پچاس برس کی رام کہانی - نورین تبسم

پچیس جنوری ۔۔۔1967۔ راولپنڈی
پچیس جنوری ۔۔۔2017۔اسلام آباد

پچاس سال ۔۔۔ نصف صدی۔۔۔ بظاہر زندگی کی بےسمت بہتی جھیل میں پچاسواں بےضرر کنکر ۔۔۔ دیکھا جائے تو دو صدیوں کے درمیان ہلکورے لیتی عمر کی کشتی نے وقت کے سمندر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا۔ دو صدیوں کے ملاپ سے بنتی پچاس برسوں کی ایسی مالا جس میں اپنے بڑوں سے سنے گئے اور کتابوں کی زبان سے محسوس کیے گزرنے والی صدی کے پکے رنگ عکس کرتے ہیں تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت آنے والے دور کے انوکھے رنگ نظریں خیرہ کیے دیتے ہیں۔

زندگی اے زندگی! تو نے بچھڑ جانے والوں کے تجربات، احساسات اور مشاہدات جذب کیے تو اب آنے والی نسل کے لیے خدشات تیرا دامن تھامے ہیں۔ پچاس برس کا سفر کیا ہے، گویا سرپٹ بھاگتی زندگی کی ریل گاڑی پچاس اسٹیشنوں پر پل بھر کو رکی ہو۔ بہت سوں کی تو یاد بھی باقی نہیں، بس یہ ہوا کہ ہر پڑاؤ پر سامان میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اب جب طوق گلے تک آن پہنچے تو سوچنا پڑ گیا کہ اگلے کسی بھی اسٹیشن پر اترنا پڑ گیا تو کس بوجھ سے کس طور جان چھوٹے گی اور کیا سامان ساتھ رہ جائے گا۔ حد ہو گئی، زندگی خواہ کتنی ہی بےکار اور لاحاصل ہی کیوں نہ گذرے، واپسی کی گھنٹیاں سنائی دینے لگیں تو اُداسی اور مایوسی کی دُھول یوں قدموں سے لپٹتی ہے جیسے کچھ سانسیں اُدھار کی ملنے سےنہ جانے عظمت و کامیابی کی کون سی چوٹی سر کی جا سکے گی۔

ہم انسان زندگی کہانی میں حقوق و فرائض کے تانوں بانوں میں الجھتے، فکروں اور پریشانیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے، خواہشوں کی سرکتی چادر میں بمشکل اپنا تن من ڈھانپتے، لمحہ لمحہ جوڑ کر دن اور پھر سال بِتاتے ہیں۔ کیا مرد کیا عورت، سب کی زندگی تقدیر کے لکھے پر ایک جیسی گزرتی چلی جاتی ہے۔

اپنے فطری کردار اور جسمانی بناوٹ کے تضاد کے باعث عمر کے اس موڑ کو چھوتے مرد اور عورت کے احساسات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ دونوں کے حیاتیاتی تضاد کا اصل فرق عمر کے اس مرحلے پر واضح ہوتا ہے۔ زندگی کی کٹھنائیوں سے نبردآزما ہوتے مرد کے لیے اگر یہ محض تازہ دم ہونے اور نئے جوش و ولولے کے ساتھ زندگی سے پنجہ آزمائی کرنے کی علامت ہے تو عورت کے لیے جسم و روح پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہوجانے والی ایک مہر ۔۔۔ ایسی مہر جس کے بعد ساری زندگی کا نصاب یکسر تبدیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں قدم رکھتے ہوئے مرد عمومی طور پر زندگی کمائی میں سے اپنی جدوجُہد کے مطابق فیض اٹھانے کے بعد کسی مقام پر پہنچ کر نئے سفر کی جستجو کرتا ہے، تو عورت ساری متاع بانٹ کر منزلِ مقصود پر خالی ہاتھ پہنچنے والے مسافر کی طرح ہوتی ہے جس کے سامنے صرف دھندلا راستہ، ناکافی زادِ سفر اور بےاعتبار ساتھ کی بےیقینی ساتھ رہتی ہے۔

عمر کے اس دور تک مقدور بھر جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ پہنچنا عورت کے لیے ایسی بارش کی طرح ہے جس کی پھوار سکون بخش تو دکھتی ہے لیکن اس کے لمس میں محبت، نفرت، تعلقات، رشتوں، اور اپنے پرایوں کے اصل رنگ سامنے آ جاتے ہیں۔ زندگی کی سب خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ ہم سے محبت کرنے والے اور اپنی جان پر ہماری جان مقدم رکھنے والے درحقیقت ہمارے وجود میں پیوست معمولی سی پھانس بھی نکالنے پر قادر نہیں ہوتے۔ اسی طرح ہم سے نفرت کرنے والے، ٹھوکروں پر رکھنے والے، ٹشو پیپر سے بھی کمتر حیثیت میں استعمال کرنے والے، اس وقت تک ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے جب تک ہمارے ذہن کو مایوسی اپنی گرفت میں لے کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ سلب کر ڈالے۔

کوئی کچھ بھی کہے، خواہ مخالفت میں کتنے ہی مضبوط دلائل کیوں نہ دے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ زندگی کے سرکتے ماہ وسال کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر صبح شام کرتے پچاس کا پڑاؤ اگر کسی بلند چوٹی کی مانند ٹھہرا، جس کی بلندی تک پہنچتے راستہ بھٹکنے کے خدشات ساتھ چلتے ہیں تو دوسری سمت اترائی کی مرگ ڈھلانوں میں قدم لڑکھڑانے اور پھسلنے کے خطرات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ واپسی کے سفر کے آغاز کے بعد انسان خواہ کتنا ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لے، اس کی محنت و مشقت کتنی ہی بارآور کیوں نہ ہو جائے، اُس کی ذہنی صلاحیت کتنے ہی آسمان کیوں نہ چھو لے، اس کے جسمانی قویٰ ہرگزرتے پل نقارۂ کوچ کی صدا لگاتے ہیں، یہ اور بات کہ ہم میں سے زیادہ تر اس کو سننا ہی نہیں چاہتے یا جان کر انجان بنے رہنے میں بھلا جانتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں صحت و عافیت کے پچاس برس ایک پھل دار درخت پر لگنے والے رسیلے پھل کی مانند ہوتے ہیں جسے اگر بروقت توڑا نہ جائے تو اس کا رس اندر ہی اندر خشک ہونے لگتا ہے، بظاہر وہ کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ دکھائی دے۔ محترم اشفاق احمد ”من چلے کا سودا“ (صفحہ436) میں لکھتے ہیں ”خوش رنگ مطمئن پھول وہ ہوتا ہے جس کی پتیاں بس گرنے ہی والی ہوں“۔

کتاب زندگی کے ورق اُلٹتے جب ہم اس کے پچاسویں باب پر پہنچتے ہیں تو وہ ہمارے نصابِ زندگی کا بہت اہم موڑ ہوتا ہے. یہاں پہنچ کر اگر پچھلے اسباق ازبر نہ ہوں، ذیلی امتحانات میں کی گئی غلطیوں کا احساس نہ ہو تو آنے والے آخری امتحان میں پاس ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی شاہراہ پر پچاس برس کا سنگِ میل ایک ایسا آئینہ ہے جسے انسان کے تجرباتِ زندگی صیقل کرتے ہیں تو رشتوں، تعلقات اور جذبات کے حوالے سے ذہن و دل پر چھائی دھند بھی بہت حد تک چھٹ جاتی ہے۔ آسمانِ دل کی وسعت دکھائی دیتی ہے تو اپنی طاقتِ پرواز کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہم میں سے بہت کم روزِ روشن کی طرح عیاں اس سچائی کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، ورنہ زیادہ تر اپنے آئینوں سے منہ چھپاتے دوسروں کی فکر کرتے ہیں، یا پھر اپنے چہرے پر بناوٹ کے غازوں کی تہہ جمائے لاحاصل رقصِ زندگی میں خسارے کے سودے کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی سمجھنے سے زیادہ برتنے کی چیز ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ساری عمر کتابِ زندگی سمجھنے میں گزار دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ زندگی آخری صفحے کے آخری لفظ سے پہلے سمجھ آ ہی نہیں سکتی۔ جس لمحے اس کی پہچان آنکھ میں اترتی ہے تو انسان ایک کائنات چھوڑ کر دوسری کائنات کے سفر پر روانہ ہونے کو تیار ہوتا ہے۔

دُنیاوی بلندیوں کے دھوکوں اور فانی پستیوں کی ذلتوں میں دھنستے،گرتے اور سنبھلتے عمر کی بچاسویں دہائی کے آخری پائیدان پر قدم رکھتے ہوئے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو زندگی کہانی میں چہروں اور کرداروں کی ایک دنیا آباد ہے۔ ایسے مہربان چہرے جو زندگی کا زندگی پر یقین قائم رکھتے ہیں تو ایسے مکروہ کردار بھی جو انسان کا رشتوں اور انسانیت پر سے اعتماد زائل کر دیتے ہیں۔ یہ نقش اگرچہ گزرچکے ماضی کا حصہ بن چکے لیکن ان کا خوشبو عکس احساس کو تازگی دیتا ہے تو کبھی کھردرے لمس کی خراشیں ٹیس دیتی ہیں۔ ان چہروں کے بیچ میں دور کسی کونے میں چھپا خفا خفا سا اور کچھ کچھ مانوس چہرہ قدم روک لیتا ہے۔ ہاں! یہی وہ چہرہ تھا جس نے دنیا کے ہر احساس سے آگاہ کیا، اسی کی بدولت محبتوں کی گہرائی اور اُن کے رمز سے آشنائی نصیب ہوئی، تو زندگی میں ملنے والی نفرتوں اور ذلتوں کا سبب بھی یہی ٹھہرا۔ اس کی فکر اور خیال نے اگر سب سے بڑی طاقت بن کر رہنمائی کی تو اس کی کشش کی اثر پذیری زندگی کی سب سے بڑی کمزوری اور دھوکے کی صورت سامنے آئی۔ اسی چہرے نے دنیاوی محبتوں کے عرش پر پہنچایا تو اسی چہرے کے سبب زمانے کے شکنجے نے بےبس اور بےوقعت کر ڈالا۔ کیا تھا یہ چہرہ؟ کہ اس نے بڑے رسان سے دنیا کی ہر کتاب سے بڑھ کر علم عطا کیا تو پل میں نہایت بےرحمی سے جہالت اور لاعلمی کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ ایسا چہرہ جو ہم میں سے ہر ایک کا رہنما ہے، ہمارا آئینۂ ذات! جو ہماری نگاہ کے لمس کو ترستا ہے لیکن ہم اس سے انجان دور دراز آئینوں میں اپنا عکس کھوجتے رہ جاتے ہیں۔ ظاہر کی آنکھ سے کبھی یہ چہرہ دکھائی نہیں دیتا پر جیسے ہی ہم اپنے اندر کی آنکھ کھول کر اپنے آپ سے سوال جواب شروع کریں تو یہ جھلک دکھلا دیتا ہے۔ اسی چہرے نے بتایا کہ انسان کہانی صرف اُس کے آنکھ کھلنے اور آنکھ بند ہونے کی کہانی ہے، اور درمیانی عرصے میں صرف اور صرف دھوکے ہیں محبتوں کے اور نفرتوں کے، علم کے اور لاعلمی کے، عزتوں کے اور ہوس کے۔ اندھی عقیدتوں کے سلسلے ہیں تو کہیں وقتی احترام کی ردا میں لپٹی نارسائی کی کسک سر ابھارتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اے وطن کے سجیلے جوانو - سعدیہ نعمان

دنیا کی محدود زندگی میں ہندسوں کا ماؤنٹ ایورسٹ بھی تو یہی ہے کہ جسے سر کرتے ہوئے ناسمجھی کی اندھی دراڑیں ملیں تو کبھی برداشت کی حد پار کرتی گہری کھائیاں دکھائی دیں۔ جذبات کی منہ زور آندھیوں نے قدم لڑکھڑائے تو کبھی پل میں سب کچھ تہس نہس کر دینےوالے طوفانوں نے سانسیں زنجیر کر لیں۔ بےزمینی کے روح منجمد کر دینے والے خوف نے پتھر بنا دیا تو کبھی خواب سمجھوتوں کی حدت سے موم کی مانند پگھل کر اپنی شناخت کھو بیٹھے۔

گزرے برسوں کے احساسات کو عشروں میں سمیٹا جائے اور ہر عشرے کے کینوس پر بنتی تصویر پر نگاہ ڈالی جائے تو زندگی کے پہلے دس برس لفظوں اور رشتوں سے خوشیاں کشید کرنے اور ہمیشہ کے لیے اپنی روح میں جذب کرنے کی کیفیت کا عکس تھے۔ اگلے دس برس محبتوں کی بےیقینی کی دھند میں سانس لینے کی کوشش کرتے گذرے تو بیس سے تیس کا عشرہ یقین کی ایسی خودفراموشی کی نذر ہو گیا جس میں نئے ماحول اور نئے زندگیوں کو پروان چڑھانے میں اپنی ذات، اپنے احساسات اور اپنے جذبات کہیں کھو کر رہ گئے۔ زندگی شاید اسی طرح گزر جاتی کہ تیس سے چالیس کےعشرے کے بالکل درمیان پینتیس برس ایک اہم موڑ تھا گویا کسی خواب غفلت نے چونکا دیا ہو۔ یہ کیا ! زندگی تو گزر گئی؟ کیا یہی حاصلِ زیست تھا؟ کیا بس یہی آنے کا مقصد تھا؟ بس اتنی ہی کہانی تھی؟ اس دور میں خود سے الجھتے، سوچ کو ان الفاظ میں سمیٹا۔۔
” ادھورا خط" سے اقتباس؛ یہ کہانی 25 جنوری 2002ء سے شروع ہوتی ہے جب میں 35 برس کی ہوئی تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔ 35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے، وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔ میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا ۔۔۔ اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا ۔۔۔ ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا ۔۔۔ فالتو سامان نکالنا تھا ۔۔۔ میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی، مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی“۔

زندگی کی سیڑھی چڑھتے عمر کے پینتیسویں پائیدان نے مقناطیس کی طرح برسوں سے جامد سوچ کو اس طور گرفت میں لیا کہ برف احساسات کے پگھلنے سے لفظوں کی آبشار جاری ہو گئی لیکن اس خودکلامی کو سمجھنے اور منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار تھا، اور یہ وقت دس برسوں پر محیط ہو گیا۔ پینتالیس برس کی عمر میں کمپیوٹر سے دوستی ہوئی تو اس نے ایک وفادار دوست کی طرح دامنِ دل وسیع کر دیا اور یوں بلاگ ڈائری میں احساس کی رم جھم جذب ہونے لگی اور دھنک رنگ فیس بک صفحے اور ٹوئٹر کی زینت بنتے چلے گئے۔

زندگی کہانی میں پچاس کے ہندسے کو چھوتی عمرِفانی نے سب سے بڑا سبق یہی دیا کہ ہمیں اپنے آپ کی پہچان ہوجائے تو پھر ہر پہچان سے آشنائی کی منزل آسان ہوجاتی ہے۔ یہ پہچان جتنا جلد مجازی سے حقیقی کی طرف رُخ کر لے اتنی جلدی سکون کی نعمت بھی مل جاتی ہے اور یہی پہچان زندگی کی ترجیحات کے تعین میں رہنمائی کرتی ہے۔ اللہ ہم سب کو پہچان کا علم عطا فرمائے۔ آمین
نصف صدی کا قصہ تمام ہونے کو ہے۔اللہ بس خاتمہ ایمان پر کرے آمین۔ زندگی سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزرے برسوں کی کتھا،کچھ یادیں۔۔۔میری بھوری ڈائری سے بلاگ ڈائری میں۔۔۔۔۔
٭ خلیل جبران ۔۔۔۔ (1982ء) ۔۔۔ سوچ جزیرے پر پہلی کشتی
٭ تجربات ِزندگی ۔۔۔ جنوری 67 ۔۔ جنوری 87 ۔۔ (20سال)۔ ہوس، محبت، عشق؟؟؟عام خیال ہے کہ ”مرد عورت کی حفاظت کرتا ہے لیکن! مرد عورت کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ بھائی بہن کی، میاں بیوی کی اور بیٹا ماں کی حفاظت کرتا ہے۔ حفاظت صرف مقدس رشتوں کی کی جاتی ہے، عورت کی نہیں۔۔“ آج کی اور آج سے چودہ سو سال کی لڑکیوں میں اس کے سِوا کوئی فرق نہیں کہ وہ ایک دم اپنے انجام کو پہنچتی تھیں اور آج کی آہستہ آہستہ۔
٭ حاصلِ زندگی ۔۔۔ جنوری 1967ء ۔۔ جنوری 1992۔ (25 سال) ۔۔ بچےِ، گھر، میں
٭ احساسِ زندگی ۔۔۔ 25 جنوری1994ء۔۔۔
بجھنے سے پہلےبھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو

سوچ کے اُفق پر جنم لینے والے یہ لفظ احساس کی ٹھہری جھیل میں پہلا کنکر بن کر طلوع ہوئے اور تخیل کی دھیرے دھیرے خشک ہوتی مٹی کو سیراب کرتے چلے گئے۔
٭ سرکتے و قت کا نو حہ۔ ”بندگلی“۔ 25 جنوری 67 ---- 25 جنوری۔97۔ (30 سال)۔
وہ ایک دائر ے میں گھوم رہی تھی۔ سر اُٹھا کر دیکھتی تو کوئی دروازہ اُس کے لیے نہیں کُھلا تھا، آس پاس اُونچے مکان تھے، وہ سانس لینا چاہتی،گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔چیخیں مارکر رونا چاہتی، جو اندر ہی رہ جاتیں۔ بھاگنا چاہتی لیکن پاؤں میں زنجیریں تھیں۔ زنجیریں ٹوٹ بھی جا ئیں تو بھاگ کیسےسکتی تھی کہ یہ تو ایک بند گلی تھی۔

٭ تحفۂ زندگی۔ 12 جنوری 2003ء ۔۔ دوست کا نامہ میرے نام ۔۔۔ اس میں سے اقتباس۔۔
”وظیفہ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دیے ہیں اور جس طرح تم خود ’تلاش‘ کے سفر پر ہو، اس کو رُکنے نہ دو۔ تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو، میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی، لیکن الفاظ ساتھ دے بھی دیتے ہیں مگر احساس ِجرات ساتھ نہیں دے پاتا۔ یہی وجہ ہےکہ گول مول طریقوں سے، ڈھکے چھپے الفاظ سے دل و دماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ہوں۔ بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تاکہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کر ڈالتا ہے۔ تم نے عمر کے اس دور میں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کا دور تو امیچور اور پھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دور میں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اور کرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو۔“

یہ بھی پڑھیں:   زندگی ارتقا کا نام ہے - راحيلہ ساجد

٭ تفکرِزندگی۔۔25 جنوری 2003ء ۔۔۔ خلیل جبران، ممتازمفتی، اشفاق احمد اور جناب واصف علی واصف کی تحاریر پڑھتے پڑھتے محترم پروفیسر احمد رفیق اختر کے نام اور اُن کی کتب سے پہلی بار شناسائی ہوئی۔ سب سے پہلے پڑھی گئی کتاب ”پسِ حجاب“ سےنوٹ کیا گیا اقتباس۔۔صفحہ 135۔۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ کون اللہ کے قریب ہے، تو جان لیجیے کہ اللہ اپنے نزدیک دیوانوں اور احمقوں کو نہیں رکھتا، اس نے نسلِ انسان کو ایک شرف اور ٹیلنٹ بخشا ہوا ہے، وہ یہ چاہے گا کہ انسان اس شرف کو استعمال کرے۔ یہ تمام اوصاف ایک چیز سے حاصل ہوتے ہیں یعنی جلد سے جلد اپنی ترجیحات کا تعین، جتنی زندگی ضائع کر کے آپ ان ترجیحات کے تعین تک پہنچیں گے، اتنے ہی آپ مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔ وہ چاہے فرد ہو، سوسائٹی یا ملک ہو، جس قدر وہ ان ترجیحات سے دور رہے، اُتنا ہی ڈسٹرب اور مصیبت زدہ رہے۔

ایک آدمی پچاس سال میں جن ترجیحات کو پاتا ہے مگر پچاس سال میں خدا کے نزدیک اس کی ترجیحات کی قدر و قیمت کم ہوگئی، ایک شخص پچیس سال میں اپنی ترجیحات کو پا لیتا ہے اور اس کو پتہ ہےکہ میری زندگی میری سوچ، سب کچھ کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں خدا کو پہچانوں۔ جب ذہن ترجیحِ اول کا اعلان کر دیتا ہے تو خدا اور بندے کے ذاتی اختلافات ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ بندے سے یہی توقع تھی کہ وہ غور کرے سوچے اور مجھے انٹلیکچوئل ترجیحِ اول واضح کر لے۔ ہو سکتا ہے کہ ذہنی طور پر اس کو اولیت اور اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود آپ اپنی زندگی میں اس کی اولیت قائم نہ رکھ پائیں، اس لغزش کی معافی مل سکتی ہے۔

گناہوں کی بخشش اس کے ہاں صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ نے بنیادی سوال تو حل کر لیا ہے۔ آپ کی کمزوریاںِ، کمیاں، ہو سکتا ہے آپ کو ترجیحات کے فقدان پر مائل کریں مگر یہ آپ کا ذہن اور آپ کی سوچ و فکر سے بھرپور طاقت ہے جس نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ خدا انسان کی کمزوری کی وجوہ کو حکم دیتا ہے، تسلیم نہیں کرتاِ، حکم دیتا ہے کہ اگر تم بڑے گناہوں اور فواحش سے پرہیز کرو تو چھوٹے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ جب خدا خود کہہ رہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کے دور تم پر آئیں گے، تو یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ ہر آدمی پر حماقتوں کے کچھ دور ضرور گزرتے ہیں۔ خطاؤں کے کچھ پیٹرن ضرور بنیں گے۔ اس لیے کہ خطا بذاتِ خود سیکھنے کا بھی باعث ہے۔

٭ تحفہء زندگی ۔۔۔ لبّیک اللہُمٰ لبّیک ۔۔۔ شناسائی سے آشنائی تک ۔۔۔
روانگی۔15 دسمبر 2004ء ۔۔۔ادائیگی حج 20 جنوری 2005ء -- واپسی 25 جنوری۔2005ء
٭ سراب کہانی۔ 25 جنوری 1967ء ---- 25جنوری 2007ء ۔ (40سال)۔
عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اُسے ٹشّو پیپر بھی نہیں بلکہ رول ٹشُو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

٭ مدارِزندگی ۔۔۔ 22جنوری 1988 ۔ 22جنوری 2010ء ۔(22سال)۔۔
وہ میرا گھر ہے لیکن میں و ہاں نہیں رہ سکتی اور یہ میرا گھر نہیں ہے لیکن مجھے یہاں ہی رہنا ہے۔
٭ تشکر کہانی (شادی۔ 25 سال) ۔یکم اپریل 1988ء --- یکم اپریل2013ء
کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ و قت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہوئی۔ وقتی کھنک اور ستائش کی چاہ فقط خودفریبی ہی تھی، ایک ان چھوا احساس سرمایہحیات ہے۔

٭ تھکن کہانی۔۔ 25 جنوری 1967ء ---- 25 جنوری2011ء ۔ (44سال)۔
بظاہر سرسبز و شاداب نظر آنے والے پودے کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک قطرہ قطرہ زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے۔

٭ آخری کہانی 31دسمبر 2011
اپنی بھرپور موجودگی کے مادی اسباب کے ساتھ فرش سے عرش پر یا پھر عرش سے فرش تک کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد عورت اِتنی تہی داماں ہو جا تی ہے کہ آخرکار پھونکیں مار مار کر اپنے ہی وجود کی بھٹی میں آگ سُلگا تے ہو ئے راکھ بنتی جا تی ہے، اُس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہو تی، ہاں پہچان ختم ہو جاتی ہے، ڈھونڈنے والے اُس کی طلب سے بےنیاز اپنے رنگ میں کھوجتے ہیں، اپنی نظر کی عینک سے بھی کبھی کائنات کا احاطہ ممکن ہو سکا ہے؟ آکسیجن کی طرح بےرنگ، بےبُو، بےذائقہ ہو جاتی ہے۔ وہ آکسیجن جو بےمول، بن مانگے ملتی رہتی ہے تو اُس کی قدر و قیمت کا کبھی احساس نہیں ہوتا۔ کچھ حقیقتیں آخری سانسِ، آخری منظر سے پہلے آشکار نہیں ہوئیں، عورت بھی اِنہی سچائیوں میں سے ایک ہے۔

٭ ختم کہانی 25 جنوری 2012ء ۔۔۔ جان کسی چیز میں نہ ڈالو ورنہ جان نہیں نکلے گی۔
(زندگی کہانی چند لفظوں میں کہی تو جا سکتی ہے لیکن گنتی کے چند برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتی۔ ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ کاتبِ تقدیر نے زندگی کہانی کے آخری صفحے پر ہمارے لیے کیا لکھا ہے۔ ’’ختم کہانی اور آخری کہانی‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی سطریں اس احساس کے تحت لکھی گئیں کہ اب قلم اور کاغذ کے رشتے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ محض چند ماہ بعد یہی تعلق نہ صرف میرے نام کی پہچان بنے گا بلکہ میرے لیے اپنی ذات کے حوالے سے انوکھے دربھی وا کرے گا)۔

٭ انٹرنیٹ کہانی۔۔۔۔ 31مارچ 2012ء سے فیس بک اور اکتوبر 2012ء بلاگ ۔۔۔ پانچ برس کے عرصے میں اس پرواز کا احوال 450 سے زائد بلاگز کہتے ہیں۔

حرفِ آخر
٭ زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی۔
٭ ہم ساری عمر جگہ کی تلاش میں رہتے ہیں حالانکہ جگہ تو ہمیں زندگی کے پہلے سانس سے آخری سانس کے بعد تک دُنیا میں مل ہی جاتی ہے، ہماری ضرورت سپیس (کھلی فضا) ہے جسے ہم خود اپنے اندر تلاش کریں تو مل جائے گی۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں