نوٹس، معطلی کے سوا کچھ نہیں ہوگا - محمد عمیر

حادثے یا سانحے سے بڑا سانحہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کچھ سبق حاصل نہ کیا جائے۔ غلطی ہونا اس بات کی سند ہے کہ آ پ کوشش کر رہے ہیں مگر ہر بار ایک ہی غلطی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہسپتالوں میں علاج معالجہ نہ ملنے سے ہلاکتیں، ٹرین حادثات، شہریوں کی پراسرار گمشدگی، انصاف میں تاخیر، پولیس گردی، یہ اب معمول کی بات بن گئی ہے۔ ان پر نہ تو ادارے حرکت میں آتے نہ حکمرانوں کو شرم و حیا آتی۔

قوم پر ایسے ایسے سانحے گزر گئے کہ اب علاج معالجہ کی سہولت کا نہ ملنا، دھماکے میں ایک دو افراد کی ہلاکت، شہریوں پر جھوٹے مقدمات خبرنہیں بنتے۔ خبر تب بنتی ہے جب علاج معالجہ نہ ملنے سے کسی کی موت ہوجائے، ہلاکتوں کی تعداد 10سے بڑھ جائے، جھوٹے مقدمے اور تشدد سے کسی کی ہلاکت ہوجائے۔ ہم وہ غلام بنتے جارہے ہیں جن کو زنجیروں سے پیار ہوگیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے رہنما کرپٹ ہیں، قبضہ مافیا کے سرپرست ہیں، ڈاکوؤں چوروں کے محافظ ہیں، ہم انھی کو ووٹ دیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ موجودہ نظام میں ڈلیور کرنے کی سہولت نہیں ہے، ہم نظام کو تبدیل کرنے یا نظام میں تبدیلیاں لانے کی بات نہیں کرتے۔

سانحہ ڈھاکہ ہماری مختصر تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ مگر ہم نے اس سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔ سانحہ ڈھاکہ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کو ختم کیا جاتا مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بلوچستان کے لوگوں میں آج اسی احساس محرومی کا شکار ہیں جس کے تحت مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا۔سی پیک کے تحت لاہور میں اورنج ٹرین پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں مگر گوادر میں آج بھی پینے کا پانی میسر نہیں اور اگلے دو سال تک اس کی امید بھی نہیں۔ بلوچستان میں لاوارث نعشیں ملنا معمول کی بات ہے۔ پہلے ایک لاوارث نعش کا ملنا خبر ہوتا تھا، اب صرف سالانہ رپورٹ آتی ہے کہ اس سال اتنے سو لاوارث نعشیں ملی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کو غنیمت جانیے - سعید الرحمٰن

دو ماہ قبل کراچی کے لانڈھی ریلوے سٹیشن کے قریب زکریا ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کے ٹکرانے سے 21 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے تھے۔ ورثاء کو پیسے، چند افسران کو معطل اور وزیر ریلوے کو کوسنے کے بعد یہ معاملہ دب گیا کہ چند روز قبل لودھراں میں ٹرین کی ٹکر سے ماؤں کے 6 لخت جگر جان کی بازی ہارگئے. اس حادثے پر بھی وہی ہوا جو پہلے ہوا تھا۔ اظہار افسوس کے بیان، معطلیاں، ورثاء کو رقم کی ادائیگی اور کام ختم۔ ٹرینوں کے حادثات کی بڑی وجہ ناقص حفاظتی انتظامات اور شکستہ بنیادی ڈھانچہ ہے مگر ہم اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ اس کے لیے سنجیدگی اور وقت درکار ہے اور ہمارے پاس دونوں چیزیں نہیں۔

جناح ہسپتال میں علاج معالجہ نہ ملنے سے معمر خاتون دم توڑ گئی ۔حکومت نے اس پر ایم ایس سمیت 4 ڈاکٹرز معطل کیے، اور مرحومہ کے اہل خانہ کو عوام کے ٹیکس سے چند لاکھ روپے دے کر جان چھڑوالی۔ مستقبل میں ایسے حادثے پر بھی ایسا ہی طرز تغافل برتا جائے گا مگر ہسپتال میں بیڈز کی تعداد اور ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے کی غلطی نہیں کی جائے گی، کیونکہ سب کو علاج معالجہ ملنے لگ گیا، تھانوں میں انصاف کا حصول ممکن ہوگیا، تعلیم عام ہوگئی، ہر شخص پڑھا لکھا ہوگیا، نظام ٹھیک ہوگیا، تو ہمارے حکمران کیا کریں گے؟ وہ کس چیز کا نوٹس لیں گے؟ اب تو ان کی سفارش سے تھانے میں انصاف ملتا، ہسپتال میں بیڈ ملتا، کالج یونیورسٹی میں داخلہ ملتا ہے، سرکاری ادارے میں میرٹ کے بغیر نوکری ملتی ہے۔ جب سب کچھ ٹھیک ہوجائےگا تو پھر ایم این اے کے کہنے پر عام شہری پر تھانے میں تشدد نہیں ہوگا، ہسپتال میں ہر کسی کو علاج معالجہ ملے گا، نوکری اور داخلہ میرٹ پر ملے گا۔ اس لیے سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ صرف افسوس ہوگا، نوٹس ہوگا، معطلی ہوگی، اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

ٹیگز