بیچاری نمو – الماس چیمہ

نمو دوپٹے کے پلو سے ہونٹوں کو چھپائے جھاڑو لگا رہی تھی جب اماں نے آ کر پکڑ لیا اور ہونٹوں سے دوپٹہ ہٹا کر رگڑ کر لپ سٹک صاف کی. موئی تجھے کتنی بار کہا ہے کہ کنواری لڑکیاں میک اپ نہیں کرتیں. شادی کے بعد کرنا، اپنے میاں کو دکھانا، اب کرنے کا مزید پڑھیں

خالی کتنا بادل ہے – سمیرا غزل

عشق کے فسانے میں حسن زہر قاتل ہے پھر قیاس ہے مجنوں لیلی غیر عامل ہے کس قدر گرجتا ہے خالی کتنا بادل ہے روح بھی ہے شرمندہ جسم کتنا کاہل ہے پیار کا بس اک لمحہ زندگی کا حاصل ہے بالکل سرمد جیسا ہے دل بھی خود سے غافل ہے جذبہ کتنا سچا ہے مزید پڑھیں

محبت مقصد حیات نہیں – الماس چیمہ

میں ایک کالج میں لیکچرار تھی، ان دنوں کمر میں شدید درد تھا تو آرام کی غرض سے چند چھٹیاں لے رکھی تھیں، بچوں کو سکول چھوڑنے کے بعد میں گھر واپس آ کر بنا کوئی کام نمٹائے اپنے کمرے میں آرام کی غرض سے چلی آئی تھی. آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کرنے مزید پڑھیں

اعلان – حنا نرجس

عمیر کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی مجھے رات کو دانیال کی طرف سے موصول ہونے والے ایس ایم ایس کی صداقت پر شبہ ہوا مگر اگلے ہی لمحے شہریار کو اپنی کرسی چھوڑ کر اٹھتے، عمیر کے گلے لگتے اور مبارک باد دیتے دیکھ کر شبہ دم توڑ گیا. میں بھی کرسی چھوڑ کر مزید پڑھیں

کل چودھویں کی رات تھی‌ – سائرہ ممتاز

‌ نصف رات گزری اور تارے خوب روشن ہو کر ٹمٹمانے لگے. اگست کے موسم کی حبس ختم ہوچکی تھی اور کراچی کے ساحلوں سے آنے والی ہوا کچھ دور دوڑتے ٹیک آف کی تیاری کرتے ہوائی جہازوں کی اڑان سے ٹکرا کر اس کھلی چھت پر چکر لگاتی پھر رہی تھی، ریڈیو سے احمد مزید پڑھیں

پوری لڑکی، آدھا سپنا – احمد حامدی

گھر میں خاموشی سی ہے۔ ہاں ایک ابو کے کمرے سے ٹی وی کی آواز آ رہی ہے، لیکن مدھم۔ کاشف اپنے کمرے میں بستر پہ نیم دراز دور کہیں یادوں کی وادی میں ہے۔ سوچ رہا ہے کہ وہ ایک کھلے و پُرفضا علاقے میں ہے۔ ہر طرف ہریالی ہے۔ ایک چرواہا ریوڑ ہانکتا مزید پڑھیں

فلائنگ کس کی ٹھوکر – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

چیزوں کا موجود ہونا آہستہ آہستہ اپنی قدر کھو دیتا ہے اور انھی چیزوں کا نہ ہونا پھر اپنی کھوئی ہوئی قدر منوا بھی لیتا ہے۔ انسان کبھی کبھی ایسا ناشکرا ہو جاتا ہے کہ آئس کریم پر من پسند ٹاپنگ نہ ہو یا محبت میں کسی غیر اہم سی کمی کو جواز بنا کر مزید پڑھیں

طالع کی ارجمندی – فاطمہ عشرت

اسکول سے واپسی پر جیسے ہی گھر کی دہلیز پار کی تو صحن میں بچھے تخت پر اماں کے پاس دوخواتین کو ساتھ بیٹھے اور گپ شپ کرتے دیکھا. حیا نے چند منٹ کا فاصلہ سیکنڈز میں طے کیا، اور فورا سلام کیا. وہ پہچان گئی تھی، اس کی ہر دل عزیز پھوپھی جان آئی مزید پڑھیں

ذاتی صفحہ اگست 87 (2) – شکیل عادل زادہ

ایک فرد کے اندھیرے اجالے، نہایت ذاتی نوعیت کے یہ معاملات و مسائل کنارے کر دیجیے، تو بھی اس تاخیر و التوا کے غیر ذاتی اسباب کی روداد کچھ کم عبرت گیر نہیں۔ اتنے غیاب کے باوجود سب رنگ کے لیے یہ لپک، یہ تپاک رقیبانِ روشن رخ کو بہت گراں گزرتا ہے۔ اس بار مزید پڑھیں

مکافات عمل – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

نہیں نہیں ڈاکٹر صاحب ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہماری بیٹی نے تو کبھی آسمان تک نہیں دیکھا، آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ اس کا تو چہرہ کبھی سورج نے بھی نہیں دیکھا .. کجا اتنی بڑی بات .. مسز انوار نے تیز سانسوں اور اونچی آواز میں غصے سے کہا.. ڈاکٹر مؤمنہ نے مزید پڑھیں