مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم اور صہیونی عزائم - غلام نبی مدنی

تھیوڈور ہرزل انیسویں صدی کا متنازع کردار ہے۔ آج دنیا میں جتنی خوفناک جنگیں ہو رہی ہیں ان کے پیچھے اسی ہرزل کی سوچ کارفرما ہے۔ ہرزل اگرچہ 1904میں مرگیا تھا لیکن دنیا میں آج بھی اس کی آئیڈیالوجی زندہ ہے۔ تاریخ میں چنگیز خان اور اس کے پوتے ہلاکو خان کو بربریت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے، جنہوں نے دنیا کو انسانوں کے خون سے رنگین کر دیا تھا، لیکن ان کی درندگی چند سالوں بعد ختم ہوگئی تھی، جبکہ یہ ہرزل ہے جس کے خون ریز منصوبوں سے سو سال بعد بھی دنیا خون سے رنگین ہو رہی ہے۔ پہلی جنگ عظیم ہو یا دوسری جنگ عظیم، ہٹلر کی بربریت کے قصے ہوں یا پھر امریکہ کی افغانستان، عراق اور عرب بہار کے نام پر مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو برباد کرنے کی پالیسیاں ہوں، سب کے پیچھے ہرزل کاخفیہ منصوبہ کارفرما ہے۔ ہرزل نے بظاہر دنیا کے یہودیوں پر مظالم کا نام لے کر دنیا کے وسط میں واقع انبیاء کی مقدس سر زمین کو تاخت و تاراج کرکے یہودیوں کے لیے علیحدہ ملک حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اس کااصل ہدف پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کا وہ خواب تھا جس کے لیے دنیا کے یہودی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے لگ بھگ ڈھائی ہزار سال پہلے سے انتظار کر رہے تھے، اور آپ کی آمد کے بعد محض اس بنا پر آپ کے دشمن بن گئے کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ یہودیوں کے اسی خواب کی تعبیر کے لیے آج ہرزل کی قائم کردہ بین الاقوامی صہیونی تنظیم اور موساد ایسی دیگر یہودی تنظیمیں مختلف طریقوں سے دنیا کے تقریبا ہر ملک میں خفیہ صہیونی عزائم کے لیے کوشاں ہیں۔

ہرزل کو جدید صہیونیت کا باپ کہا جاتا ہے، جس نے یہودیوں کو ساڑھے تین ہزارسال سے کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک علیحدہ ملک حاصل کر کے دنیا پر یہودیوں کو حکمرانی کرنے کا منصوبہ دیا۔ ہرزل نے مرتے دم تک علیحدہ ملک کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ دو مرتبہ خلافت عثمانیہ کے فرماں روا خلفیہ عبدالحمید ثانی کے پاس گیا کہ یہودیوں کو فلسطین میں رہنے کی اجازت دے دی جائی، لیکن خلیفہ نے اجازت نہیں دی۔ بعدازاں فرانس،جرمنی اور برطانیہ کے بادشاہوں اور فوج تک رسائی حاصل کر کے انہیں یہودیوں کے الگ ملک کے لیے قائل کیا۔ دنیا بھر کے مالدار یہودیوں کو اکٹھا کرکے بڑے بڑے ملکوں کی حکومتوں پر اثر انداز ہونے کی ترغیب دی۔ 1904ء میں مرتے وقت نصیحت کی کہ ”عظیم فلسطین میرے لیے ضرور حاصل کرنا میں نے اپنے دل کاخون اپنے یہودی بھائیوں کے عظیم فلسطین کے لیے دیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ فی الحال مجھے میرے باپ کے ساتھ دفن کیا جائے۔ لیکن جب یہودی اپنا الگ ملک حاصل کر لیں تو مجھے اس عظیم ملک (فلسطین) میں دفنا دیاجائے“۔ چنانچہ 1949ء میں غاصب اسرائیلی حکومت نے ہرزل کی اس خواہش پر عمل کرتے ہوئے ویانا سے اس کی باقیات کو لا کر القدس کے قریب ایک پہاڑ پر دفنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ جو دھواں ہے نشاں ہے آتشِ الفت کا۔۔ یا؟ - بلال شوکت آزاد

ہرزل کے مرنے کے 44 سال بعد یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کر کےاسرائیل نام سے الگ ملک اگرچہ بنا لیا، لیکن ہرزل کا منصوبہ صرف فلسطین پر قبضہ کرنا ہرگز نہ تھا، بلکہ اس کے منصوبے میں مصر، عراق، سعودی عرب، شام، اردن، لبنان، ترکی اور ایران سے لے کر خلیج عربی، خلیج عقبہ سمیت بحیرہ عرب، افریقہ کا کچھ حصہ اور پاکستان تک کا خطہ شامل تھا۔ہرزل کے بیان کردہ منصوبے پر پچھلے سوسالوں سے کام جاری ہے۔ چنانچہ 1948ء میں اس منصوبے کے تحت پہلےفلسطین کے محدود علاقے پر قبضہ کیا گیا۔ پھر1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے ذریعے مصر، اردن، لبنان اور شام کے کچھ حصے پر قبضہ کر کےفلسطین میں قائم کی گئی غاصب اسرائیلی ریاست کو توسیع دی گئی۔ بعدازاں 2003ء میں امریکہ عراق جنگ اور 2011ء میں عرب بہار کے ذریعے اس منصوبے کے اگلے اہداف پر کام کو بڑھایا گیا، جو تاحال مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی صورت جاری ہے۔

اسرائیل کے مشہور اخبار Haaretz میں 1982ء میں اسرائیل کے دفاعی تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ اسرائیل کی سٹریٹیجی شروع سے یہ ہے کہ وہ اپنی حدود وسیع کرنے کے لیے عرب ممالک کو رفتہ رفتہ توڑ کر چھوٹے چھوٹے ملک بنائےگا۔ اس ضمن میں اسرائیل کے لیے بہتر ہے کہ وہ عراق کو توڑ کر شیعہ سنی دو الگ ریاستیں بنا دے اور اس کے ساتھ شام، عراق اور ترکی میں پھیلے کرد علاقے کو الگ ریاست بنا دے۔ چنانچہ 1980ء میں شروع ہونے والی ایران عراق جنگ کے ذریعے اسرائیل نے اپنے خفیہ منصوبہ کو مکمل ہوتا دیکھ کر خوشی منائی تھی۔گریٹر اسرائیل نامی مذموم منصوبے کی تکمیل کے لیے اسرائیل بنیادی طور پر تین کام کر رہا ہے۔ دنیا میں دفاعی اور معاشی طور پر ورلڈ پاور بن جائے۔ نمبر دو فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کو بڑھایاجائے۔ فلسطین کی مغربی پٹی اور غزہ میں اسرائیلی غاصب تیزی سے اس منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ جس کے لیے اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو ماضی کی بنسبت سب سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو دور میں غیرقانونی طور پرفلسطینی علاقوں میں 100 فیصد اسرائیلی آبادکاری میں اضافہ ہوا ہے۔گریٹر اسرائیل کے لیےصہیونی نمائندوں کے پیش نظر تیسرا ہدف یہ ہے کہ عرب ریاستوں میں ہنگامہ آرائی اور خانہ جنگی برپا کرکے ان کو کمزور کیا جائے۔ اگلے مرحلے میں ان عرب ملکوں کے ٹکڑے کیے جائیں تاکہ آسانی سے ان پر قبضہ کیاجاسکے۔

1896ء میں تھیوڈور ہرزل کی کتاب The Jewish State ،1982 میں اسرائیل کی جانب سے شائع ہونے والی Ynion Plane نامی رپورٹ اور 2006ء میں امریکی فوجی ادارے کی جانب سے شائع ہونے والی اسرائیل نوازاسابق امریکی جنرل کی شائع ہونے والی ”بلڈباڈرز“ نامی رپورٹ سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صہیونی اپنے عزائم کو پورا کر کے کس طرح گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرتے جا رہے ہیں۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو خانہ جنگی کی آگ بھڑک رہی ہے، اس کے پیچھے دراصل ہرزل کا منصوبہ ہی کارفرما ہے۔ جس پر پہلی جنگ عظیم کے وقت 1916ء میں سائیکس پیکونامی معاہدے کے ذریعے کام شروع ہوا۔ بعدازاں دوسری جنگ عظیم کے بعداسرائیل کے قیام سےاس میں تیزی لائی گئی اور پھرنائن الیون کے بعد عراق میں امریکی مداخلت کے بعد اس منصوبہ کا دوسرا راؤنڈ شروع ہوا جو عرب بہار کے بعد داعش کے قیام اور شامی و عراقی خانہ جنگی کی صورت اب اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔ اس منصوبے کے اختتام میں اگرچہ عراق، شام، ترکی کو تقسیم کرنا شامل ہے، لیکن ترکی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں کی مزاحمت سے فی الحال صہیونیوں کا یہ خواب ادھورا پڑا ہے۔ لیکن اگر مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک باہمی مفادات کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے اور عالمی طاقتوں کی باتوں میں آ کر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے تو شاید صہیونیوں کا یہ خواب جلد پورا ہوجائے۔ اس لیے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو اپنے مفادات کے ساتھ پورے خطے کےمفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانا ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مشرق وسطیٰ میں نیا جنگی محاذ - آصف خورشید رانا

اس خطے میں صہیونی عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ ذمہ داری سعودی عرب، مصر، ترکی، اردن اور لبنان پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان ممالک میں باہمی اعتماد کمزور ہے۔ چنانچہ ایک طرف سعودی عرب اور مصر کے مابین اختلافات کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف ترکی اور مصر کو ایک دوسرے کے قریب ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ بالخصوص مصری حکومت کی جانب سے حال ہی میں شام اور فلسطین کے معاملے میں نہ صرف دیگر عرب ممالک کےخلاف مؤقف اپنایا گیا، بلکہ مصر اسرائیل سے قربتوں کے لیے بھی پر مار رہا ہے۔ حالانکہ ہرزل کے منصوبے کے تحت صہیونیوں کے پیش نظر مصر کو بھی اسرائیلی حدود میں شامل کرنا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرسی حکومت کے خاتمے اور موجودہ ڈکٹیٹر عبدالفتاح السیسی کے آنے سے صہیونی لابی بہت خوش ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصر مشرق وسطیٰ کے دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کر کے کس طرح صہیونی عزائم کے لیے راستہ صاف کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں صہیونی عزائم کو روکنے کے لیے پوری دنیا کے اسلامی ممالک کو متحرک ہونا ہوگا اور فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری کے خلاف بھرپور مہم چلانی ہوگی۔ اس کے ساتھ عراق، شام اور دیگر ممالک میں مداخلت سے نہ صرف مغربی ممالک کو روکنا ہوگا بلکہ ایران، سعودی عرب، مصر سمیت دوسرے ملکوں کو بھی بے جا اپنے ہمسایہ ممالک میں دخل اندازی سے خود کو باز رکھنا ہوگا۔ بالخصوص ایران کو عراق، شام اور یمن میں فریق بننے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی، کیونکہ صہیونی لابی مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو مسلکی بنیادوں پر لڑا کرنہ صرف ان کے وسائل کو لوٹنا چاہتی ہے، بلکہ ہرزل کےمنصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ کی نئی تقسیم کرکے اور پھرگریٹر اسرائیل کے ذریعے یہودیوں کی پوری دنیا پر حکمرانی کے دیرینہ خواب کو بھی پایہ تکمیل تک پہچانا چاہتی ہے۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں