اکادمی ادبیات پاکستان کی کانفرنس- عطا ء الحق قاسمی

صدر عالی مقام اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب سید ممنون حسین!
جناب عرفان صدیقی مشیر وزیر اعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ
آج ہم سب کے لئے یہ بہت مسرت کا مقام ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان بین ا لاقوامی کانفرنسوں کے حوالے سے ایک نئی روایت قائم کرکے اپنا آخری سیشن منعقد کررہی ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کسی زبان و ادب کانفرنس کا افتتاح کریں اور اختتام صدر پاکستان کے ہاتھوں ہو۔ ہماری حکومتیں ادب کو وغیرہ وغیرہ میں شامل کرتی چلی آئی ہیں، مگر اس بار خوش قسمتی سے ہمارے وزیر اعظم کو فنون لطیفہ خصوصاً مصوری، موسیقی اور تاریخی ورثہ سے گہری دلچسپی ہے اور اسی طرح جناب صدر پاکستان شعرو ادب کے دلدادہ ہیں۔ جناب صدر مجھے علم ہے آپ کو سینکڑوں شریفانہ قسم کے اشعار یاد ہیں ، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جناب وزیر اعظم کو اور آپ کو عین موقع پر کسی مجبوری کی وجہ سے منتظمین سے معذرت نہیں کرنا پڑی۔
صدر عالی مقام میں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں اکادمی ادبیات پاکستان کی چار روزہ ادبی کانفرنس کو ایک نئی روایت کے قیام کا نام دیا تھا، حالانکہ اب یہ کانفرنسیں پاکستان میں آئے دن منعقد ہوتی ہیں۔ میں کانفرنس کے چاروں دنوں میں ایک ہی وقت میں جاری زبان و ادب کے حوالے سے منعقد سیشن میں جاتا رہا ہوں۔ ان سیشنز میں جہاں پاکستان ہی نہیں دنیا کے متعدد ممالک کے نامور دانشور نہایت اہم موضوعات پر اظہار خیال کررہے تھے، وہاں جو ایک بالکل نئی چیز مجھے نظر آئی وہ یونیورسٹیوں کے اسکالرز تھے جنہیں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں سے مدعو کیا گیا تھا۔ ان کی یونیورسٹیوں نے دس ہزار روپوں سے اپنے اسکالرز کی رجسٹریشن کرائی تھی اس سے جہاں اکادمی کو اخراجات کے حوالے سے کچھ فائدہ ہوا وہاں ان اسکالرز نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ سکھایا۔ ہم لوگ گرمنبل کرتے رہتے ہیں کہ پرانی نسل کے بڑے لوگ ایک ایک کرکے رخصت ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کی اور ان کی جگہ لینے والا کوئی نہیں۔اکادمی ادبیات نے اس صورتحال پر کڑھنے کی بجائے اس سلسلے میں پہلا قدم اٹھایا اور میں نے ان نوجوان اسکالرز کے سیشن میں جاکر اور ان کی بحثیں سن کر محسوس کیا کہ ان میں سے کئی ایک روشن مستقبل ہی نہیں ، روشن حال بھی رکھتے ہیں۔ اکادمی ادبیات نے ایک کمال یہ بھی کیا کہ کانفرنس سے پہلے ان سے منگوائے گئے ،مقالوں میں سے اقتباسات ایک کتابی صورت میں شائع کردئیے اور مندوبین میں یہ بہت خوبصورت اور قیمتی کتاب کانفرنس سے پہلے ہی ان کے بیگ میں ڈال دی۔
صدر عالی مقام یہ ایک عالیشان کانفرنس تھی اور آپ کی تشریف آوری سے اسے چار چاند لگ گئے ہیں۔ میں اس موقع پر عرفان صدیقی صاحب کو بھی بہت دل سے مبارک پیش کرتا ہوں کہ ان کی قیادت میں یہ عظیم کام ہوا۔ اکادمی ادبیات کے چیئرمین ممتاز اسکالر ڈاکٹر قاسم بھوگیو کئی مہینوں سے اس بڑے کام کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ میں بھوگیو صاحب کو’’جن‘‘ کہا کرتا ہوں، ایک جن ان کے علاوہ بھی ہے جن کا نام ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہے۔ عرفان صدیقی خوش قسمت ہیں کہ انہیں یہ دو جن ورثے میں ملے۔ قاسم بھوگیو نے جب سے چارج سنبھالا ہے یہ ان کا پہلا کارنامہ نہیں ہے وہ اس سے پہلے محدود فنڈز کے باوجود چاروں صوبوں میں نسبتاً چھوٹے پیمانے پر اس طرح کی کانفرنسیں منعقد کرچکے ہیں۔ ابھی بہت سے خواب ان کے ذہن میں مچل رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان کے سبھی خواب شرمندہ تعبیر ہوں گے۔عرفان صدیقی خود بھی شاعر ہیں ، یہ الگ بات کہ شاعری کو اس طرح چھپا چھپا کر رکھتے ہیں جس طرح یار لوگ اپنے عیب چھپاتے ہیں۔
آخر میں ایک بار پھر صدر عالی مقام ، میں اکادمی کی وساطت سے آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ..... اور چلتے چلتے کانفرنس میں موجود اپنے سینئر دوستوں سے ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آنے والی نسل آپ کی اشیرباد کی مستحق ہے۔ ہمیں معاشرے میں پائی جانے والی تمام خرابیوں کا ذمہ دار انہیں نہیں ٹھہرانا چاہئے کیونکہ ایسے مواقع پر مجھے ایک محفل یاد آجاتی ہے جس میں نوجوانوں کے ہلا گلا مچانے سے زچ ہو کر انہیں مخاطب کرکے اقبال کا یہ شعر پڑھا؎
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
اٹھا کر پھینک دو ان کو گلی میں
جس پر ایک نوجوان نے ہاتھ جوڑ کر مودبانہ انداز میں کہا’’بزرگو، اقبال نے جب یہ شعر کہا تھا اس وقت آپ نوجوان تھے‘‘۔
(صدر پاکستان جناب ممنون حسین کی زیر صدارت اکادمی ادبیات پاکستان کی چار روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں پڑھاگیا)