غائب نہیں، حاضر کیجیے - عاطف الیاس

پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا کے سیکولر اور لبرل مےخانوں میں، وہ عظیم ہنگامہ برپا ہے کہ تھوڑی سی پینے کا الزام بھی چھوٹا سا لگ رہا ہے۔ غضب خدا کا یک نہ شد چہار شد، وہ بھی اکٹھے۔ اوپر والوں کو بھی کچھ خیال کرنا چاہیے، اگر سارے اندر ہوں گے تو موچی کی دکان کون چلائے گا اور بھینسے کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ بھینسا بھی وہ جو بپھرا ہوا ہے۔ جس کے آگے اخلاق، مذہب اور روایات کا تذکرہ بین بجانے کے مترادف ہے۔

ہمارے ہاں اگر کوئی بندہ چار دن نظر نہ آئے تو معروف یہی ہے کہ ”غائب کردیا گیا ہے“۔ واللہ اعلم اس ”غائب“ کیے جانے میں کون سا علمِ کیمیا کا راز چھپا ہے کہ جس کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ ”سب اچھا“ کی رپورٹ ہی آئے گی لیکن بدلتا کچھ بھی نہیں۔ لیکن اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ان چاروں کے لاپتہ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جتنی لے دے ہوئی ہے، اس سے یہی بدگمانی پیدا ہورہی ہے کہ ہمارے ہاں ”غائب“ کیے جانے کی واردات شاید پہلی دفعہ ہوئی ہے۔ اس سے پہلے لوگ صرف ”حاضر“ کیے جاتے تھے۔ تو اطلاعا عرض ہے کہ یہاں ”غائب“ کیے جانے کی سب سے زیادہ شرح، مذہب پسندوں کی ہے، پھر بلوچوں اور کہیں آخر میں جا کر موچی اور بھینسے جیسے ”حیوانوں“ کا ذکر آتا ہے۔

بدقسمتی ملاحظہ کیجیے کہ لوگ یہاں دس دس سالوں سے غائب ہیں، لیکن کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ کوئی ذکر بھی نہیں کرتا۔ بقول فرنود عالم کہ کہیں ان کے ساتھ بریکٹ ہی نہ ہوجائیں۔ یہ کیسی انصاف پسندی ہے جو بریکٹ ہوجانے کی آڑ میں ناانصافی پر آمادہ ہے۔ ان بےچاروں کے بیوی بچے سڑکوں پر رُل رہے ہیں اور کوئی آسرا نہیں۔ لیکن راکھ میں دبی چنگاریوں کی طرف امید کا دامن، بے بس ہاتھوں سے تھامے وہ زندگی کی ڈور سے بندھے ہیں کہ شاید کسی دن اہلِ ستم ترس کھائیں اور رہائی کا پروانہ ہاتھ آئے۔ ذرا اس کرب کو محسوس کیجیے، گمان تو کیجیے، برسوں کوئی اپنا گھر نہ آئے تو کیا حال ہوتا ہے۔ اس لیے ذرا صبر کیجیے، ابھی تو صرف جمعے سے جمعے تک آٹھ دن بھی نہیں ہوئے۔

دوسرے جن لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے، اور قانون کی حکمرانی کی تکرار اتنے شدومد سے کررہے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ وہ پیدا بھی قانون کی حکمرانی کے نتیجے ہی میں ہوئے ہیں، ان سے دست بستہ عرض ہے کہ ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دیجیے اور وہ ساز بھی سنیے جو آپ نے اہلِ مذہب کے خلاف سوشل میڈیا پر بجائے تھے، عدالتیں لگی تھیں، پھانسیاں ہوئی تھیں، جملے تو کجا قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ کر پورے پورے دیوان کہے گئے تھے۔

خدا کے لیے اس منافقت کو نظریات کا نام نہ دیجیے۔ آپ کا مقدمہ اہلِ مذہب سے زیادہ مذہب کے خلاف ہے۔ اہلِ مذہب نے تو پھر یہ کَہہ دیا کہ یہ ظلم ہے۔ جو مجرم ہے اسے عدالت میں لائیے۔ آپ نے تو انگلی ہلانا بھی گوارا نہ کیا، بلکہ الٹا جواز گھڑتے رہے۔ تو پھر کم ظرف کون ہے؟ اہلِ مذہب یا آپ؟

پھر ایک صاحب عالمِ وجد میں لکھ چکے ہیں کہ کچھ دن رکھ کر چھوڑ دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو کیا یہ کھلا تضاد نہ ہوگا؟ وہ آئیں تو عمر بیت جائے، آپ جائیں تو ابھی کے ابھی۔ یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا کے مصداق اوپر والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ ان گھٹیا ذہنیت کے حامل لوگوں کو اس طرح ”غائب“ کرکے ہیرو بننے کا سامان کر رہے ہیں۔ اگر کرنا ہی ہے تو ان کے کرتوت لوگوں کے سامنے لائیے، موچی، بھینسے کے مواد کو عام کیجیے، پھر شاید آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے، قانون ان سے خود ہی نپٹ لے گا۔

ان بدبختوں نے بھی مذاق بنا رکھا ہے۔ جعلی آئی ڈیز اور بغیر شناخت کے اکاؤنٹس بنا بنا کر دین، اخلاق اور روایات کی ایسی ایسی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں کہ الامان! اگر کوئی ان کی دیوار پر جاکر حق بات بیان کرنے کی جسارت کرلے تو بلاک مارنے میں لمحہ نہیں لگاتے۔ ڈھیروں فیک آئی ڈیز الحادی نظریات کا پرچار دن رات کر رہی ہیں۔ کوئی روکنے والا نہیں۔ کوئی ان نوخیز نسلوں اور کچوں ذہنوں کو سمجھانے والا نہیں کہ یہ جو بکواس کر رہے ہیں، ان کا کوئی سرپیر نہیں۔ مگر کیا کیجیے کہ مذہب ریاست کا مسئلہ ہی نہیں، اس کا مسئلہ صرف ”لیکس“ ہیں۔

اگر اوپر والوں کو کچھ کرنا ہی ہے تو ان آئی ڈیز کو پبلک کیجیے، انھیں لوگوں کے سامنے لائیے اور ان کے کرتوت دکھائیے۔ ورنہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ جانے انجانے میں انھیں آگے بڑھنے کا راستہ دیا جا رہا ہے۔ کون جانے ڈرامے میں کس کس کا کردار ہو۔

بہرحال میرے خیال میں غائب جو بھی ہو، یہ ہر لحاظ سے ایک انسان کے پیدائشی حق کے خلاف ہے۔ ہر انسان کواپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہمارے ہاں اس غائب کیے جانے کی رسم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ سچ اور جھوٹ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے سب کے سامنے سزا دی جائے۔ یہ کیا کہ لوگ آسمان بھی سر پر اُٹھاتے رہیں اور جھوٹ سچ بھی پردے میں رہیں۔ اس لیے دست بستہ گذارش ہے کہ ”غائب“ نہیں ”حاضر“ کیجیے کہ یہی کھرے کھوٹے کو الگ کرنے کا نسخہ کیمیا ہے، باقی سب ہیر پھیر ہے۔

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!