قلم برداشت ادب – مشفق خواجہ

ڈاکٹر سلیم اختر ہمارے دیرینہ کرم فرما ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی کتابیں عنایت فرماتے رہتے ہیں بلکہ گاہ گاہ دوسروں کی تصانیف بھیج کر بھی ہماری ادبی و علمی تربیت کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ ہمارے علم کا ۹۵ فیصد حصہ ڈاکٹر صاحب ہی کی عطا کردہ کتابوں کا مرہون منت ہے۔ یہی مزید پڑھیں

ذرا مسکرائیے… یوسف ناظم

جلسہ ہو یا مشاعرہ، قوالی کی محفل ہو یا کوئی سرکاری تقریب، کھیل کا میدان ہو یا سیاست کا ایوان، ایسی تمام جگہوں پر دعوت اور ٹکٹ کے بغیر داخل ہو جانے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ گلے میں ایک ناکارہ کیمرا لٹکا لیا جائے۔ کیمرا لٹکا رہے‘ تو گردن سیدھی رہتی ہے اور راستہ مزید پڑھیں

اسمبلی کے سپیکر کے نام ایک خط کنہیا لال کپور کے قلم سے

\nمحترمی! نہایت بے ادبی اور گستاخی سے آپ کی خدمت میں التماس کرنا چاہتا ہوں کہ آپ ورزا، کو ہدایت فرمائیں کہ اسمبلی میں سوالات کے جوابات دیتے وقت اپنے اوسان بجا رکھا کریں۔ مجھے شک ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ جب سے اسمبلی معرض وجود میں آئی ہے‘ کسی معقول سوال کا جواب مزید پڑھیں

تنقید جدید…عامر عثمانی

\n\nایک مظلوم شوہر گرمیوں کی دوپہر میں ٹھیک بارہ بجے گھر لوٹا۔ اس کا معدہ مارے بھوک کے حلق تک چڑھ آیا تھا۔ اسے توقع تھی کہ اس کی شوہر پرست بیوی باورچی خانے کی پیڑھی پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی ہو گی۔ لیکن جب وہ اکسٹھ باسٹھ کرتا ہوا گھر میں داخل مزید پڑھیں

ساختیات کے ماہر : ڈاکٹر گوپی چند نارنگ…خامہ بگوش کے قلم سے

ہندوستان سے ہمارے سیاسی تعلقات کیسے ہی ہوں، ادبی مراسم نہایت خوشگوار ہیں۔ یہاں کے ادیب اور وہاں کے ادیب یہاں کثرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ادب، ادب نہیں رہا، سیروسیاحت کا وسیلہ بن گیا ہے ۔ اس صورت حال سے بہت سے جعلی ادیبوں نے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ جنھیں اپنے مزید پڑھیں

کاغذی کتاب بمقابلہ ای بک – مجذوب مسافر

حال ہی میں کتاب “میرا مطالعہ” کا مطالعہ مکمل کیا. یہ کتاب عرفان احمد صاحب کی کاوش ہے جس کی تدوین عبدالرؤف صاحب نے کی اور “ایمل مطبوعات” نے خوبصورت طریقے یعنی ظاہری خوبصورتی کا اہتمام کرتے ہوئے اسے شائع کیا. قدرے گہرے رنگ کا سرورق جس پر ان تمام اہل علم کی تصاویر موجود مزید پڑھیں

قافیہ و ردیف کا بوجھ… خامہ بگوش کے قلم سے

\nہم تین چیزوں سے بہت ڈرتے ہیں۔ تجریدی مصوری سے، علامتی افسانے سے اور اساتذہ کے کلام سے۔ وجہ یہ ہے کہ اِن تینوں کے مفہوم اخذ کرنا ناظر یا قاری کی ذمہ داری ہے نہ کہ مصور، افسانہ نگار اور شاعر کی۔ مصور الوان و خطوط سے، افسانہ نگار الفاظ سے اور اساتذۂ سخن مزید پڑھیں

کہاوتوں کی دِلچسپ کہانیاں..پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی

\n“دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا یا ہوجانا” اس کہاوت کا مطلب ہے انصاف ہونا اور یہ ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب سچ اور جھوٹ الگ ہوجائیں اورہر کسی کو اس کے اچھے یا برے کام کا بدلا ملے۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ ایک گوالا بڑا بے ایمان تھا اور مزید پڑھیں

خامہ بگوش کے قلم سے

\nنوری نستعلیق کا ذکر آیا تو ایک لطیفہ بھی سن لیجیے۔ کچھ عرصہ ہوا نوری نستعلیق کے موجد جناب جمیل مرزا نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس کے بعد عشائیہ بھی تھا۔ جمیل مرزا صاحب نے ایک صحافی سے پوچھا: ’’کیا آپ کو کھانا پسند آیا؟‘‘ صحافی نے جواب دیا: ’’بہت مزے کا کھانا مزید پڑھیں

لختِ جگر – عالمی ادب سے منتخب بہترین اور شاہکار افسانہ – شولم آش

بچے کے بِلکنے سے بوریاؔ کی نیند اچٹ گئی۔ آنکھیں بند کیے بیوی کو پکارا۔ گولڈاؔ کو چپ کرائیو۔ رورہا ہے۔\nگولڈا کی طرف سے کوئی جواب نہ سنا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اِدھر اُدھر دیکھا۔ معلوم ہوا کہ گھر میں نہیں ہے۔ پہلے تو کچھ حیرت ہوئی، پھر سوچا نہانے کو گئی ہوگی۔ مزید پڑھیں