بلین ڈالرز بیوٹی انڈسٹری - حافظ محمد زبیر

بیوٹی انڈسٹری کا آغاز تقریبا بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔ اس کا مقصد ایسی پراڈکٹس تیار کرنا تھا کہ جنہیں استعمال کر کے لوگ زیادہ خوبصورت لگیں۔ فی زمانہ عورتوں میں اس انڈسٹری کی مقبولیت کی وجہ سے یہ ایک بہت بڑی گلوبل انڈسٹری بن چکی ہے۔ 2014ء میں اس انڈسٹری کی مالیت 460 بلین ڈالرز تھی۔ اور ایرانی خواتین بیوٹی پراڈکٹس کے استعمال میں دنیا میں ساتویں نمبر پر ہیں اور سعودی خواتین ان سے دو ہاتھ آگے ہی ہیں۔ یہ تو مولویوں کی بیویوں کا حال ہے۔

اس انڈسٹری کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پراڈکٹس، سکن کیئر سے متعلق ہیں۔ اس کے بعد بالوں کی کیئر کی پراڈکٹس اور اس کے بعد میک اپ اور اس کے بعد پروفیومز کا استعمال ہوتا ہے۔ اس انڈسٹری میں بیوٹی کریم سے لے کر کاسمیٹکس سرجری تک خوبصورت بننے کی لاکھوں پراڈکٹس موجود ہیں۔ اب تو خوبصورت بننے کے لیے وٹامن ای کے کیپسول بھی آپ کو کاسمیٹکس اسٹورز پر مل جاتے ہیں۔ اگر بازار میں چائنہ کی اسکن ملنا شروع ہو جائے تو یقین مانیے کہ سال کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی پراڈکٹ بن جائے۔

میک اپ کی نہ معلوم ہزاروں صورتیں اور درجات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک منرل میک اپ کہلاتا ہے۔ میں تو اسے پینٹ میک اپ کہتا ہوں کہ آپ کا چہرہ جیسا بھی ہو، ایسے پینٹ ہو جاتا ہے جیسے گھر کی دیوار۔ اخبار میں یا کہیں اور سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ سنا تھا کہ ایک سعودی شہزادہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ساحل سمندر پر گیا تو سوئمنگ کی وجہ سے جب بیگم کا میک اپ اتر گیا تو اس نے کھڑے کھڑے اسے طلاق دے دی۔ ایسی خوبصورتی کا کیا فائدہ کہ چہرہ دھونے کے بعد وہ آپ کی نہیں رہی، چاہے آپ نے برائیڈل میک اپ دو لاکھ کا کروایا تھا۔ اب دولہن باجی بس شادی کی تصویریں دیکھ دیکھ کر خوش ہوں کہ وہ کتنی پیاری لگ رہی تھی۔ اتنا جھوٹا اطمینان اور اتنی جھوٹی خوشی!

خیر یہ تو ایک لطیفہ تھا لیکن ایک ویڈیو شیئر کر رہا ہوں کہ جس میں ایک بہت ہی معمولی چہرے کا لڑکا میک اپ کے ذریعے اسے کیسے پینٹ کرتا ہے، اس کا مظاہرہ ہے۔

اور رہی عورتیں تو اللہ کی پناہ، کیا کچھ نہیں کر رہی ہیں۔ ایسے چہرے کا کیا فائدہ کہ جو آپ کا اپنا نہیں ہے۔ کسی حد تک عورتوں کا یہ نفسیاتی مسئلہ ہے کہ وہ خوبصورت نظر آئیں لیکن اتنا بھی کیا پاگل پن کہ ہر لڑکی مس ورلڈ نظر آنے کے چکر میں ہے۔ اور تماشا تو یہ ہے کہ اس انڈسٹری نے افریقن لڑکی کو بھی یقین کروا دیا ہے کہ ان کی بیوٹی کریم استعمال کرنے سے وہ بھی گوری ہو جائے گی۔

کیا کریں میک اپ انڈسٹری نے یہ بھی معروف کر رکھا ہے کہ میک اپ کرنے سے عورتوں کی اینگزائٹی دور ہوتی ہے حالانکہ ریسرچ اس کے بالکل خلاف کہتی ہے۔ عورت اپنے سادہ حلیے میں زیادہ خوبصورت لگتی ہے یا میک اپ میں، یہ فیصلہ ہمیشہ اختلافی رہے گا۔ عورتیں اپنے میک اپ اور بننے سنورنے پر اتنا پیسہ برباد کر رہی ہیں کہ کوئی حساب نہیں۔ اور وہ بھی شوہر کے لیے نہیں بلکہ دوسری عورتوں میں نمایاں ہونے کے لیے، شوہر بے چارے کو تو وہ سادی زیادہ بھلی لگتی ہے کہ اسی میں اس کا خرچہ کم ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں