سوشل میڈیا کے دانشور – محمود فیاض

۔
ایک فیس بکی دانشور اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا ہے؛
”میں دوسری دنیا کی مخلوق ہوں، اور تم سب نرے نکمے ہو، سمجھ نہیں آئی تو آگے شئیر کر دو.“
۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔
دو منٹ بعد ۔ ۔
بھیڑ نمبر ایک: ”کیا بات ہے استاد جی.“
بھیڑ نمبر دو: واہ سر مزہ آ گیا.
بھیڑ نمبر تین: کیا آئیڈیا ہے جناب، کمال کی سوچ۔
مصروف ویلا (بغیر پڑھے): ”لولز ۔ ۔ لولز“
توجّہ کی طالب: ”آپ تو کمال ہو جی.“
توجہ کا دریا: توجہ کی طالب! آپ خود کمال ہو جی۔ ان باکس چیک کریں.
ٹوپی ڈرامہ: سر جی ! اینج نئیں۔ ۔۔ نکمے کا نام تو بتائیں.
مصروف ویلا : اؤے ٹوپی ڈرامے، یہ تم نے مجھے کہا ہے ناں.
ٹوپی ڈرامہ: بسم اللہ جی! کہا تو نہیں تھا، پر کمپنی کی مشہوری کے لیے آپ رکھ لو۔
(اگلے دو گھنٹے مصروف ویلا اور ٹوپی ڈرامے کی بک بک )

فیس بکی دانشور: دوسری دنیا کہنا غلط ہے، دنیاؤں کی صحیح تعداد میرے سوا کسی کو نہیں پتہ۔
بھیڑ نمبر چار: اخیر بات.
بھیڑ نمبر پانچ: لالے دی جان، ایناں زبردست خیال.
خوامخواہ: اگر آپ نے لوگوں کو نکما کہا ہے، تو میں لوگ ہوں۔ اور اگر آپ نے مجھے نکما کہا ہے تو آپ کی کیا اوقات ہے؟
حق پرست: مخلوق خدا کی بنائی ہوئی ہے، آپ خدا کی تخلیق کی توہین کر رہے ہیں۔
پوسٹر: مگر میں نے تو یہ کہنے کی کوشش ۔۔
حق پرست: وہ سب رہنے دیں، پہلے دین کو سمجھیں، خدا سے معافی مانگیں، اور داڑھی رکھ لیں۔ پھر بات کریں۔
جلتا کوئلہ: آپ کی کوئی کل سیدھی بھی ہے۔ کل آپ نے خود کو بادشاہ لکھا، میں پی گیا۔ اب یہ ۔ ۔ ۔ آپ راہ سے بھٹک گئے ہیں۔
بھیڑ نمبر چھ: ہتھ ہولا رکھیں، خادم بھی مخلوق ہی میں شامل ہے۔
توہین دار: یہ کلام الہی کی تو ہین ہے۔ قرآن مخلوق ہے۔ آپ مخلوق کیسے ہو سکتے ہیں۔
واعظ : لیکن خدا خود کہتا ہے ہم سب مخلوق ہیں۔
توہین دار: آپ جیسے لوگ تب بھی نہیں مانتے تھے۔ بس دلیلیں دیتے رہتے تھے۔
دیسی لبرل: مخلوق اور خالق ، کھانے کا چکر ہے سب۔ واعظ جی! آپ لکیر کے فقیر ہو۔
( اگلے تین گھنٹے دیسی لبرل اور واعظ کی بحث)

(نوٹ: یہ ایک پرانی تحریر ہے۔ اب میں نے برداشت کرنا سیکھ لیا ہے)

محمود فیاض

محمود فیاض نے ٹاٹ اسکول سے انگلستان کی یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی، جس کا کریڈٹ وہ ماں باپ کے ہاتھوں پر محنت کی لکیروں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرے

Protected by WP Anti Spam