پاکستان کے مسائل کا حل، جمہوریت یا خلافت - مبارک حسین انجم

ایک مدت سے ہمارے دیس میں جمہوریت اور خلافت کے حوالہ سے گفتگو ہوتی رہتی ہے. ہماری اکثریت جمہوریت کے بارے میں تو بہت کچھ جانتی ہے مگر خلافت کے بارے میں ہماری اکثریتی آبادی کچھ خاص نہیں جانتی، اس سے فائدہ اٹھا کر بہت ساری خلافت کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں، کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت کا حصول بزور جنگ ہی ممکن ہے اس لیے وہ عسکریت پسندی کی طرف مائل ہیں، کچھ مفاد پرست اپنے مفاد کے لیے لوگوں کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہویے ان کو عسکریت پہ اکسا کر اپنے مفاد بھی حاصل کرتے ہیں، اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ سمجھ رہا ہے کہ دین میں پاکستان کی سیاسی حالت کو سدھارنے کا کوئی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اس لیے کچھ نئے اجتہاد کیے جائیں، اور اس خیال کو مشتشرقین بھی بھر پور ہوا دیتے ہیں. اس سارے سلسلہ کو ہمارے علمائے کرام زیادہ اہمیت نہیں دیتے، جس کی وجہ سے دیندار طبقہ کی ایک کثیر تعداد جمہوری نظام کی سیاست کو گناہ کبیرہ سمجھ کر سیاست سے کنارہ کش ہے.

مسلسل مطالعے کے بعد مجھے شدت سے اس ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں کچھ باقاعدہ وضاحت دی جائے جس سے اسلامی نظام حکومت کے حوالے سے اٹھنے والے ہر سوال کا جواب مل سکے. نظام خلافت، کوئی ایسا عجوبہ ہر گز نہیں ہے جو عام انسان کی سمجھ میں نہ آ سکے. یہ نظام درحقیت صدارتی جمہوری نظام سے بہت قریب ہے، بلکہ ہم یوں کہیں کہ صدارتی جمہوری نظام درحیقت نظم خلافت کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا. اس نظام میں ایک مرکزی ایوان ہوتا ہے، جسے آ پ سینٹ، یا شوری، یا قومی اسمبلی بھی کہہ سکتے ہیں، اس ایوان کے ممبر کے لیے ہر ضلع اپنا ایک نمائندہ بھیجتا ہے، اور یہ نمائندہ اس ضلع یا علاقہ کی اکثریتی آبادی کا قابل اعتماد اور اہل ترین فرد ہوتا ہے، اسی طرح ملک بھر کے تمام اضلاع سے ایک ایک ممبر اس اسمبلی کا حصہ بن جاتا ہے، یہ ساری اسمبلی باھم مشاورت سے بھرپور جانچ پڑتال کر کے ملک کی قیادت کے لیے کچھ افراد کو نامزد کرتی ہے، اور ان نامزد افراد کے ناموں کی تشہر پورے ملک میں کر دی جاتی ہے، اور ملک ک ہر عاقل و بالغ شہری، کے سامنے یہ تجویز رکھ دی جاتی ہے کہ اسمبلی نے ان پانچ یا دس یا جتنے بھی افراد طے کیے گئے ہوں، ان افراد کو حاکم، خلیفہ یا صدر، کے لیے اہل ترین پایا ہے. اب یہ عوام الناس کی مرضی پہ منحصر ہے کہ وہ ان نامزد افراد میں سے کسی کے حق میں اپنی بیعت (ووٹ) دے یا کسی دیگر فرد کو ملک کی قیادت کا زیادہ اہل سمجھتے ہوئے اس کے حق میں اپنی رائے کا حق استعمال کر دے.. اور اس طرح جس کے حق میں سب سے زیادہ رائے ملے، اس کو قیادت سونپ کر اسک ا اتباع کیا جائے.

یہ بھی پڑھیں:   خورشید ندیم صاحب اور حسن ظن کی تکرار - ابو انصار علی

حکمران بننے والے فرد کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی عاملہ کمیٹی (کابینہ) خود منتخب کرے، یہ منتخب صدر، اور اس کی ساری کابینہ، اس مرکزی شوریٰ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے، اور دوسری طرف اعلی عدلیہ بھی کوئی کیس بننے کے صورت میں اس سے جواب طلبی کا اختیار رکھتی ہے.خلافت میں صوبائی اسمبلیاں نہیں ہوتیں بلکہ مقامی حکومتیں ہوتی ہیں، یہ مقامی حکومتیں، مرکزی شوریٰ کی مشاورت سے صدر مملکت، علاقہ کی کیفیت کے مطابق طے کرتے ہیں، جن علاقوں میں حالات نارمل ہوں، وہاں مقامی آبادی کو ہی یہ موقع دیا جاتا ہے کہ اپنا مقامی حاکم، ڈی سی، یا مئیر، ضلع ناظم، منتحب کریں، اور جہاں ضرورت سمجھیں وہاں مرکزی حکومت اپنا نمائندہ حاکم کے طور پہ بھیج سکتی ہے.

یہ ہے وہ خلافت جو چاروں خلفائے راشدین کے مجموعی ادوار کا مطالعہ کرنے سے سامنے آتی ہے، اس کی مزید جزئیات بھی ہیں، مگر وہ الگ سے ایک مکمل کتابچہ ہیں، اس لیے وہ کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں.

اب ہم بات کرتے ہیں پاکستان کی. پاکستان میں جمہوریت پارلیمانی طرز پر ہے، لیکن دستور، قراداد مقاصد اور تہتر کے آئین کے تحت، اس جمہوریت کو بھی بڑی حد تک محض جمہوریت سے بدل کر اسلامی جمہوریت یعنی خلافت سے قریب تر کر دیا گیا ہے. اس میں بھی کوئی فرد خود اپنے آپ کو نامزد نہیں کر سکتا، بلکہ قانونی طور پہ الیکشن کمیشن میں کوئی دوسرا فرد ہی اس کا نام پیش کرسکتا ہے اور ایک تیسرا فرد اس کی تائید بھی کرتا ہے، اسی طرح ایک مرکزی اسمبلی بھی ہے، صوبائی اسمبلیاں بھی، اور ان کے ممبران کے لیے قواعد و ضوابط بھی مکمل طرح سے طے ہیں. یہاں خرابی یہ ہے کہ ایک تو پارٹی سسٹم رائج ہے، دوسرا صالح ایماندار اور امین افراد کے بجائے مالدار، مفاد پرست اور طاقتور افراد منتخب ہوتے ہیں، جو بہت سارے ضابطوں اور قوانین کو اپنی طاقت اور دولت کے بل بوتے پہ نافذ العمل ہی نہیں ہونے دیتے. آئین کی بعض دفعات، جیسے دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ جیسی شقیں بالکل ہی اگنور کر دی جاتی ہیں، اور عام عوام بھی اپنے ذاتی مفاد یا برادری ازم کی بنیاد پر، امیدوار کے کردار کو اہمیت بالکل نہیں دیتی. اس کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے جو آج سب کے سامنے ہے.

یہ بھی پڑھیں:   حُسنِ تعبیر - مفتی منیب الرحمٰن

اگر ہم لوگ خلوص دل سے پاکستان کی حالت سدھارنا چاہیں، اور نظام خلافت رائج کرنا چاہیں تو اس کے لیے کسی نئے اجتہاد کی ضرورت ہے نہ کسی جنگ اور قتال کی، بلکہ اس کے لیے سب سے آسان، اور مؤثر طریقہ یہی ہے کہ اسی آئین کی حدود میں رہتے ہوئے، عوام الناس میں شعور بیدار کیا جائے، مسلمان کو مسلمان کے حقیقی کردار کی پہچان کروائی جائے، اور فرد کی کردار سازی کی جائے، اور پھر عوام کی مدد سے اسمبلیوں میں اقتدار ایسے صالح، ایماندار اور دیانتدار افراد کو سونپا جائے، جدید علوم میں دسترس کے ساتھ نظام اسلام کو بھی بخوبی سمجھنے والے ہوں، پھر وہ لوگ ایوان میں قانون سازی کے ذریعہ سے، سارے نظام کو درست کر دیں، ملک میں قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں، اور اس موجودہ بگڑی ہوئی جمہوریت کو حقیقی اسلامی جمہوریت میں تبدیل کر دیں. یہ بے شک دنوں کا کام نہیں ہے، اس میں مدت بھی لگ سکتی ہے، مگر یہی ایک واحد طریقہ ہے جواس ملک پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بنا سکتا ہے.