حادثات پر حادثات، آخر کوئی تو سد باب ہو! سیّد محمّد اشتیاق

ہر قوم اور ملک پر کٹھن وقت آتا ہے۔ قدرتی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور ناگہانی حادثات کا بھی۔ لیکن باشعور قومیں ان حادثات، سانحات اور اندوہناک واقعات سے سبق حاصل کرتی ہیں اور مستقبل میں ان سے بچنے کے لیے پیش قدمی اور منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جب بھی اس طرح کی آفات، حادثات اور سانحات وقوع پذیر ہوتے ہیں متعلقہ وزیر اور حکام، اس کی ایسی ایسی تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ ذی شعور بندہ اپنا سر پیٹ لے۔

قوم ان واقعات کی وجہ سے صدمے سے دوچار ہوتی ہے اور ہمارے سیاستدان اس موقعے پر اپنی سیاست چمکا رہے ہوتے ہیں۔ عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہوتا ہے کہ ہر قومی مسئلے کو قانون ساز اسمبلی میں زیر بحث لائیں۔ ان حادثات و واقعات سے بچنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کریں اور ذمے داران کو قانون کے کٹھہرے میں لانے کے لیے قانون سازی کریں۔ لیکن وہ سارا زور اور توانائی بے مقصد بیان بازی میں لگا دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے حادثات کا ہونا معمول کا حصّہ بن گیا ہے۔

یہی کچھ سانحہ چترال میں ہوا۔ قوم کو اب تک نہیں پتا کہ اس حادثے کی کیا وجوہ تھیں اور کس کی غفلت سے یہ حادثہ ہوا۔ ایک بکرے کے صدقے کے بعد وہی طیارے پھر اڑان بھر رہے ہیں اور قوم دعائیں کررہی ہے کہ اے اللہ، ہمارے پیاروں کی حفاظت فرما! ٹرین حادثات بھی تواتر کے ساتھ ہوتے آرہے ہیں۔ چند دن قبل لودھراں میں، پھاٹک کھلا رہ جانے کی وجہ سے کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ لیکن وہی ’ڈھاک کے تین پات‘ یعنی سوائے بیان بازی کے کچھ بھی نہیں ہوا۔ بلکہ متعلقہ وزیر موصوف کایہ بیان سامنے آیا کہ ریلوے ملازمین نئے اہداف کے حصول کے لیے خو د کو تیار رکھیں۔ یہ تو اب وزیر موصوف ہی بتاسکتے ہیں کہ ان حادثات کے ہوتے ہوئے۔ وہ نئے اہداف کی تکمیل کیسے کریں گے۔

آج کے اخبارات میں خبر شایع ہوئی ہے کہ گڈانی میں لنگر انداز بحری جہاز میں ایک مرتبہ پھر آگ لگ گئی ہے۔ متعدد محنت کش زخمی اور لاپتا ہیں۔ پانچ محنت کشوں کی لاشیں بازیاب کی جاچکی ہیں۔ اس سے قبل بھی، اسی بحری جہاز میں 22 دسمبر 2016 ء کو، آتشزدگی کا واقعہ ہوا تھا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ اس وقت جہاز کے مالک کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔ اس حادثے کے بعد جہاز کے مالک کو پھر گرفتار کیا گیا ہے۔ اس گرفتاری کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ یکم نومبر 2016ء کو بھی گڈانی میں، ایک بحری جہاز پر آتشزدگی ہوئی تھی جس میں 27 مزدور جاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ قوم ابھی تک بےخبر ہے کہ یکم نومبر اور 22 دسمبرکو پیش آنے والے حادثات کی کیا وجوہ تھیں کہ گزشتہ روز اسی نوعیت کا حادثہ پھر پیش آگیا۔

اگر، اس طرح کے حادثات کے بعد، بیان بازی کے بجائے ان حادثات کی روک تھام کے لیے اقداما ت کیے جاتے اور حادثے کے ذمّے داران، جو قانونی سقم ہو نے کی وجہ سےگرفتار ہونے کے بعد بھی، عدالت کے حکم پر رہا ہوجاتے ہیں، اس قانونی سقم کودور کرنے کے لیے، موثر قانون سازی کی جاتی تو ان حادثات کی روک تھام میں مدد ملتی۔ اب متعلقہ حکام اور حکومت کو چاہیے کہ خواب غفلت سے جاگے اور آئندہ کے لیے ان حادثات سے بچنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کریں، اور ذمّے داروں کو کڑی سے کڑی سزا دیں تاکہ اس طرح کے حادثات کا سدّباب ہوسکے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!