منشیات کا استعمال؛ اک تباہ کن روش - سائرہ فاروق

ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے ایک اسائنمنٹ ملی تھی جس کے لیے ہمیں لاہور شہر کے اہم تاریخی مقامات پر ڈاکومنٹری بنانی تھی، یہ ایک دو روزہ ٹرپ تھا، علی الصبح ہماری بس مین کیمپس سے نکلی. یہ ایک سرد ترین دن تھا. جنوری کے اوائل میں ویسے بھی ہمارے علاقوں میں دھند اور تھنڈ کا راج ہوتا ہے.

ہماری بس نے شاہراہ ریشم سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور آدھے گھنٹے میں ہم ایبٹ آباد پہنچ گئے.گہرے، سبز رنگ کے قدآور گھنے شاداب درختوں اور بلند و بالا پہاڑوں میں گھری زگ زیگ شاہراہ ریشم، ہماری سانس روک رہی تھی، شدید کہر میں سورج کی رو پہلی کرنیں پھوٹیں تو اردگرد کے مناظر پر دبیز سوئی سوئی تاریکیاں انگڑائیاں لے کے جاگنے لگیں. ہری پور سے آگے کا سفر خوشگوار محسوس ہوا کیونکہ میدانی علاقوں میں موسم اتنا شدید نہیں ہوتا. سفر بلاشبہ طویل اور تھکا دینے والا ضرور تھا مگر جونہی میری نگاہ مینارِ پاکستان پر پڑی تو بچپن سے ایم ایس سی تک پڑھے تمام اسباق اور ان میں مینارِ پاکستان سے جڑی کہانی اپنے متن کے ساتھ یاد آنے لگے.

23 مارچ 1940ء منٹو پارک میں تاریخی قرارداد، جسے شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کیا، مسلمانانِ ہند کا خواب، ایک آزاد اسلامی و فلاحی ریاست کا قیام، جس میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے مکمل شخصی آزادی کے ساتھ سانس لے سکیں، جہاں مذہبی رسوم کی ادائیگی بلاخوف و خطر انجام دی جائے جہاں بنیادی حقوق سب کے لیے برابر ہوں، جہاں ترقی اور وسائل سب کی پہنچ میں ہوں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو، 73سال پہلے دیکھا گیا خواب ایک مجسم صورت میں آج بھی 203 فٹ کے اس مینار کی شکل میں لاہور کی زمین پر آج بھی پوری آب وتاب سے کھڑا ہے. مگر جب اس پر اٹھی نگاہ اس کے قرب و جوار پر پڑی تو پتھر کی ہوگئی. ایک چونکا دینے والا منظر رونگٹے کھڑے کر گیا. اس مینار کی عظمت تلے ہماری نوجوان نسل کسی چرمر پتے کی طرح، بکھرے بکھرے، نشے کی لت میں ڈوبے، غربت و افلاس کا پیکر، اس خواب سے بیگانہ نظر آئے جس کی وجہ سے یہ ملک اور مینار نشانی کے طور پر قائم کیا گیا.

ہم جہاں بھی گئے، میری توجہ ڈاکومنٹری سے زیادہ ان نشے کے عادی نوجوانوں پر جا کے رک جاتی، اک تاسف جو دل سے نکل نہیں رہا تھا، مسلسل مضمحل کرنے لگا. ان نوجوانوں کی اکثریت مینار پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں واضح اور سر عام دیکھی جا سکتی ہے، اور ایسے مقامات جو ٹورسٹ پوائنٹ ہیں، سرعام نشہ میں دھت پڑے یہ نوجوان نظر میں آئیں گے اور انھیں روکنے ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں. ہم اپنے وطن کا چہرہ ایسے مقامات پر عریاں کر رہے ہیں جہاں پر باہر سے آنے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہوتا ہے. کیا امپریشن پڑتا ہوگا جب غیرملکی ٹورسٹ بادشاہی مسجد، لاہور فورٹ، داتا دربار کے باہر پاکستان کی نئی نسل کو دنیا و مافیہا سے بیگانہ، ہپی بنے مدہوش، دیوار سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند، لڑکھڑاتے وجود کے ساتھ کسمپرسی کی حالت میں دیکھتے ہوں گے.. یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آ جاتی ہے.

ملکی آبادی میں نوجوانوں کی آبادی کے حوالے سے پاکستان اقوام متحدہ کی مقرر کردہ Age group کے مطابق دنیا میں 15ویں نمبر پر ہے، اور ملک کی 21 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ آبادی کا یہ حصہ نشے کی لت کا شکار ہوتا جارہا ہے. جوانوں میں فروغ پانے والی منشیات میں گٹکا، نسوار، سگریٹ، شیشہ وغیرہ سرعام استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو نہ صرف ان کی صحت پر مہلک اثرات ڈال رہا ہے، بلکہ ان کی ذہنی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، اور پھر یہ نوجوان منفی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لینے لگتے ہیں، جو مزید بربادی کی طرف لے کے جاتی ہے. تعلیم سے عدم دلچسپی بالآخر انھیں بے روزگاری جیسے عفریت کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتی. یہ کم پڑھے لکھے، غیر تربیت یافتہ، منفی صلاحیتوں کے حامل نوجوان ملکی، معاشی ترقی میں کوئی فعال کام سرانجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں، اور انھی منفی ذہنی رجحان کے ساتھ یہ تخریب کاروں کا آلہ بن کر اپنے ساتھ ساتھ ملک و قوم کا بھی نقصان کرتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ نوشی ایک زہرِ قاتل - نعیم الرحمٰن

نشے کی عادت ان نوجوانوں کو جس چیز کی طرف سب سے پہلے راغب کرتی ہے، وہ ہے جھوٹ؛ نشہ انھیں سب سے پہلے جھوٹ بولنا سکھاتا ہے. یہ اپنے ہی والدین کے لیے آزمائش بننے لگتے ہیں اور پھر اگلا قدم اک نشئی کے لیے چوری ہوتا ہے، یہ شروعات گھر سے کرتے ہیں، اور پھر اس کا سلسلہ گھر کی دہلیز عبور کرواتا ہے، ایسے اقدامات والدین کے لیے ذلت کا سامان پیدا کرتے ہیں، اگر پکڑے جائیں تو تھانے کچہری کے چکر میں ان کے والدین ادھ موئے ہو جاتے ہیں. والدین کی مسلسل سرزنش، محلے والوں کی لعن طعن انھیں بالآخر گھر چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جو بے بس والدین کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ہوتا ہے.

پاکستان کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ age group کے حوالے سے پاکستانی نوجوان 5ویں بڑی تعداد کا مالک، ملک ہے، چنانچہ اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں نوجوان ایک قیمتی اثاثہ ہیں، معاشی ترقی میں ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی تعداد ہی افرادی قوت کی صورت میں ملکی معیشت کو بام عروج دے سکتی ہے، مسابقت کے اس دور میں نوجوان تعلیمی اور فنی تعلیم کے زیور سے جتنا آراستہ ہوں گے، اتنا ہی ملکی ترقی کے پہیے کو رواں دواں رکھیں گے. لیکن بدقسمتی سے ہمارا نوجوان آنکھ کھولتے ہی غربت، معاشی ناہمواری، گھر میں باپ کے ہاتھوں ماں کا استحصال، چھوٹی چھوٹی ناآسودہ خواہشیں، سکون کی کمی، ڈر خوف کا ماحول، اندرونی و بیرونی دباؤ اور غم. دنیا سے نجات دہندہ صرف نشے کو سمجھتے ہیں. وہ اپنے تشنہ خوابوں کی پیاس شراب، افیون وغیرہ سے بجھاتے ہیں، کچھ عارضی پل ہی سہی مگر؛ وہ چند لمحے ان کی زندگی کا سکون ہوتے ہیں اور اس سکون کے متلاشی کبھی اس علت سے نہیں نکل سکتے.

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ نوشی ایک زہرِ قاتل - نعیم الرحمٰن

منشیات کی اس تباہ کن روش سے روک تھام کا آغاز تو سب سے پہلے گھر سے ہونا چاہیے کیونکہ ان خام ذہنوں کو سکون کے دو پل میسر نہیں آئیں گے تو پھر وہ اس کے لیے دہلیز کے باہر پناہ گاہیں ڈھونڈیں گے. والدین بن جانا ہی کمال نہیں بلکہ والدین ہونے کا احساس ہونا بھی ضروری ہے، آپ اس بچے کے ہر طرح سے ذمہ دار ہیں تو اپنی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ آپ خود بھی نشے سے دور رہیں، اور بچوں پر بھی نظر رکھیں.

نشہ کے نقصانات سے آگاہی کے لیے تعلیمی ادارے، مدرسے، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے. علماء حضرات جمعہ کے خطبوں کے ذریعے نشے کی حرمت سے متعلق قرآنی آیات و احادیث عوام تک پہنچائیں تاکہ اس کے مضر اثرات اور منفی پہلوؤں سے نوجوان آگاہ ہو سکیں، یہ کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے تاکہ وہ اپنے آپ کو سدھار کر معاشرے میں تعمیری کردار ادا کر سکیں.