رسول عربی ﷺ داعی الی اللہ – تنزیلہ یوسف

رسول کریم ﷺ کی زندگی کا ہر ایک پہلو اپنی جگہ قابل تقلید ہے۔ مگر یہاں آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کے چند ایک پہلووں کا جائزہ بحیثیت داعی کے بیان کرنا چاہوں گی۔

داعی کے معنی:
وہ شخص جو لوگوں کو اپنے دین و مذہب کی طرف بلانے والا ہو، اس کی جمع ”دعات“ آتی ہے۔ (مصباح اللغات) شرعی اصطلاح میں لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانا دعوت کہلاتا ہے اور اس لحاظ سے دعوت دینے والے کو داعی کہتے ہیں۔ یہ تو تمام مسلمان جانتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ سے پھلا پھولا اور یہ فریضہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر سے شروع کیا۔ ہمارے نبی پاک چونکہ کسی خاص علاقے یا گروہ کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ آپ تمام عالم کے لیے بھیجے گئے۔

مجسم صبروتحمل:
داعی کی بنیادی صفات میں ایک صفت بےحد اہمیت کی حامل ہے، وہ ہے داعی کا بے پناہ صبروتحمل کا مالک ہونا۔ نبی اکرم سراپا صبروتحمل تھے. وہ دشمنوں کی ایذا رسانیوں کو تحمل سے برداشت کرتے اور بدلے میں ان کے حق میں اللہ کریم کی بارگاہ میں دعائیں کرتے کہ یہ بھٹکے ہوئے ایمان لے آئیں۔ اس کی مثال طائف کا وہ باغ جہاں آپ نے اس وقت تھک کر پناہ لی کہ جب آپ کے جوتے تک خون سے بھر گئے، آپ کا جسم مبارک لہو لہو تھا مگر پھر بھی جبریل امین کے یہ کہنے پر کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملادوں تاکہ یہ ظالم لوگ ان میں دب کر مرجائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، ہوسکتا ہے کہ ان کی اولاد ایمان والی ہو۔ اس طرح کے صبر کا اظہار وہی کرسکتا ہے جو مجسم صبروتحمل ہو۔

داعی کی اصل کامیابی ہے کہ حسن سلوک کا مظاہرہ کرے جس سے برا سلوک کرنے والا خود ہی راہ راست پر آجائے۔ چونکہ اسلام دعوتی اور تبلیغی دین ہے اور دعوت و تبلیغ کے سبب ہی آج دنیا کے ہر گوشے میں مسلمان ہیں ہمارا دین کسی خاص فرقے،گروہ یا قبیلے کے بجائے تمام دنیا کے لیے آیا اور اس پیغام کا حصول سب کے لیے یکساں ہے اور انفرادی سطح پر بھی تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دین اسلام کو دوسروں تک پہنچائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
بلغواعنی ولوا آیت
(بخاری کتاب احادیث الانبیاء،باب ماذکرعن بنی اسرائیل:3461)
”میری طرف سے اگر تمہیں ایک آیت بھی ملے تو اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔“
سورہ مدثر کی ابتدائی آیات میں آپ کو اللہ رب العزت کی طرف سے یہ حکم ملا،
یایھاالمدثر۰ قم فانذر۰
”اے چادر پوش! اٹھ کھڑا ہو اور ہوشیاروآگاہ کر“

عرب قوم میں اس وقت دنیا کا ہر عیب تھا۔ اس بگڑی قوم کو سدھارنے کے لیے ایسے شخص کا ہونا ضروری تھا کہ جو اس بار عظیم کو اٹھانے اور اس اہم فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ چونکہ پیام الہی ایک بہتے چشمے کی مانند ہے جو آہستگی کے ساتھ اپنا راستہ پہلے قریب کی زمین سے بناتا ہے پھر آگے کی جانب بڑھتا جاتا ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے اپنے گھر سے دعوت کا آغاز کرنے کا ارشادہوتا ہے پھر خاندان کے دوسرے لوگوں کو اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ پر سب سے پہلے آپ کی غم گسار بیوی حضرت خدیجہ رض ایمان لانے والوں میں سے تھیں کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ آپ کبھی بھی دروغ گو نہیں رہے۔

دعوتی عمل میں تدریج نمایاں پہلو:
یہ داعی کا کام ہے کہ دعوتی عمل کو بتدریج لوگوں تک پہنچائے۔ اس عمل میں وہ لوگوں کی ذہنی سطح کے لحاظ سے دعوت کے عمل کو تدریجی مدارج میں تقسیم کرے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ اس کا عملی نمونہ ہے۔ اس کی بہترین مثال جناب ابوہریرہ کی اس روایت سے ملتی ہے جس میں بنی فزارہ کے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ہےجو بدوی تھا، جناب ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جو سیاہ رنگ کا ہے، میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے کیوں کہ ہم میاں بیوی میں کوئی بھی سیاہ رنگ کا نہیں ہے، آپ نے اس کی سمجھ اور پیشہ کے مطابق اسے بتدریج سمجھایا۔
آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟
اس نے کہا جی ہاں۔
آپ نے دریافت کیا کہ وہ کس رنگ کے ہیں؟
اس نے کہا کہ سرخ رنگ کے۔
آپ نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری یا سیاہ رنگ کا بھی ہے؟
اس نے کہا کہ جی ہاں۔
آپ نے فرمایا کہ تم خود ہی بتاؤ کہ سرخ رنگ کے اونٹوں میں سیاہی کہاں سے آگئی؟
اس کے جواب میں اس نے کہا کہ ممکن ہے اس کے نسب میں کوئی اونٹ خاکستری یا سیاہ رنگ کا ہو اور اس کی جھلک ہو۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شبہ کو یہ کہ کر دور کردیا کہ یہاں بھی ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ نسب کا کرشمہ و کار فرما ہو اس میں تمہاری بیوی کا کوئی قصور نہ ہو۔
بات کو بار بار دہرانا:
آپ نبی کریم کسی بھی بات کی بار بار تاکید کرتے۔ آپ جناب اس میں موقع ومحل کو بھی ملحوظ رکھتے کہ ایسا نہ ہو کہ سننے والا اکتا جائے اور دعوتی عمل عبث ہو۔
آسانی فراہم کرتے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہوتا ہے،
”لوگوں کو تعلیم دو،آسانی پیدا کرو اور مشکلات سے پرہیز کرو۔“

آج کے علماء کرام کا اگر جائزہ لیا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثریت کا لب ولہجہ طنزیہ ہوتا ہے خود کو عام لوگوں سے برتر سمجھتے ہیں اور لوگوں کی ذہنی سطح کے برعکس پیچیدہ مسائل بیان کررہے ہوتے ہیں جس سے دین کو مشکل سمجھ لیا گیا ہے۔
سننے والے کے لب ولہجہ کا خیال رکھنا:
خطیب بغدادی نے عاصم الاشعری سے روایت کی کہ آپ نے مخاطب سے فرمایا:
لیس من امبر امصیام فی امسفر
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہاں اشعریوں کی لغت کو ملحوظ رکھا کہ مخاطب اشعری تھے۔

اسوہ حسنہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ آپ کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ آپ کے قول وفعل میں تضاد ہوتا بلکہ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے سامنے پہلے خود عملی نمونہ پیش کرتے اور صحابہ کرام تو تھے ہی عاشق رسول، آپ کے ہر عمل کو اپنے لئے حکم جانتے اور اس پر عمل کرتے۔
یہ آپ جناب کا حسن سلوک ہی تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر صرف یہ کہ کر عام معافی کا اعلان کر دیتے ہیں کہ جاؤ آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، قریش مکہ کے دل موہ لینے کے لئے کافی تھا۔

اسلام چونکہ دین فطرت ہے، یہ دل سے پوری طرح مماثلت رکھنے کے ساتھ عقلی تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ آج کے مادیت پرست دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز دلائل و براہین کو اپنایا جائے تاکہ دعوتی تقاضے پوری طرح نباہے جائیں۔

تالیف قلب:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگوں کو دین کے قریب لاتے نہ کہ اپنے سخت لب ولہجے سے لوگوں کو خود سے اور دین حق سے دور کرتے۔
صفوان، اسلام کے سخت مخالف اور آپ سے بغض رکھتے تھے، کہتے ہیں کہ “محمد نے مجھے اتنا دیا ہے حالانکہ مجھے ان سے سخت بغض تھا لیکن آپ کے احسانات نے مجھے ایسے متاثر کیا کہ اب میری نگاہ میں ان سے پیارا کوئی نہیں۔”
بقول شاعر
پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہوگی

ایک دفعہ ایک بدو نے آکر کہا کہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان جتنے ریوڑ ہیں مجھے عنایت کردیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وہ سب دے دیے،یہ فیاضی دیکھ کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ اپنے قبیلے سے جاکر کہا کہ بھائیو! “اسلام قبول کرلو، محمد اتنا دیتے ہیں کہ فقروافلاس کا ڈر ہی نہیں رہتا۔”
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مکارم اخلاق کی تکمیل:
آپ فرماتے ہیں کہ”میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔”
نیز یہ بھی فرماتے ہیں کہ،
”اس سے معلوم ہوا کہ ایمان وتوحید کی تکمیل، حسن اخلاق کے بغیر ممکن نہیں۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے داعی کی حیثیت سے بہت برداشت اور تحمل کا مظاہرہ قدم قدم پر کیا۔
فتح مکہ کے موقع پر جب ابوسفیان نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی اس پر جناب عمر اپنی تلوار نکالتے ہوئے نبی رحمت سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ ابھی اسی وقت ابوسفیان کا خاتمہ کردیتا ہوں مگر وہ سراپہ رحمت فرماتے ہیں کہ ” آنے تو دو دیکھتے ہیں کیا کہتا ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان سے پوچھا، ”ابوسفیان! کیسے آنا ہوا؟“
ابوسفیان اس خوف میں تھے کہ جانے محمد ﷺ اب کس کس بات کا بدلہ لیں گے۔ آپ کے پرتاثیر لب ولہجے کی تاب نہ لاتے ہوئے بے اختیار کہتے ہیں کہ ”ایمان لے آنے آیا ہوں.“

یہ تھے نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ کے بحیثیت داعی چند گوشے۔ اگر آج ہم آپ کی تعلیمات پر خلوص کے ساتھ عمل پیرا ہوں تو یہ جو عمل سے عاری علم نظر آتا ہے اس کی جگہ عمل لے لے اور آج ہم یوں دنیا کے ہر میدان میں ذلت و ہزیمت کا شکار ہونےکی بجائے کامیاب و کامران امت کی حیثیت سے جانے جائیں۔ بقول اقبال
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

Comments

FB Login Required

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیوسرٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

Protected by WP Anti Spam