بولتی سوچتی آنکھوں والی ایلس. پھول چننا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا، خاص طور پر ایسی جھاڑیوں میں ننھے پھول ڈھونڈھنا جن میں کانٹے بہت ہوتے ہیں. مشغلے تو اس کے اور بھی بہت سے تھے، کتابیں پڑھنا، کہانیاں لکھنا، مزید پڑھیں

سرکاری مہر والا خط۔ ـــ محمد مبین امجد

یہ جمعرات کی جھڑی تھی، جس کے بارے میں یقین تھا کہ ایک بار شروع ہو جائے تو پھر پورا ہفتہ ہی مینہ برستا رہتا ہے۔۔۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی بارش کی بجتی جلترنگ سن رہی تھی، کمرے میں ریڈیو بج رہا تھا۔۔۔ اچانک کسی نے باہر کا دروازہ دھڑ دھڑایا، ناچار اسے اٹھ مزید پڑھیں

بے لباس عنایتیں – نصرت یوسف

ہینگرز میں لٹکے سارے کپڑے ایک سے بڑھ کر ایک جاذب نظر لگ رہے تھے۔ کپڑے کی نرمی سے سلائی کی نفاست تک سب ہی عمدہ تھا۔ یہ وہ کپڑے تھے جو کستوری حیدر نے اپنے دریافت کردہ بہترین کاریگروں سے اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کرتے تیار کروائے تھے۔ ہر جوڑے پر لگا ٹیگ مزید پڑھیں