کبھی لندن تک- عبدالقادر حسن

میں یہ کالم قسطوں میں لکھ رہا ہوں کیوں کہ بجلی بھی قسطوں میں آ رہی ہے اور میں بجلی کی آمد پر قلم چلاتا ہوں۔ بات یہ نہیں کہ میں روشنی دینے والی بجلی کی بات کر رہا ہوں جو اکثر خراب رہتی ہے اور اس کی آمد کے انتظار میں ہر کام رکا رہتا ہے۔ میں پہلی بار لندن گیا تو کالم لکھنے میں جلدی جلدی قلم چلانے لگا تو میرے عزیز دوست مرحوم رزاق نے کہا اطمینان سے لکھو جب کالم تیار ہو گا تو ایک منٹ میں لاہور پہنچ جائے گا مشین کے ذریعے ادھر بٹن دبایا اور ادھر مشین پر کالم منتقل ہو گیا۔
یہاں لندن میں ہمیں لکھنے میں دیر سویر ہو جاتی ہے مگر لندن سے لاہور پہنچنے پر دیر نہیں ہوتی۔ لکھنے میں جو وقت لگے وہ آپ جانیں لیکن لندن سے لاہور کا فاصلہ ایک سطر کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ ادھر آپ نے مشین پر اپنا کالم چڑھایا اور ادھر لاہور میں وہ دوسری مشین پر تھرانے لگا اور آپ فارغ کیونکہ آپ کا کام صرف لکھنا ہے باقی کام بے عقل مشین کرتی ہے جس کو انسانوں نے ایک زندہ کالم نگار بنا دیا ہے۔ میں نے طے کر لیا کہ واپس جاتے ہوئے یہ مشین لے کر جاؤں گا، ارادہ پختہ تھا مگر افسوس کہ جیب نے بروقت دغا دے دیا اور کالم اور اس سے وابستہ حسرتیں سب لندن میں ہی رہ گئیں۔
زندگی میں پہلی بار سوچا کہ لندن میں ہمارے سفیر محترم میاں ممتاز محمد خان دولتانہ سے کہوں کہ وہ یہ مشین مجھے تحفہ میں دے دیں بلکہ لاہور پہنچا دیں لیکن سوچا کہ اگر میاں صاحب سے کچھ کہنا ہی ہے کوئی بڑی چیز کہی جائے کیونکہ میاں صاحب لڈن پاکستان میں اپنی زمین بیچ کر لندن میں سفارت کا خرچ چلا رہے تھے۔ اسی میں ایک ہماری مشین بھی سہی کیونکہ میاں صاحب کو جناب بھٹو نے جب سفارت کی پیش کش کی تو انھوں نے شرط لگا دی کہ اگر قادر حسن یا میاں محمد شفیع میں سے کسی کو میرے ساتھ لندن بھجوایا جائے تو وہ لندن میں سفارت قبول کرلیں گے ورنہ وہاں وہ اکیلے کیسے رہیں گے۔
بلاشبہ لندن میں پاکستانی بہت ہیں لیکن میاں صاحب کو ’جاننے‘ والے بہت ہی کم ہیں وہ ان دو پاکستانیوں میں سے کسی ایک کو ساتھ لے جائیں گے اور ان کے ساتھ گپ شپ میں اپنا وقت گزار لیں گے ورنہ ان کے لیے برطانیہ کی سفارت مشکل ہو گی۔
میاں دولتانہ اگرچہ لندن میں پڑھے لیکن عمر کے اس حصے میں وہ لندن میں نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں لیکن بھٹو صاحب کے دور میں یہ بات ادھوری رہ گئی جس کے بارے میں محترم میاں شفیع (م ش) کو بتا دیا تھا کہ لندن کی تیاری نہ کریں۔ یہ نہیں ہو گا۔ بہر کیف جو ہونا تھا وہ ہو گیا یعنی نہ میاں صاحب برطانیہ میں ہمارے میزبان بنے نہ ان کی تنہائی دور ہوئی جس کو ختم کرنے کے لیے انھوں نے لاہور کے دو صحافیوں کو ساتھ لے جانا چاہا تھا، میاں صاحب کچھ عرصہ لندن میں پاکستان کی سفارت کرتے رہے۔
میں نے ان دنوں میاں صاحب کے ایک معاون پاکستانی سینئر افسر سے پوچھا کہ میاں صاحب سفارت کیسی کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے سفیر بن سکتے ہیں ان کے اندر سفارتی قابلیت عروج پر ہے لیکن وہ خالی خولی سفیر بننے پر راضی نہ ہوئے وہ بھٹو صاحب کے ساتھ اپنے وعدے کے مطابق لندن میں سفارت خانہ سنبھالنے پر آمادہ ہو گئے۔ ایک مختصر سے عرصہ کے لیے وہ ہمارے سفارت خانے میں بیٹھنے لگے۔
اتفاق سے انھی دنوں میں لندن گیا اور ان سے ملاقات ہو گئی جس کے نتیجے میں انھوں نے مجھے سفارت خانے کے قریب پاکستانی ہوسٹل میں کمرہ لے دیا اور چند دن میں یہاں مقیم بھی رہا مگر یہاں کا قیام کچھ زیادہ آرام دہ نہیں تھا چنانچہ میں نے شکریے کے ساتھ یہ جگہ خالی کر دی اور قریب ہی ایک جگہ کرائے پر لے لی مگر کرایہ زیادہ تھا اور میں ایک مسافر چنانچہ میں ایک پاکستانی کے تعاون سے سستی مگر اچھی جگہ پر منتقل ہو گیا جہاں لندن میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ کبھی کبھار محفل بھی جما کرتی تھی۔
کئی پاکستانی لندن میں اپنا کام یا تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان لوٹ آئے ان سے اب بھی ملاقات ہوتی رہتی ہے اور لندن کی یادیں بھی تازہ ہوتی رہتی ہیں مگر ایک المیہ یہ ہوا کہ لندن میں مقیم ہمارے ایک عزیز دوست فوت ہو گئے اور میرے جن پسندیدہ شہروں میں میرے دوست نہیں رہتے قدرت انھیں ہم سے جدا کر دیتی ہے تو میں ان شہروں کا راستہ بھول جاتا ہوں سوائے کسی مجبوری کے۔ کتنے ہی شہر ہیں جو ان کے مکینوں کی جدائی کی وجہ سے مجھ سے چھوٹ گئے ہیں۔ مثلاً میں لندن بھی کسی مجبوری کی وجہ سے کبھی جاتا ہوں وہاں کے مقیم دوستوں کی یادیں مجھے بے چین رکھتی ہیں اور میں کام بھگتا کر واپس بھاگ آتا ہوں۔
میرے لیے شہر ان کے شہریوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور اب میں اپنے ماضی کے پسندیدہ شہروں سے بھی بھاگ آتا ہوں کچھ عمر کا تقاضا کچھ بچھڑجانے والے دوستوں کی جدائی جن کے بغیر یہ سب شہر بے جان دکھائی دیتے ہیں۔ ان شہروں کی زندگی میرے لیے ان کے مکینوں کی وجہ سے تھی۔