روح و جسم – نورین تبسم

”جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا، پھر اس کی نسل خلاصے سے حقیر پانی سے پیدا کی، پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ (سورہ السجدۂ، 32، آیت 7 تا 9)“

جسم کی حقیقت روح ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے جسم تخلیق کیا گیا۔ اسے مکمل کیا گیا، پھر اس میں روح ”نور“ کی مثل داخل کی گئی۔ ایک روشنی جس نے جسم کے ہر گوشے، ہر صلاحیت اور ہر عمل کو بےنقاب کیا۔ روح جسمِ انسانی کی تکمیل کا حسن ہے تو جسم کی خوبی اور احساس روح کی کاملیت کی گواہی بھی ہے۔ جسم اور روح ایک دوسرے کے بغیر کچھ بھی نہیں، روح کے بغیر جسم بےکار، بےحقیقت ہے اور جسم کے بغیر روح فقط سفر ہے۔ روح جسم سے پرواز کرے تو ہی بلندی پاتی ہے۔

روح ہمیشہ سے حالتِ سفر میں ہے، کبھی آسمان سے زمین پر تو کبھی زمین سے آسمان پر۔ روح کی فطرت میں ہےتلاش، اپنے بچھڑے حصے کو کھوجنا، اور مکمل ہونا۔ نافرمانی روح سے سرزد ہوتی ہے اوراس کا خمیازہ جسم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جسم محض آلہ کار ہے، فرماں بردارخادم، ایک تابعدار سواری۔ بےضرر، بےحس، بےسمت مادے کی ایک جامد کیفیت۔ یہ روح کا شعلہ جوالہ ہے جو عرش سے فرش پر لانے کا مجرمِ اول ہے تو فرش سے عرش تک کی منازل کا محرم راز بھی ہے۔ روح سفاکی کی انتہا کو پہنچ کر اپنی مرضی کے مطابق جسم کو تہس نہس کر کے یوں صفائی سے دامن بچا جاتی ہے کہ جسم خاک ہونے سے خاک میں مل کر بھی اس اسرار سے واقف نہیں ہو پاتا۔

روح کی پاکیزگی کی انتہا جاننا چاہتے ہو تو روح جسم کو ترغیبات کی دلدل اور دنیا کے بدبودار کیچڑ سے یوں بچا کر نکالتی ہے کہ احساس کے وضو کی شدت سے جسم خود مینارۂ نور بن جاتا ہے۔ اندھیری طوفانی راتوں میں روشنی کا وہ جلتا بجھتا دیا جو نہ صرف بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہے بلکہ خود اپنی جگہ پر بھی قائم رہتا ہے۔

روح کی غلاظت جسم میں بڑی کامیابی سے منہ چھپا کر اس کا ظاہر آراستہ پیراستہ کرتی ہے، تو روح کی لطافت جسم میں جذب ہو کر اُس کے کونوں کھدروں میں جنم لینے والے مکڑی کے جالے کو بھی برداشت نہیں کر پاتی۔ بظاہر جسم کتنا ہی مکمل اور پاک کیوں نہ دکھائی دے، روح کبھی مطمئن نہیں ہوتی، کبھی تسکین نہیں پاتی. اس کی بےچینی جسم کو بھی چین نہیں لینے دیتی۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اور پاک ہو کر منزل سے قربت کی تمنا ہر خواہش پر حاوی ہو جاتی ہے، جبکہ روح کی مکاری جسم کو ہر خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ اس کے اعمال آراستہ کر کے دکھاتی ہے۔ انا اور طاقت کے حصار میں جکڑ کر اپنی کائنات کا خدا بنا کر خود کو سجدے بھی کرواتی ہے۔

روح اور جسم کی اس آنکھ مچولی میں بنیادی اور اہم کردار ”لباس“ کا ہے۔ لباس، کپڑے کا وہ ٹکڑا جو آنکھوں پر پٹی باندھتا ہے تو ندامت کے لمحات میں اپنے جسم کی برہنگی پر توبہ کا طلب گار بھی بناتا ہے۔ ہم سوچتے سمجھتے اور مانتے بھی ہیں کہ جسم کو لباس کی ضرورت ہے، لیکن، غورکیا جائے تو جسم سے بڑھ کر روح کی پہچان اور اُس کی طلب لباس ہے ورنہ جسم تو آزاد پیدا ہوا، ہر ضرورت، ہر احساس، ہر رشتے سے بےنیاز اور اپنے کھرے کھوٹے کے فرق سے انجان۔ اور اسی حال میں اس کو مٹی میں مل جانا ہے۔ لباس جسم کی جبلی ضرورت اور فطری تقاضا ہے یا پھر موسموں کی دست برد سے رہائی کی ایک آخری کوشش۔ یہی وجہ ہے کہ جو لباس کی اصل سے آشنا ہو گئے، اُن کا جنون انہیں اس دُنیا کا مکین نہیں رہنے دیتا اور وہ ہر قید سے آزاد کسی اور راہ کے مسافر ہو جاتے ہیں۔

اہم یہ ہے کہ جسم اور روح ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہوتے ہوئے بھی دو الگ جہانوں کے مسافر ہیں اور اِن کی ضروریات ایک دوسرے سے یکسر مختلف۔ انسان ساری عمر اپنی ضرورت اور خواہش کے لاحاصل سفر کے دائرے میں گزار دیتا ہے۔ دن کا سفر اگر جسم کی ضروریات کے گرد گھومتا ہے تو رات کا سفر روح کی آسودگی کی خواہش میں کٹتا ہے۔ سوچ سفر کی پرواز جسم سے ہم آہنگ نہ ہو تو انسان اپنے ہی مدار کا باغی ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر جسم اور روح ایک ہی سمت میں سفر کرتے رہیں تو بھی دائروں کا یہ سفر محض سفر ہی رہتا ہے۔

بنیادی نکتہ جسم اور روح کا اپنے اپنے محورمیں گردش کرتے رہنے کے باوجود ایک دوسرے کی طلب کو سمجھنا اور اس کے مطابق سمجھوتہ کرنا ہے۔ فضا میں ڈولتے جہاز سے چھلانگ کتنا ہی جرات مندانہ اور اعلیٰ مہارت کا مظہر کیوں نہ ہو۔ اصل کامیابی بخیریت زمین پر واپسی سے مشروط ہے۔ زندگی کے پیراشوٹ میں مضبوطی سے بندھی ڈوریاں اگر سلامتی کی ضامن ہیں تو اُن کا وقت پر نہ کھلنا ناقابلِ تلافی شکست و ریخت کا باعث بھی ہوا کرتا ہے۔

تشنگی اور تنہائی روح کی طاقت ہے تو جسم کی کمزوری بھی ہے۔ جسم کی طلب ساتھ ہے اور روح کی تنہائی۔ انسان جیسے جیسے جسم کی کمزوری سمجھتا ہے، اس پر قابو پانا چاہتا ہے۔ وہ ”ساتھ“ سے فرار کے لیے تگ و دو شروع کرتا ہے۔ گیان دھیان کے سفر میں بڑے کشت کے بعد جسمانی جبلتوں پر قابو پا کر آخری مرحلہ ”سانس“ کے ساتھ پر فتح حاصل کرنا ہے۔ انسانی جسم کا اپنے آپ کو تسخیر کرنے اور روح کی برتری کا نشہ ختم کرنے کا یہ آخری مرحلہ ہے۔ آج تک کوئی بھی انسان سانس کی قید سے جھٹکارا پانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا، اور نہ ہی شاید کبھی ہو سکے۔ سانس انسانی جسم کی بقا کے لیے پہلی اور آخری کمزوری ہمیشہ سے ہے اور رہے گی۔

”ساتھ“ کی یہ اذیت کبھی انسانوں سے دور کرتی ہے تو کبھی قریبی رشتوں میں کھوجنا پڑتی ہے۔ کبھی کسی رشتے سے محرومی وجہ لگتی ہے تو کبھی ان رشتوں سے ملنے والے دکھ جواز بن جاتے ہیں۔ کبھی اپنی طلب سے خائف ہو کر انسان اپنی ذات کے خول میں محصور ہوجاتا ہے تو کبھی اس کسک کو رنگ برنگ پیرہن میں چھپا کر دُنیا کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ کھوج کا یہ سفر مثبت راہ کی طرف چل نکلے تو آرٹ اور کرافٹ سے لے کر ادب اور فلسفے تک دُنیا کو مسحور کر دیتا ہے۔ ذہانت اور عمل کا ملاپ ہو جائے تو فلاحِ انسانیت کی طرف گامزن ہو جاتا ہے اور رہتی دنیا تک اپنے نقشِ قدم چھوڑ جاتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود اس طوفان کو وقتی طور پر تو سُلایا جا سکتا ہے لیکن روکا نہیں جا سکتا۔ بہت کم کوئی اس آسیب سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ تصوف کی راہ پر چلنے والے اس رمز سے بخوبی آشنا ہیں۔ انسانوں کے درمیان رہ کر اُن میں سے نکلنا پڑتا ہے اور اس سے بھی پہلے اپنے اندر کے انسان سے بات کرنا سب سے اہم ہے، جبکہ عام طور پر ہم بات تو کیا اپنی ذات کے اندر سے اُٹھنے والی معمولی سی سرگوشی کو بھی درخوداعتنا نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے اور اعلیٰ مقصد کے سامنے یہ محض نفس اور نفسانی خواہشات کا غلبہ دکھتا ہے۔ جسم کہانی آنکھ سے دیکھی جاسکتی ہے تو روح کہانی صرف اہلِ دل ہی دل سے پڑھ سکتے ہیں۔ دنیا میں رہنا اس کوسمجھنا اس میں اپنی جگہ بنانا پہلا سبق ہے۔ پہلے زندگی پڑھو، خاص طور پر اپنی زندگی۔ ہم دنیا کے قابل بن سکیں گے تو ہی کائنات کے راز جاننے کے قابل ہوں گے۔

روح کی خوراک تنہائی ہے۔ اس کے خمیر میں صرف اور صرف تنہائی کا عنصر ہے۔ انسانی آنکھ یہ سفر لمحۂ اول سے شکمِ مادر تک دیکھتی ہے، جب روح کا دائرہ کار جسم کی قید میں محدود رہتا ہے۔ روح اپنے کام اپنی ذمہ داری تن دہی سے نباہتی ہے لیکن اپنی خوراک کے لیے بےچین رہتی ہے۔ روح کی خلش جسم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے لیکن روح نہ چاہتے ہوئے بھی جسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آخری حد تک اس کے ساتھ چلتی ہے۔ جسم کی تشنگی عذاب بنتی ہےتو روح کی تشنگی باعثِ نجات بن جاتی ہے‬۔ حاصلِ کلام یہ ٹھہرا کہ جسم حقیقت ہے، اس سے فرار نہیں۔ جب تک جسم کو نہ جانیں روح تک رسائی ممکن نہیں۔ روح سچائی ہے اس سے آنکھ بند نہیں کی جا سکتی۔
”روح کو مان لو، جاننے کی سعی نہ کرنا، جسم کو جان لو، ماننے کی غلطی نہ کر بیٹھنا۔“

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam