جنرل راحیل شریف کا ایشو- جاوید چوہدری

شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے وزیر دفاع ہیں‘ یہ شاہ سلیمان کے صاحبزادے ہیں اور یہ 23 جنوری 2015ء کواپنے والدکی جگہ وزیر دفاع بنے‘ یہ دو بار پاکستان تشریف لائے‘ یہ پہلی مرتبہ 10 جنوری 2016ء کو آئے‘ یہ چند گھنٹے پاکستان رہے‘جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور واپس چلے گئے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے اس دورے کے آٹھ دن بعد میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف سعودی عرب اور ایران کے دورے پر گئے‘ یہ دورہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کیلیے تھا لیکن بدقسمتی سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی‘ شہزادہ محمد بن سلمان دوسری بار 28 اگست 2016ء کو ایک روزہ دورے پر اسلام آباد آئے‘ یہ پہلے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملے اور اس کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔
سعودی وزیر دفاع نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران خواہش ظاہر کی ’’ہم جنرل راحیل شریف کو مسلم ممالک کی مشترکہ افواج کا کمانڈر انچیف بنانا چاہتے ہیں‘‘ وزیراعظم نے جواب دیا ’’یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہو گی‘‘ شہزادہ محمد وزیراعظم کی منظوری کے بعد جنرل راحیل شریف سے ملے‘ وزیراعظم نے اس دوران آرمی چیف کوسعودی عرب کی خواہش اور اپنے جواب سے مطلع کر دیا‘ وزیراعظم نے آرمی چیف سے یہ بھی کہا ’’آپ انکار نہ کیجیے‘ ہم انھیں دوسری بار ناراض نہیں کر سکتے‘‘ جنرل راحیل شریف نے ’’او کے سر‘‘ کہا اور یوں یہ معاملہ سیٹل ہو گیا۔
میں کہانی کو آگے لے جانے سے قبل اس ’’دوسری بار‘‘ کی وضاحت کرتا چلوں‘فروری 2015ء میں سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں پر حملے کا فیصلہ کیا‘ سعودی فوج حملے کیلیے تیار نہیں تھی‘ میاں نواز شریف چار مارچ 2015ء کو شاہ سلمان کی دعوت پر سعودی عرب گئے‘ شاہ نے اس دورے کے دوران وزیراعظم سے ایک بریگیڈ فوج مانگ لی‘ میاں نواز شریف سعودی شاہ کو انکار نہ کر سکے‘ یہ شاہ سے فوج بھجوانے کا وعدہ کر آئے۔
وزیراعظم نے پاکستان آنے کے بعد آرمی چیف کو اپنے وعدے سے مطلع کر دیا‘ جنرل راحیل شریف نے بھی کمٹمنٹ دے دی لیکن عین وقت پر پاک فوج انیلسس ڈیپارٹمنٹ نے عرب ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں سے معلومات جمع کیں‘ تجزیہ کیا اور اس فیصلے کو خطرناک قرار دے دیا‘ فوج نے آرمی چیف کو پریذنٹیشن دی‘ جنرل راحیل شریف کو بتایا گیا‘ سعودی عرب کو فوج بھجوانا غلطی ہو گی‘ ہمیں عربوں کی داخلی سیاست میں نہیں پڑنا چاہیے‘ جنرل راحیل شریف یہ پریذنٹیشن دیکھ کر پریشان ہو گئے اور انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا ’’میں وزیراعظم کو کمٹمنٹ دے چکا ہوں‘‘ جنرل راحیل کے ساتھیوں نے اس کمٹمنٹ کو غلط قرار دے دیا۔
آرمی چیف پریذنٹیشن لے کر وزیراعظم کے پاس چلے گئے‘ وزیراعظم کو تمام خطرات سے آگاہ کر دیا گیا‘ وزیراعظم بھی پریشان ہو گئے اور انھوں نے آرمی چیف سے کہا ’’ہم شاہ سلمان سے وعدہ کر چکے ہیں‘ ہم اب اس وعدے سے کیسے بیک آؤٹ کریں گے‘‘ جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو سیاسی حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا‘ وزیراعظم نے آرمی چیف سے اتفاق کیا اور حکومت یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لے گئی‘ پارلیمنٹ نے 10 اپریل 2015ء کو 12 نکاتی قرارداد پاس کر دی۔
قرارداد میں حکومت کو پابند کر دیا گیا‘ پاکستان یمن سعودی عرب بحران میں غیر جانبدار رہے گا‘ اگر خدانخواستہ کبھی حرمین شریفین کی سلامتی پر حرف آیا یا کسی دوسرے ملک نے سعودی عرب پر حملہ کیا تو پاکستان حرمین شریفین کی حفاظت کیلیے سعودی عر ب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوگا‘ حکومت نے سعودی عرب کو پارلیمنٹ کی اس قرارداد سے مطلع کر دیا‘ سعودی حکومت نے پاکستانی حکومت کی مجبوری تسلیم کر لی لیکن شاہ ’’وعدہ خلافی‘‘ پر خوش نہیں تھے‘ وزیراعظم اور آرمی چیف کو پوزیشن کلیئر کرنے کیلیے23اپریل 2015ء کو سعودی عرب جانا پڑا۔
وزیراعظم نے 28 اگست کو آرمی چیف کو ماضی کی اس ’’وعدہ خلافی‘‘ کا حوالہ دیا تھا‘ ہم شہزادہ محمد بن سلمان اور آرمی چیف کی ملاقات کی طرف واپس آتے ہیں‘ سعودی وزیر دفاع نے 28 اگست کی ملاقات کے دوران جنرل راحیل شریف کے سامنے بھی اپنی خواہش کا اظہار کیا‘ آرمی چیف نے بھی پیشکش کو اعزار قرار دے دیا لیکن شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے تین شرائط رکھ دیں‘ یہ شرائط یہ تھیں‘ ایک‘ ایران کو بھی اس اتحاد میں شامل کیا جائے گا‘ دو‘ میں کسی کے ماتحت نہیں ہوں گا‘ تین‘ مجھے اسلامی ممالک کے درمیان تنازعات کی صورت میں ثالثی کا اختیار حاصل ہو گا۔
شہزادہ محمد نے شرائط کے جواب میں کہا ’’ہم یہ شرائط ڈسکس کریں گے‘‘ شہزادہ اس کے بعد سعودی عرب واپس چلا گیا‘ جنرل راحیل شریف 30 نومبر کو ریٹائر ہوئے اور یہ دو جنوری 2017ء کو شاہ سلمان کی دعوت پر سعودی عرب گئے‘ سعودی حکومت نے انھیں سربراہ مملکت کے برابر پروٹوکول دیا‘ یہ وہاں حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملے‘ سعودی عرب اور پاکستان میں اس دوران خبر پھیل گئی’’ جنرل راحیل شریف کو 39 مسلم ممالک کی مشترکہ فوج کا سربراہ بنا دیا گیا ہے‘‘ یہ خبر سوشل میڈیا سے ٹیلی ویژن چینلز پرآئی اور وہاں سے اخبارات تک پہنچ گئی لیکن یہ اس کے باوجود غیر تصدیق شدہ رہی یہاں تک کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے6جنوری کو سید طلعت حسین کے پروگرام میں خبر کی تصدیق کر دی‘ ان کے الفاظ تھے‘ یہ فیصلہ حکومت کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا گیا ‘ وزیردفاع کی طرف سے تصدیق کے بعد نیا پنڈورا باکس کھل گیا۔
فوج کے سابق جرنیلوں نے جنرل راحیل شریف کے فیصلے کی سرعام مذمت شروع کر دی‘ اینکرز نے بھی وفاقی وزراء سے یہ پوچھنا شروع کر دیا ’’جنرل راحیل شریف نے یہ فیصلہ کس سے پوچھ کر کیا‘ این او سی کس نے جاری کیا اور حکومت نے انھیں یہ اجازت کیسے دے دی‘‘ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کا کہنا تھا یہ دو بلاکس کی لڑائی ہے‘ ایک طرف ایرانی بلاک ہے‘ اسے روس کی حمایت حاصل ہے اور دوسری طرف سعودی بلاک ہے جس کے پیچھے امریکا کھڑا ہے‘ یہ دو مسلکوں کی لڑائی بھی ہے‘ ہمیں اس لڑائی میں کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
9 جنوری کو چیئرمین سینٹ رضا ربانی بھی میدان میں کود پڑے‘ انھوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے ایوان میں وضاحت مانگ لی‘ جنرل راحیل شریف اس دوران عمرہ کر کے واپس آ گئے‘ یہ اس وقت لاہور میں اپنے گھر میں ہیںلیکن ایشو آج بھی اپنی جگہ موجود ہے‘ قوم فوج اور حکومت دونوں کے ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔
یہ اس ایشو کا پس منظر تھا‘ ہم اب حقائق کی طرف آتے ہیں‘ یہ حقیقت ہے ابھی تک 39 مسلم ممالک کے اتحاد کی ہئیت اور مقاصد طے نہیں ہوئے‘ اتحاد میں شامل تمام ممالک کی میٹنگ بھی نہیں ہوئی اور اتحاد کے ٹی او آرز بھی طے نہیں ہوئے‘ فیصلے کے مطابق پہلے مسلم ممالک کے وزراء دفاع کی باڈی بنے گی‘ اتحاد کی ساری پاورز اس باڈی کومنتقل ہوں گی اور پھر یہ باڈی مشترکہ فوج کے پہلے سپہ سالار کا تعین کرے گی ‘ یہ ممکن ہے جنرل راحیل شریف اتحاد کے پہلے چیف ہوں لیکن وزراء دفاع کی باڈی اس تعین سے پہلے باقاعدہ معاہدہ تیار کرے گی‘ یہ معاہدہ پاکستان کو بھجوایا جائے گا۔
حکومت اس معاہدے کی منظوری دے گی اور پھر پاک فوج جنرل راحیل شریف کی تعیناتی کیلیے این او سی جاری کرے گی‘ اگر فوج کی موجودہ قیادت جنرل راحیل شریف کو این او سی نہیں دیتی یا حکومت معاہدہ منظور نہیں کرتی تو جنرل راحیل شریف سعودی عرب نہیں جا سکیں گے لہٰذا ہنوز دلی دور است۔ہمیں یہاں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا وزیراعظم میاں نوازشریف جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب بھجوانا چاہتے ہیں‘ یہ محمد بن سلمان سے وعدہ بھی کر چکے ہیں تاہم یہ اب فوج‘ میڈیا اور اپوزیشن کی مذمت کے بعد محتاط ہو گئے ہیں‘ یہ اب یہ فیصلہ خود نہیں کر سکیں گے۔
یہ شاید اس تعیناتی کو پارلیمنٹ میں لے جانے پر مجبور ہو جائیں اور میڈیا اور فوج کے خوفناک ردعمل کے بعد شاید جنرل راحیل شریف بھی یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیں اور یہ بھی امکان ہے فوج جنرل راحیل شریف کو این او سی نہ دے‘ کیوں؟ کیونکہ اگر ایک بار یہ اجازت دے دی گئی تو پھر یہ واقعہ بار بار ہو گا اور ہماری فوج یہ روایت افورڈ نہیں کر سکتی‘ آرمی چیف ملک کا حساس ترین عہدہ ہے‘ اس حساس عہدے پر فائز کسی شخص کو کسی دوسرے ملک کے ساتھ شیئرکرنا آسان نہیں ہوگا‘ فوج شاید یہ روایت نہ ڈالے اور مجبوری کے عالم میں اگر جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب بھجوانا پڑ گیا تو شاید انھیں ماضی کی معلومات کو خفیہ رکھنے کا حلف اٹھانا پڑ جائے۔
ہم آج کے دن یہ فیصلہ نہیں کرسکیں گے‘ یہ فیصلہ مارچ اپریل میں ہوگا‘ سعودی عرب نے ابھی ایران کو بھی راضی کرنا ہے‘ وزراء دفاع کی میٹنگ بھی بلانی ہے‘ اتحاد کی قیادت کا فارمولہ بھی طے کرنا ہے اور اتحادیوں میں جنرل راحیل شریف پر اتفاق رائے بھی پیدا کرنا ہے اور یہ کام جلد نہیں ہوسکیں گے‘ میرا ذاتی خیال ہے جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب جانا چاہیے‘ یہ واقعی ہمارے لیے اعزاز کی بات ہو گی لیکن یہ فیصلہ حکومت اور فوج کی مرضی سے ہونا چاہیے‘ اتحاد کی تمام جزئیات بھی پوری قوم کے نوٹس میں ہونی چاہئیں‘ ہمیں یوں چلتے پھرتے بڑے بڑے فیصلے نہیں کر لینے چاہئیں‘ ہمیں خود کو اب میچور قوم ثابت کرنا چاہیے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam