تجدد اور قدامت پسندی کی موضوعی جہات - سید متین احمد

ہم بعض اوقات کسی شخص کو تجدد پسند یا قدامت پسند کہتے ہیں، تو اصل میں منطق کی اصطلاح میں یہ دونوں باتیں ’کلی مشکک‘ ہیں۔ کلی مشکک وہ عمومی مفہوم ہوتا ہے جس کا اطلاق بعض افراد پر زیادہ قوت کے ساتھ ہو اور بعض پر کم قوت کے ساتھ؛ جیسے سفیدی کے مفہوم کا اطلاق برف پر زیادہ ہوتا ہے اور بعض دیگر سفید چیزوں پر اس کے مقابلے میں نسبتاً کم؛ اسی طرح تجدد پسند ی یا قدامت پرستی بھی ’کلی مشکک‘ کا مفہوم رکھتے ہیں۔

بہت سے علما جن کو قدامت پسند کہا جاتا ہے ان میں آپس میں بعض چیزوں پر علمی اختلاف کی وجہ سے ان میں قدامت پسند اور جدت پسند کے دھڑے بن جاتے ہیں۔ مثلا ہمارے ہاں اسلامی بینکنگ کے قائل اور قائل نہ ہونے والے بہت سے علما اصلاً قدامت پسند سمجھے جاتے ہیں لیکن یہاں پھر ان دونوں گروہوں میں سے اس کے قائل نہ ہونے والے، قائل ہونے والوں کو جدت پسند اور جدیدیت سے متاثر کہتے ہیں۔ اب اسلامی بینکنگ کا قائل نہ ہونے والوں کو مسئلہ جہاد کے تناظر میں دیکھیے تو بعض لوگ کسی ریاستی سرپرستی سے آزاد ہو کر انفرادی جتھہ بندی کے ذریعے جہاد کو مشروع عمل سمجھتے ہیں، جب کہ انھیں لوگوں میں سے بعض اس عمل کو درست نہیں سمجھتے ہیں۔ اب یہ طبقہ بینکنگ کے معاملے میں قدامت کہلاتا تھا، یہاں آکر انفرادی جہاد کرنے والوں کے ہاں یہ ’جمہوریت کے کافرانہ نظام‘ کا کل پرزہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر سماجی مسائل کو دیکھا جائے تو زاویۂ نظر کے اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کو قدامت پسند اور جدت پسند سمجھا جاتا ہے جو کہ حقیقت میں ایک موضوعی اور ذاتی پسند ناپسند اور فہم پر مبنی تقسیم ہے۔ محترم مولانا تقی عثمانی صاحب پر بینکنگ کے مسئلے پر بعض لوگ انھیں جدت پسند سمجھتے ہیں (جیسا کہ ماہنامہ ساحل کی بعض تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے) لیکن مولانا ایک بڑے حلقے کے ہاں جدت پسندی کے ناقد اور اکابر کے طرز پر سمجھے جاتے ہیں۔ مولانا نے ’اسلام اور سیاسی نظریات‘ کتاب لکھی تو ایک طبقے کو ایک آنکھ نہ بہائی کہ اس میں جمہوریت جیسی ’چیز‘ کے لیے نرم گوشہ اختیار کیا گیا ہے اور اس کے جواب میں ’مجھے ہے حکم اذاں ‘ لکھ دی گئی اور اس میں نہایت سخت زبان بھی استعمال کی گئی، لیکن ’اسلام اور ریاست ایک جوابی بیانیہ ‘ میں مولانا کا موقف روایتی سمجھا جاتا ہے ۔ محترم مشتاق احمد صاحب غامدی صاحب جیسے مفکرین کے ناقدین میں سے ہیں، لیکن جہاد کے بارے میں ان کے افکار پر ماہ نامہ الشریعہ کے بعض لکھنے والوں کو ان کے تصورات میں جدت پسندی نظر آئی، وغیرہ۔ اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

اس لیے قدامت پسندی اور جدت پسندی کے دائروں کے تعین کی ضرورت ہے کہ کون کون سی چیزیں بالاتفاق قدامت پسندی کے زمرے میں آتی ہیں اور کون سی چیزیں بالاتفاق جدت پسندی کے زمرے میں اور اس تعین کے اصول کیا ہیں؟ نیز قدامت پسندی اور جدت پسندی کے جو ’مجتہد فیہ‘ ایریاز ہیں، وہ کیا ہیں اور کیوں ہیں؟ اور پھر اس کے ساتھ فکری اور اخلاقی پہلو سے بھی قدامت پسند اور جدت پسند کی تحدید ضروری ہے ؛ ممکن ہے ایک آدمی فکری لحاظ سے قدامت پسند ہو، لیکن اپنی عملی اور اخلاقی زندگی میں ویسا ہی حریص، دنیا دار اور عاجلہ پسند ہو جیسے ایک سرمایہ دار اخلاق کا انسان ہوتا ہے، اور ایک انسان فکری لحاظ سے جدت پسند ہو ، لیکن اپنی عملی زندگی میں درویشانہ صفات کا حامل ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان ایک بہت پیچیدہ وجود ہے اور اپنی ذات میں کئی شخصیتوں کا مجموعہ ہے جن کے صحیح تجزیے کے بغیر اسے کلی طور پر جدت پسند یا کلی طور پر قدامت پسند کے کھاتوں میں شمار کرنا بڑا مشکل عمل ہے۔