ادب، کتابیں اور کانفرنسیں – محمد عامر خاکوانی

کتابوں اور کانفرنسوں کا موسم آ گیا ہے۔ سردیوں کی یہ بھیگی شامیں اور کبھی دھند آلود ، کبھی نرم خنک دھوپ والی دوپہریں اپنے اندر ایک خاص قسم کا سحر رکھتی ہیں۔ کتاب پڑھنے ، پڑھانے اور بحث مباحثوں کے لئے یہ ُرت مثالی سمجھی جاتی ہے۔کتابوں کی نمائشیں بھی جلد ہونے والی ہیں۔ فروری کے پہلے ہفتے میں ایکسپو سنٹر لاہور میں کتابوں کا میلہ سجے گا۔ انگلش لٹریری فیسٹول یا لٹریری کانفرنس بھی اسی مہینے میں ہوتاہے۔ایکسپو سنٹر لاہور میں کتابوں کا میلہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر کتاب اور قارئین کے حوالے سے مایوسانہ گفتگو ہوتی ہے۔ ایک بڑا حلقہ یہ طے کئے بیٹھا ہے کہ کتاب پڑھنے والے اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اب یہاں پڑھنے والے ہیں نہ ہی کتابیں فروخت ہوتیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو میں مشورہ دوں گا کہ کراچی ایکسپو سنٹر اور لاہور ایکسپو سنٹر کا ایک وزٹ ضرور کریں۔ پانچ چھ دنوں میں آٹھ دس لاکھ لوگ وہاں آتے اور کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوجاتی ہیں۔ عام طور پر یہ تاثر ہے کہ مذہب پر سب سے زیادہ کتابیں بکتی ہیں یا پھر شاعری وغیرہ کی کتابیں خریدی جاتی ہیں۔ میں نے تو لاہور بک ایکسپو میں سیاست، تاریخ ،آپ بیتی پر مبنی کتابیں دھڑا دھڑ بکتی دیکھی ہیں، فلسفہ میں دلچسپی رکھنے والے نظر آجاتے ہیں، فکشن بھی ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہوتا ہے۔

پچھلا ہفتہ اسلام آباد میں گزرا۔ لاہور والے تو بارشوں کو ترس گئے ہیں، ایک آدھ ہلکی پھلکی سی اب ہوئی ہے، مگر اسلام آباد میں دھواں دھار بارشیں ہوئیں اور دھلے دھلے شہر کی نکھری فضا، ٹھنڈی مگر خالص ہوائیں خوش کن لگیں۔ اسلام آباد میں یہ ادبی میلہ اکادمی ادبیات (اکیڈمی آف لیٹرز) پاکستان نے سجایا تھا۔ ایک بڑی ادبی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے سات سو کے قریب شاعر، ادیب شریک ہوئے۔ چار دن تک یہ کانفرنس ہوئی۔ وزیراعظم پہلے دن خوب بولے، انہوں نے ادب اور ادیبوں پر خاصی گفتگو کی اور فراخدلانہ اعلانات بھی کیے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کشمیر پر بھی بات کی، اگلے دن کے اخبارات میں کشمیر پر ان کے بیان کی لیڈ تھی، جبکہ ادبی کانفرنس کا ذکر نہ ہونے کے برابر۔ اردو پریس میں تو مایوس کن کوریج رہی۔ اکادمی کے زیراہتمام یہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس تھی، کانفرنس باقاعدگی سے نہ ہونے کی ایک وجہ فنڈز کی عدم دستیابی بھی رہی۔ اس بار میاں نواز شریف نے ایک مثبت قدم اٹھایا کہ پچاس کروڑ روپے کے انڈومنٹ فنڈ کا اعلان کیا۔ اب اکیڈمی آف لیٹرز کے پاس فنڈز کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ اس سب کچھ کا کریڈٹ ممتاز کالم نگار عرفان صدیقی کو دینا چاہیے۔ عرفان صدیقی کالم نگاری سے آج کل رخصت پر ہیں۔ اتفاقیہ یا استحقاقیہ کے بجائے اسے ”رضاکارانہ“ رخصت کہنا چاہیے۔

دوسرے روز افتتاحی اجلاس میں صدیقی صاحب نے عمدہ تقریر کی۔ ایک تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ان کے خیال میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ واضح وابستگی رکھنے والے یا کوئی سرکاری ذمہ داری لینے والے کو کالم نہیں لکھنا چاہیے کیونکہ وہ اپنی غیرجانبداری برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ایک نکتہ یہ بھی اٹھایا کہ ادب کٹھنائیوں میں پھلتا پھولتا ہے اور سرکار، دربار کی صحبت اسے ناکارہ یا کمزور بنا دیتی ہے، رائٹر گلڈ کی مثال انہوں نے دی کہ جب وہ بنا تو ادیبوں نے حکومتی نیت پر شک کیا، مگر ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ چند ایک خوشگوار اعلانات بھی انہوں نے کیے۔ مستحق ادیبوں کے لیے وظیفہ پانچ ہزار روپے تھا، جسے بڑھا کر تیرہ ہزار کر دیا گیا۔ اگرچہ یہ بھی کم ہے، مگر پہلے سے تو گوارا ہے، امید کرنی چاہیے کہ اگلے برسوں میں اسے بڑھایا جائے گا۔ وظیفہ پانے والے ادیبوں کی تعداد بھی دوگنی کر دی گئی، لائف انشورنس کی رقم بھی بڑھائی گئی۔ انڈومنٹ فنڈز کی رقم سے خاصا کچھ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔ عرفان صدیقی صاحب کی وزارت کے تحت کئی اہم ادبی، علمی ادارے اکٹھے کر دیے گئے ہیں۔ اکادمی کے علاوہ، نیشنل بک فاؤنڈیشن، مقتدرہ قومی زبان، قومی اردو لغت بورڈ ، اردو سائنس بورڈ وغیرہ۔ اس بار ان اداروں میں تقرریاں بھی اچھی ہوئی ہیں۔ ناصر عباس نیر جیسے پڑھے لکھے نقاد، دانشور کو اردو سائنس بورڈ کا سربراہ بنایا گیا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے نیشنل بک فائونڈیشن کے پورے کلچر کو بدل دیا، ان کو توسیع مل گئی، جبکہ عقیل عباس جعفری کو اردو لغت بورڈ کی ذمہ داری دی گئی۔ جعفری صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے نوید سنائی کہ بائیس جلدوں پر مشتمل اردو لغت کو شائع کیا جا رہا ہے اور اس بار اس کا ای ورژن بھی ہوگا اور موبائل کی ایپلی کیشن بنائی جائے گی۔

کانفرنس کے دوران بعض ادیب، شاعر انتظامات کے بارے میں شکوہ بھی کرتے رہے۔ دراصل اسلام آباد جیسے شہر میں سینکڑوں مہمانوں کے لیے انتظامات کرنا آسان نہیں تھا۔ ظاہر ہے نسبتاً اچھے ہوٹلوں میں اتنے کمرے میسر نہیں تھے، کچھ کو گیسٹ ہاؤسز میں بھی رہنا پڑا۔ شکایات کا مکمل خاتمہ تو کبھی ممکن نہیں ہوتا، مجموعی طور پر انتظامات اچھے تھے، اکادمی ادیبات کے عاصم بٹ، اختر رضا سلیمی وغیرہ بیچارے بھاگ دوڑ ہی کرتے رہے۔ اکیڈمی ادبیات لاہور آفس کے جمیل صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی، مگر جس جاں فشانی سے وہ کام میں جتے رہے، وہ دیدنی تھا۔ ادیبوں، شاعروں سے ڈیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ حساسیت اور زود رنجی کی یہاں کمی نہیں۔ مجموعی طور پر اسے کامیاب کانفرنس قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کی ملک گیر کانفرنس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں کے ادیبوں، شاعروں کو آپس میں ملنے جلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سرائیکی وسیب سے آنے والے بہت سے لکھاریوں سے ملاقات ہوئی۔ سرائیکی کے نامور اور سینئر شاعر رفعت عباس کے لیے ایک سیشن رکھا گیا تھا۔ رفعت عباس کی سحرا نگیز شاعری تو برسوں سے پڑھ رہے تھے، مگر ملاقات پہلی بار ہوئی۔ برادر مکرم حفیظ خان بھی اس سیشن کے لیے بطور خاص آئے تھے۔ حفیظ خان ادب، تنقید اور تحقیق کے موضوعات پر دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں سے ایک جناب رفعت عباس پر بھی ہے۔ کانفرس میں متعدد سیشن رکھے گئے تھے، مگر سچ بات یہ ہے کہ ان سیشنز میں شمولیت برائے نام تھی۔ پندرہ بیس سے زیادہ سامعین شاید ہی کسی کو نصیب ہوئے۔ شاید ایک وجہ یہ ہو کہ باہر سے کم لوگ آئے، زیادہ تر کانفرنس کے مدعوئین ہی تھے۔

ایک سیشن میں موضوع تھا کہ ادب کے فروغ میں میڈیا کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ میڈیا خاص کر الیکٹرانک میڈیا اس قدر کمرشل ہوچکا ہے کہ ادب جیسی نان کمرشل چیز کو پروموٹ کرنے میں اسے قطعی کوئی دلچسپی نہیں۔ ٹی وی چینلز پر کتاب، ادیب، ادب کا داخلہ ہی ممنوع قرار پاچکا۔ اخبارات البتہ اپنے ہفتہ وار ادبی ایڈیشن شائع کر دیتے ہیں، کسی معروف ادیب کے انتقال پر خصوصی اشاعت… اللہ اللہ خیر صلا۔ صورتحال تو نہایت مایوس کن ہے۔ جب تک کالم نگار اور اینکر حضرات کتابوں، ادب، ادیب کو ڈسکس نہیں کریں گے، اہمیت نہیں دیں گے، کچھ نہیں ہوسکتا۔ اردو اخبارات میں درجنوں کالم نگار ہیں، ایک فیصد کے قریب ایسے ہوں گے جو کتابوں پر کالم لکھیں گے۔ نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تو یہ تناسب صفر فیصد ہے۔ اگر بڑے اینکر اپنے چار یا پانچ دنوں کے شوز میں سے کسی ایک روز ہی صرف پانچ منٹ کسی نئی کتاب کے لیے مختص کر دیں تو ہزاروں، لاکھوں لوگوں کی فکری، ذہنی تربیت ہوسکے گی۔ کاش ایسا ہوسکے۔ سردست تو لگتا ہے کہ ادب اور ادیبوں کو میڈیا کے سہارے کے بغیر ہی اپنے طور پر سخت جانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندہ رہنے کی مشق کرنا پڑے گی۔

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ دنیا میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے سابق مدیر رہ چکے ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam