عورت اور احساس - سائرہ ممتاز

احساس کی دنیا بھی عجب ہے، تعمیر انسانی کے بنیادی اجزاء میں شامل ہے یہ جذبہ، کہ باقی ہر قسم کے جذبات اسی احساس سے جنم لیتے ہیں، انسانی زندگی کے مثبت اور منفی ہر دو قسم کے رویوں کے پیچھے یہی احساس کارفرما ہے، یوں تو شاہی دولت ہے کہ جسے نصیب ہو جائے اس کا نصیبا کھل جاتا ہے، جس کے اندر یہ مر جائے گویا اس کی آدمیت اور انسانیت باقی نہیں رہتی. ماں کی گود سے ہی فطرت یہ ودیعت کرتی ہے، بنا تخصیص مرد و عورت کے، تاہم عورت کے اندر قدرت نے جو نزاکت اتار رکھی ہے، اسی باعث وہ احساس کو تازہ روح پھونک کر ہر لمحے ہرگھڑی نیا کرتی رہتی ہے کہ یہ امر مجبوری ٹھہرتا ہے.

عورت سب سے پہلے بیٹی ہوتی ہے، تو اس کی بہت سی ذمہ داریاں ایسی قرار پاتی ہیں جن کے لیے احساس و مروت جیسے رویے قدرت کو پیدا کرنے پڑتے ہیں، باپ کی شفقت کی زیادہ حقدار، ماں کی تربیت میں برتری حاصل، تو بھائیوں کی غیرت کا نشان بھی یہی کہلاتی ہے، اس لیے بیٹی کا رتبہ رحمت کی پرچھائیں ہے کہ خود وہ سراپا رحمت ہے.

عورت کا دوسرا رشتہ بہن کہلاتا ہے، یہاں بھی احساس کی دولت لیے بغیر کہاں گزارا ہوتا ہے. بیوی چھوڑ جاتی ہے، بچے نہیں پوچھتے، باپ عاق کر دے گا، ماں ساتھ چھوڑ کر قبر میں جا لیٹے گی، بھائیوں کو اپنی اولاد پیاری ہو جائے گی، بس یہی ماں جائی ہوگی جو ہر لمحہ مرتی رہے گی، احساس کی آگ میں پگھلتی رہے گی، کون ڈالتا ہے یہ جذبے عورت کے اندر؟

پھر بیوی کہلاتی ہے تو یہی احساس کوشش کرواتا رہے گا ستی ساوتری بن جائے، اگر یہ جذبہ اس وقت اپنے اوپر پاتال کی پیتل چڑھا لے تو عورت ہی ڈائن بن جاتی ہے، بستیوں کی بستیاں اور شہر کے شہر یہی عورت اجاڑ دے گی اور انتقام کی آگ پھر بھی ٹھنڈی نا ہو پائے گی.

پھر سب سے آخری اور سب سے عظیم درجہ ماں کا ملتا ہے، ماں! انبیاء کی جنت بھی ماں کہلاتی ہے، وہ نبی اور پیغمبر جو لوگوں کو ہانک کر جنت کی طرف لے جانے والے ہیں، اور جنتیں تقسیم کرتے آئے ہیں، ان کی جنت بھی ایک ماں کہلاتی ہے، دنیا کے ہر اچھے اور ہر برے جذبے کا عرق ماں کی خصلت میں ڈالا گیا ہے، آپ. سوال کر سکتے ہیں کہ اچھا تو سمجھ آتا ہے، یہ برا جذبہ ماں کے اندر کہاں سے آیا؟
عورت سوکن کیوں برداشت نہیں کرتی، ہوتی ہوں گی اور وجوہات بھی لیکن سب سے اہم وجہ یہی ہے کہ اپنے بچوں کے سرپرست کی تقسیم اسے برداشت نہیں، وہ اپنے بچوں میں محبت تقسیم کرے گی لیکن کہیں کہیں اپنے شوہر کے بچوں کو دینے کے لیے اس کے پاس پاؤں کے تلووں کی مٹی بھی نہ ہوگی، اپنی گود بھرنے کی حرص میں دوسرے کی گود اجاڑ بھی دے گی یہی ماں جس کو خالق نے اپنا مثل بھی قرار دیا ہے کہ میں اللہ تم سے ایسی محبت کرتا ہوں جیسی ستر مائیں مل کر بھی نہیں کر سکتیں. اسی طرح آپ ہر جذبے بشمول نفرت کے، کو لے کر چھان پھٹک کر کے دیکھتے جائیں، ماں کے اندر اپنی اولاد کی خاطر پاتال کی ملکہ بننے کا جذبہ بھی ملے گا، یہی ماں کی خوبی ہے کہ اس کی برائی بھی دنیا کی نظر میں برائی نہیں ٹھہرتی. ماں جو قربانی، محبت، چاہت، خودداری، مروت، وفا، رحمت، شفقت، مہربانی، ہمدردی، اظہار اور خود فراموشی کا استعارہ ہے.

یہ تو رشتوں کے ساتھ جڑے عورت کے جذبوں کی بات تھی. ایک جذبہ اس سے سوا بھی ہے، جو عورت کی تکمیل، اکمل کر دیتا ہے.

جہاں عورت کو ہر روپ اور ہر رشتے میں احساس کی دولت سے مالا مال کر کے بھیجا گیا ہے، وہیں اس کے اندر چاہ یعنی چاہے جانے کا احساس بھی رکھ دیا گیا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ عورت ہر روپ میں سلطنت کی ملکہ ہے؟ پھر چاہے وہ بیٹی ہو، بیوی ہو، بہن ہو یا ماں ہو. اب یہ چاہ کیا ہے؟ بیٹی کی چاہت باپ سے شروع ہوتی ہے اور اولاد پر جا کر تکمیل کو پہنچتی ہے. اس درمیان ایک دائروی چکر چلتا رہتا ہے، اتنی ساری چاہتیں پا کر جب اسے اس چکر میں ایک کڑی کھونے کا اندیشہ رہے یا اسے وہاں سے چاہت نہ ملے تو گویا وہ اپنی تکمیل تک نہیں پہنچتی. جی ہاں! وہی جسے اس کا دوسرا حصہ کہا گیا ہے، وہی جسے اس کے سر کا تاج کہا جاتا ہے، جی ہاں! وہی اللہ نے جسے اس کا لباس قرار دیا ہے، اس کی تکمیل اپنے شوہر سے اور اس کی محبت سے ہی ہوتی ہے، وہی اس کے ہر دکھ کا ساتھی اور ہر غم میں شریک کار ٹھہرتا ہے کہ ماں باپ تو پالتے ہی اسے امانت کی طرح ہیں، جو حقدار کو سونپ کر وہ اس آس پر سکون کی نیند سونے لگتے ہیں کہ چلو جس کا مقدر تھی، اس تک پہنچا دی، اور اس کی قسمت کھری ہونے کی دعائیں کرتے کرتے جب انھیں اس کی مسکراہٹیں نظر آئیں، سجنا سنورنا دیکھیں تو ان کے اندر بھی طمانیت کروٹیں لینے لگتی ہے،گویا اصل مقام پر ہی پہنچی ان کی لاڈلی، اور اگر یہیں اس جگہ قسمت ہیر پھیر کر جائے تو یقین جانیے کہ صرف عورت تباہ نہیں ہوتی، اس کا احساس اور نزاکت نہیں مرتی بلکہ ایک پوری نسل تباہ ہو جاتی ہے. کبھی آپ نے دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر کی توجہ اور محبت حاصل نہ ہو، اس کی اولاد مختلف نفسیاتی عوارض کا شکار رہتی ہے. ایک عورت کبھی اس شخص کے بچوں کو توجہ نہیں دے پاتی جس کے دل میں خود اس کا کوئی قابل ذکر مقام نہ ہو. صرف توجہ نہیں دے سکتی بلکہ انھیں ماں سے وہ محبت اور تربیت بھی نہیں ملتی جو اولاد کا حق کہلاتی ہے.

اگلی تحریر میں اس موضوع پر تفصیل سے بات ہوگی کہ آپ جب ایک بیٹی کے والدین بنتے ہیں تو ایک ماہ کی عمر سے لے کر اس کی شادی کے وقت تک اس کے اندر ودیعت کردہ احساس کو محسوس کریں اور اسے آبگینے کی طرح بحفاظت اس کے صحیح مقام پر پہنچائیں تاکہ انسانیت کی نسلیں تباہ نہ ہوں. یہ بہت ہی لطیف سا نکتہ ہے اور نازک سی بات ہے جسے بےدردی سے نظرانداز کر کے بات صرف معاشرتی ذمہ داریوں، تعلیم و تربیت کے فقدان اور بےراہ روی، میڈیا کی آزادی پر ڈال دی جاتی ہے جبکہ میری ناقص رائے میں بات صرف محبت اور توجہ کی ہے.

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com